Screenshot_2026_0425_193702

ایف بی آر کے نظام میں اوور انوائسنگ کی سرپرستی کرنے والے افسران ،امپورثرز ،کاروباری افراد ،لیگل ایکسپرٹ ،ریٹائرڈ افسران کے خلاف بڑی کارروائی کا فیصلہ ،وزیر اعظم کی ہدایت پر اسٹیٹ بینک ،انٹیلی جنس بیورو ،ایف آئی اے ،ایف بی آر ،کسثم کے افسران پر مشتمل دو علیحدہ علیحدہ کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں ،ایک۔کمیٹی نے کام شروع کردیا ،ایف بی آر کے لیگل ڈپارٹمنٹ سے ہٹ کر کراچی اسلام آباد کے لئے پرائیوٹ وکلاء کی خدمات لی جائیں گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سولر پینلز کی اوور انوائسنگ اور منی لانڈرنگ کے سنگین اسکینڈل میں ملوث تمام افراد کے خلاف فوری اور جامع قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے، جس سے مالی بدعنوانی اور ادارہ جاتی غفلت کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا واضح اظہار ہوتا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے امور پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ 2017 سے 2022 تک یہ غیر قانونی اوور انوائسنگ اسکیم بلا روک ٹوک جاری رہی، جو متعدد ریگولیٹری اور نفاذی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس میں ملوث تمام افسران چاہے وہ براہ راست شامل ہوں یا غفلت کے مرتکب—کی فوری نشاندہی کر کے ان کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔

احتساب کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے وزیراعظم آفس نے دو اعلیٰ سطحی کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔ 22 اپریل 2026 کے سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی برائے تادیبی کارروائی متعلقہ اداروں کے افسران کے خلاف کارروائی کی نگرانی کرے گی، سپروائزری ذمہ داریوں کا تعین کرے گی اور انتظامی کوتاہیوں کے کیسز کا جائزہ لے گی۔ دوسری جانب "کمیٹی برائے نگرانی تحقیقات و استغاثہ” کو اسکینڈل سے جڑے تمام مقدمات کی تیز رفتار تحقیقات اور مؤثر پراسیکیوشن یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ دونوں کمیٹیاں باقاعدگی سے وزیراعظم آفس کو رپورٹس پیش کریں گی تاکہ اعلیٰ سطح پر مسلسل نگرانی برقرار رہے۔

کمیٹی کے ارکان میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نبیل اعوان (کنوینر)ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سلیم اللہ خان (رکن)ایڈیشنل سیکریٹری فنانس ڈویژن (انٹرنل فنانس/انویسٹمنٹ) راشد محمود (رکن)،ممبر ایڈمن ایف بی آر (رکن)ایڈیشنل ڈی جی ایڈمن ایف آئی اے (رکن)انٹیلی جنس بیورو کا نمائندہ (گریڈ 20 سے کم نہ ہو)شامل ہیں علاؤہ ازیں دیگر ارکان کنوینر کی نامزدگی سے تعینات کئے جائیں گے۔

اوور انوائسنگ سے جڑے ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کیسز کی تحقیقات اور مقدمات کی پیروی کے لیے ایک اور کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔

اس کمیٹی کی سربراہ ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن، پاکستان کسٹمز روباب سکندر (کنوینر)،چیف کلیکٹر انفورسمنٹ باسط مقصود عباسی (رکن)،ایڈیشنل ڈی جی اینٹی کرپشن ونگ ایف آئی اے محمد ادریس (رکن)،اینٹی منی لانڈرنگ کا نمائندہ جو کم از کم گریڈ 20 کا افسر ہو، انٹیلی جنس بیورو کا نمائندہ (جو گریڈ 20 سے کم نہ ہو)،ڈپٹی کمشنر اسلام آباد (رکن)دیگر نامزد ارکان اس کا حصہ ہوں گے۔

منی لانڈرنگ سے متعلق کیسز کی تحقیقات اور پراسیکیوشن میں معاونت،ملزمان کے خلاف بلا تاخیر قانونی کارروائی کو یقینی بنانا،کیسز کی پیش رفت کا جائزہ اور ہر پندرہ روز بعد رپورٹ وزیراعظم آفس کو ارسال کرنا،دیگر متعلقہ امور پر بھی غور کرنا ہے۔اس کمیٹی کا نوٹیفکیشن ایف بی آر جاری کرے گا جبکہ پاکستان کسٹمز کا ڈائریکٹوریٹ جنرل (انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن) سیکرٹریل معاونت فراہم کرے گا۔

وزیراعظم نے مزید ہدایت جاری کی ہے کہ وزیر قانون و انصاف دو تجربہ کار وکلاء کو خصوصی پراسیکیوٹرز مقرر کریں، جن میں ایک کراچی اور دوسرا اسلام آباد میں کیسز کی پیروی کرے گا۔

وزیراعظم نے کراچی اور اسلام آباد میں خصوصی پراسیکیوٹرز کی تعیناتی کی بھی ہدایت جاری کی ہے تاکہ مقدمات کے مؤثر پیروی کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جا سکے، جو اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے حکومتی عزم کا مظہر ہے۔

یہ کیس پاکستان کی تاریخ میں ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کی سب سے بڑی مثالوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ (PCA) نے اس اسکینڈل کو بے نقاب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جہاں جعلی درآمد کنندگان اور کاغذی کمپنیوں کے ایک منظم نیٹ ورک کا سراغ لگایا گیا، جو سولر پینلز کی درآمد میں منظم اوور انوائسنگ میں ملوث تھا۔ تحقیقات کے مطابق تقریباً 120 ارب روپے کی درآمدات کو دانستہ طور پر بڑھا چڑھا کر ظاہر کیا گیا تاکہ غیر قانونی طور پر رقوم بیرون ملک منتقل کی جا سکیں۔

بعد ازاں کسٹمز ایڈجیوڈیکیشن اتھارٹی نے ایک اہم فیصلے میں الزامات ثابت کرتے ہوئے ملوث اداروں پر 111 ارب روپے جرمانہ عائد کیا، جبکہ اضافی ذاتی سزائیں بھی سنائی گئیں۔ کارروائی سے یہ بھی ثابت ہوا کہ زیادہ تر کمپنیاں جعلی تھیں جن کا کوئی حقیقی کاروبار موجود نہیں تھا، اور وہ جعلی دستاویزات اور فرضی لین دین کے ذریعے منی لانڈرنگ کر رہی تھیں۔

دھوکہ دہی کے اس طریقہ کار میں ڈمی کمپنیوں کے ذریعے درآمدی مرحلے پر قیمتیں بڑھانا اور بعد ازاں سولر پینلز کو مقامی مارکیٹ میں کم قیمت پر فروخت کرنا شامل تھا، جس سے پیدا ہونے والا فرق غیر قانونی بیرونی ترسیلات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

تحقیقات میں بینکنگ چینلز اور ریگولیٹری خامیوں کے استعمال کا بھی انکشاف ہوا، جس نے اس اسکیم کو کئی سال تک جاری رکھنے میں مدد دی۔

وزیراعظم کی مداخلت کے بعد ادارہ جاتی احتساب پر نئی توجہ مرکوز ہوئی ہے، خاص طور پر اس اسکینڈل کے طویل عرصے تک جاری رہنے کے تناظر میں۔ جاری انکوائری میں مختلف اسٹیک ہولڈرز بشمول سرکاری محکمے، مالیاتی ادارے، ریگولیٹری باڈیز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ نگرانی میں ناکامیوں کی حد کا تعین کیا جا سکے۔

احتسابی اقدامات کے تحت اگلے مرحلے میں جرمانوں کی وصولی، غیر قانونی آمدنی سے حاصل شدہ اثاثوں کی ضبطی اور بین الادارہ جاتی رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات پر توجہ دی جائے گی۔

حکومت کے یہ اقدامات اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ مالی جرائم کے خلاف سخت نفاذ اور جوابدہی کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ سولر پینلز اوور انوائسنگ کیس پاکستان کے قانونی و ریگولیٹری نظام کے لیے ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔

وزیراعظم آفس کی ہدایات نہ صرف نجی عناصر بلکہ سرکاری افسران کو بھی کٹہرے میں لا رہی ہیں، جسے سیاسی عزم کے مضبوط اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ کیس جہاں گہرے ساختی مسائل کو بے نقاب کرتا ہے، وہیں ایک ایسی پیش رفت کا عندیہ بھی دیتا ہے جو ملک میں احتساب کے کلچر کو نئی شکل دے سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے