Screenshot_2025_0709_042642

جامعہ کراچی میں وائس چانسلر کی تعیناتی کا معاملہ دلچسپ موڑ اختیار کر گیا ہے، جہاں ایک بااثر شخصیت کی اہلیہ کی انٹری نے پوری بساط ہی بدل کر رکھ دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس بھی شیخ الجامعہ کی تبدیلی کے ذریعے اپنے من پسند نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا، جبکہ پہلے سے مضبوط سمجھے جانے والے امیدوار اب سوالات اور ممکنہ تحقیقات کی زد میں آ چکے ہیں۔

سیکرٹری یونیورسٹی بورڈ اینڈ ایجوکیشن کی جانب سے نئے وائس چانسلر کی تعیناتی کے لیے باضابطہ اشتہار جاری کر دیا گیا ہے، جس میں پروفیسرز اور انتظامی عہدوں پر فائز افسران کے لیے علیحدہ علیحدہ اہلیت مقرر کی گئی ہے۔ امیدواروں کے لیے عمر کی بالائی حد 62 برس مقرر کیے جانے کے بعد کئی ممکنہ نام خود بخود دوڑ سے باہر ہو گئے ہیں۔

اشتہار کے اجرا کے ساتھ ہی طاقتور لابیز متحرک ہو چکی ہیں، اور مختلف اداروں میں اہم انتظامی عہدوں پر فائز ایک خاتون امیدوار کی شمولیت نے اس مقابلے کو انتہائی دلچسپ اور غیر متوقع بنا دیا ہے۔ اس پیش رفت نے جامعہ کراچی کی موجودہ انتظامیہ کے مضبوط امیدوار کی پوزیشن کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور موجودہ شیخ الجامعہ اپنے من پسند امیدوار کو شفاء پہچانے میں بھی ناکام ہوگئے ہیں، جبکہ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر قواعد و ضوابط کے برعکس کوئی تقرری عمل میں آئی تو نئی انتظامیہ کے قیام کے بعد بڑے پیمانے پر انکوائریاں شروع ہو سکتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق امیدواروں کی فہرست میں شامل ایک پروفیسر، جنہیں کراچی کی ایک بااثر سیاسی جماعت کی مبینہ حمایت حاصل تھی اور جو بعض اعلیٰ سرکاری افسران کے قریب سمجھے جاتے تھے، ان کی تمام تر کوششیں بھی دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔

دوسری جانب ایک سینئر ترین ڈین فیکلٹی بھی پسِ پردہ سرگرم ہیں اور پرو وائس چانسلر کے عہدے تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں، تاکہ اگر وائس چانسلر کی تعیناتی میں تاخیر ہو تو عبوری طور پر وہی اس منصب کا چارج سنبھال سکیں اور بعد ازاں مستقل تعیناتی کی راہ ہموار ہو سکے۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر کے لیے حتمی نام کا اعلان 26 جولائی سے قبل متوقع ہے، اور اس بار تقرری کے عمل کو نسبتاً شفاف بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ بعد ازاں کسی قسم کے تنازعات سے بچا جا سکے۔

مزید یہ کہ شیخ الجامعہ اور سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے اعلیٰ عہدوں کی مدت ملازمت تقریباً ایک ہی وقت میں ختم ہونے کے باعث وزیراعلیٰ ہاؤس ایک اہم نشست پر اپنے من پسند پروفیسر کی تعیناتی کا خواہاں تھا، تاہم مقتدر حلقوں کی مداخلت نے یہ منصوبہ ناکام بنا دیا۔ ذرائع کے مطابق اسی تناظر میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب سمجھے جانے والے ایک پروفیسر نے خود ہی ایک اہم عہدہ لینے سے انکار کر کے صورتحال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے