عرب شہزادوں کے نام پر جعلی این او سیز، فرضی اسپیشل پاور آف اٹارنیز اور سرکاری دستاویزات کے ذریعے کروڑوں روپے مالیت کے مال مویشی خلیجی ممالک ایکسپورٹ کرنے کے تہلکہ خیز اسکینڈل میں اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔ ایف آئی اے کراچی میں بااثر سمجھے جانے والے ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز مہر کا اچانک تبادلہ بلوچستان کے ضلع سبی کردیا گیا ہے، جبکہ اینٹی کرپشن کورٹ نے مقدمے کے دو مرکزی ملزمان کی ضمانت منظور کرلی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس ہائی پروفائل کیس میں نہ صرف سات برس تک غیر معمولی تاخیر کی گئی بلکہ ایف آئی اے کے بعض افسران پر مبینہ طور پر جان بوجھ کر انکوائری کو سرد خانے کی نذر کرنے اور ملزمان کو فائدہ پہنچانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ انہی الزامات کے بعد ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی منتظر مہدی نے دو ڈپٹی ڈائریکٹرز اور دو انسپکٹرز کے کردار کی جانچ کا حکم دیا تھا۔
جمعہ کے روز ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی میں گزشتہ تین برس سے تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز مہر کو تبدیل کرکے بلوچستان سبی بھیج دیا گیا، جبکہ ان کی جگہ ڈپٹی ڈائریکٹر رابعہ قریشی کو تعینات کردیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تبادلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایف آئی اے کراچی کے اندر ایک مخصوص لابی کے اثر و رسوخ میں اضافے کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔
سات سال تک فائل دبی رہی
ذرائع کے مطابق انکوائری نمبر 21/2019 سات برس قبل شروع ہوئی، تاہم اسے مبینہ طور پر دانستہ طور پر آگے نہ بڑھایا گیا۔
رواں سال بالآخر مقدمہ درج ہونے کے بعد یہ معاملہ دوبارہ توجہ کا مرکز بن گیا۔ شکایات کے مطابق انکوائری کو ایف آئی اے کے بعض افسران نے مبینہ رشوت اور اثر و رسوخ کے ذریعے التوا میں رکھا۔
کارپوریٹ کرائم سرکل میں تعینات بعض اہم افسران بھی مبینہ طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر کے فیصلوں سے اختلاف کرتے رہے۔ اس معاملے میں زونل آفس کے ڈپٹی ڈائریکٹر کرائم سرفراز علی بھی تحقیقات کی زد میں آئے، جبکہ حیدرآباد زون میں تعینات ایس پی افسر وصی حیدر کو ان افسران کے کردار کی چھان بین سونپی گئی۔
ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے 31 جولائی 2013 کو پاکستان سے زندہ جانوروں کی برآمد پر پابندی عائد کی تھی، جسے ایکسپورٹ پالیسی آرڈر 2016 میں بھی برقرار رکھا گیا۔ اس کے باوجود جعلی این او سیز کے ذریعے پانچ ہزار زندہ جانور خلیجی ممالک بھجوائے گئے۔
تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ عبدالقیوم (مالک M/s AQ Enterprises) اور محمد جاوید (مالک M/s Jafni Enterprises) نے اُس وقت کے سیکشن آفیسر وزارت تجارت عمر سلیم بھٹی کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ کیا۔ اس نیٹ ورک نے دو جعلی این او سیز حاصل کیے، جن کے تحت ہر این او سی پر 2500 جانور ایکسپورٹ کیے گئے۔
ایف آئی اے کے مطابق خلیجی ممالک کے شہزادوں کے نام پر جعلی اسپیشل پاور آف اٹارنیز تیار کی گئیں تاکہ مال مویشیوں کی برآمد کو سفارتی استثنیٰ کا رنگ دیا جاسکے اور متعلقہ حکام کو گمراہ کیا جا سکے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ عمر سلیم بھٹی نے مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر جعلی آفس میمورنڈمز جاری کیے، جن میں آفس میمورنڈم نمبر 1(1)/2015-Exp-III مورخہ 11 ستمبر 2017 بھی شامل ہے۔
ایف آئی اے نے اینیمل کوارنٹائن ڈیپارٹمنٹ کے اُس وقت کے افسران ڈاکٹر اصغر ضیا اور ڈاکٹر محمد احمد کو بھی مقدمے میں نامزد کیا ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے این او سیز اور پاور آف اٹارنیز کی تصدیق کیے بغیر ہیلتھ سرٹیفکیٹس جاری کیے، جس کے نتیجے میں ہزاروں جانور بیرون ملک بھجوائے گئے۔
قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں
تحقیقات کے مطابق مقدمے میں نامزد امپورٹر کمپنیاں نام تبدیل کرکے آج بھی اسی مبینہ نیٹ ورک کے ذریعے کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس غیر قانونی برآمد کے نتیجے میں ملک بھر میں مویشیوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور مقامی مارکیٹ بری طرح متاثر ہوئی۔
سنگین دفعات کے تحت مقدمہ
ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 409، 420، 468، 471، 109 اور 34 کے علاوہ انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
مقدمے میں عبدالقیوم، محمد جاوید، ڈاکٹر محمد احمد، ڈاکٹر اصغر ضیا اور برطرف سابق سیکشن آفیسر عمر سلیم بھٹی نامزد ہیں، جبکہ وزارت تجارت، وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی، کسٹمز اور دیگر متعلقہ اداروں کے کردار کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔