سندھ کے دارالحکومت کراچی میں واقع ملک کے ممتاز تعلیمی ادارے جامعہ کراچی میں مالی بحران کے باوجود انتظامی نااہلی نے ایک نئے اسکینڈل کو جنم دے دیا ہے، جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری میں ماہانہ اخراجات ڈیڑھ کروڑ سے بڑھ کر ایک کروڑ 75 لاکھ روپے تک جا پہنچے ہیں۔جو سالانہ 18 کروڑ سے زائد تجاوز کرتے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق جامعہ کراچی میں 1954 کے کوڈ کے تحت شیخ الجامعہ، ڈائریکٹر فنانس اور شعبہ ٹرانسپورٹ کے زیر انتظام پوائنٹ بسوں کے لیے پیٹرول و ڈیزل کی خریداری کی ذمہ داری مقرر تھی، تاہم 2020 کے بعد اس نظام میں نمایاں تبدیلی کرتے ہوئے جامعہ کے مختلف شعبہ جات، ایڈمن افسران اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے آنے والے آڈٹ افسران کو بھی سرکاری گاڑیوں کے ساتھ مفت پیٹرول فراہم کیا جانے لگا، جس سے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تقریباً 1500 ایکڑ پر محیط جامعہ کراچی میں 54 شعبہ جات اور 19 تحقیقی ادارے قائم ہیں، جہاں 45 ہزار کے قریب طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں جبکہ اساتذہ اور ملازمین کی بڑی تعداد روزانہ پوائنٹ بسوں کے ذریعے سفر کرتی ہے۔
جامعہ کے ٹرانسپورٹ نظام میں اس وقت 45 سے زائد بسیں شامل ہیں، مگر فعال پوائنٹس کی تعداد 22 ہے۔ ان میں ایک بس سابقہ شہری حکومت سے حاصل شدہ، 13 مرمت شدہ، 8 پانچ برس قبل خریدی گئی جبکہ کئی بسیں تاحال خراب حالت میں کھڑی ہیں۔ شہری حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی 7 بسیں مرمت کے لیے مختلف ٹاؤنز کو دی گئیں، تاہم معاہدے کی مدت ختم ہونے کے باوجود واپس نہ آ سکیں۔
پوائنٹ بس سسٹم میں بھی حیران کن بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ صبح کے اوقات میں ایک پوائنٹ کے لیے 95 ٹکٹس جاری کیے جاتے ہیں جبکہ اصل مسافروں کی تعداد 135 سے 145 تک ہوتی ہے۔ دوپہر میں 75 اور شام میں 60 ٹکٹس جاری کیے جاتے ہیں، مگر مسافروں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق جامعہ کو ماہانہ 19 لاکھ 10 ہزار 400 روپے آمدن حاصل ہوتی ہے، جبکہ اضافی مسافروں سے حاصل ہونے والی 12 لاکھ 33 ہزار 600 روپے کی رقم مبینہ طور پر کہیں اور منتقل ہو رہی ہے۔ یوں روزانہ تقریباً 51 ہزار 400 روپے کی ممکنہ خردبرد ایک سنگین سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
مزید انکشافات کے مطابق مختلف شعبہ جات کی 57 گاڑیوں کو بھی پیٹرول فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ شعبہ ٹرانسپورٹ کے مطابق ان میں سے 60 فیصد گاڑیاں غیر فعال ہیں۔ اس کے باوجود پیٹرول کی مسلسل فراہمی بدانتظامی کی واضح مثال ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وائس چانسلر کے زیر استعمال 5 سے زائد گاڑیوں کو ماہانہ ایک ہزار لیٹر تک پیٹرول فراہم کیا جاتا رہا، جسے بعد ازاں کم کر کے 600 لیٹر کر دیا گیا۔ اسی طرح آڈٹ افسر کو دی گئی سوزوکی کلٹس (GL4798) کے لیے 200 لیٹر ماہانہ پیٹرول کی سہولت دی گئی، جسے بعد میں نصف کر دیا گیا۔
شعبہ ٹرانسپورٹ کے گریڈ 16 کے انچارج کو تین گاڑیاں الاٹ ہونے کے ساتھ 500 لیٹر سے زائد مفت پیٹرول فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ ریٹائرڈ افسر قدیر محمد علی بھی تاحال سرکاری پیجارو (GL3022) کے ساتھ 200 لیٹر ماہانہ پیٹرول حاصل کر رہے ہیں۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ بعض ایسی گاڑیاں جو بغیر پہیوں کے کھڑی ہیں، ان کے نام پر بھی ہزاروں لیٹر پیٹرول جاری کیا جا رہا ہے۔
ورکشاپ ایمرجنسی کے نام پر ماہانہ 1500 لیٹر پیٹرول و ڈیزل کی علیحدہ فراہمی بھی جاری ہے، جبکہ یہ تمام خریداری جامعہ کی اراضی پر قائم پیٹرول پمپ سے کی جاتی ہے، جسے ادائیگیاں ہفتہ وار، پندرہ روزہ یا ماہانہ بنیادوں پر کی جاتی ہیں۔
ایک جانب جامعہ کراچی شدید مالی بحران کا شکار ہے اور گزشتہ ایک سال سے ملازمین ہاؤس سیلنگ جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جبکہ حکومت سندھ کی جانب سے اضافے کے باوجود ادائیگیاں بروقت نہیں کی جا رہیں۔ دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری میں سبسڈی کے نام پر کروڑوں روپے کے مبینہ نقصان پر انتظامیہ کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ اس پورے معاملے کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی جائیں اور ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ جامعہ کراچی کو مالی خسارے سے نکالا جا سکے اور بدانتظامی کا سدباب ممکن ہو۔