Screenshot_2025_0709_042642

جامعہ کراچی میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی فیصلوں کا ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جو مستقبل میں ملک کی سب سے بڑی جامعہ کو شدید مالی بحران سے دوچار کر سکتا ہے۔ دستاویزات کے مطابق آڈیٹر جنرل پاکستان اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بارہا اعتراضات اور ہدایات کے باوجود ہاؤس سیلنگ کی مد میں ادائیگیاں مسلسل جاری رہیں، جس کے نتیجے میں جامعہ پر مالی بوجھ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے اور اس میں مبینہ اضافے سے جامعہ کراچی دیوالیہ بھی ہوسکتی ہے.؟

مالی تخمینوں کے مطابق ہاؤس سیلنگ کا موجودہ حجم تقریباً 600 ملین روپے سے بڑھ کر 1.11 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ یعنی صرف اس ایک مد میں تقریباً 510 ملین روپے کا اضافی بوجھ جامعہ کے خزانے پر پڑے گا۔دوسری جانب جامعہ کراچی پہلے ہی تقریباً 2 ارب روپے کے خسارے کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث مجموعی مالی خسارہ 3 ارب روپے سے تجاوز کرنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ 2018 میں آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے تین سالہ آڈٹ کے دوران ہاؤس سیلنگ کو قواعد سے متصادم قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کی سفارش کی گئی تھی۔ بعد ازاں ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے بھی متعدد خطوط اور اجلاسوں میں واضح کیا کہ جامعات کو ہاؤس سیلنگ کے بجائے ہاؤس رینٹ ادا کرنا چاہیے، جو بنیادی تنخواہ کا 45 فیصد بنتا ہے۔اس پر عمل درآمد میں کون رکاوٹ تھا۔؟

ذرائع کے مطابق انہی اعتراضات کے بعد جامعہ کراچی نے ہاؤس سیلنگ کو بظاہر تنخواہ سے الگ ظاہر کرنا شروع کیا، تاہم عملی طور پر یہ ادائیگیاں مسلسل جاری رہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب آڈیٹر جنرل، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور جامعہ کی اپنی کمیٹیاں اس معاملے پر اعتراضات اٹھا چکی تھیں تو پھر گزشتہ سات برس کے دوران متعلقہ حکام نے اس مسئلے کا مستقل حل کیوں تلاش نہیں کیا؟اور خاموشی کیوں اختیار کی رہی۔

مزید اہم سوال یہ بھی ہے کہ وائس چانسلر، انجمن اساتذہ، آفیسرز یونین اور ایمپلائز یونین اس تمام عرصے میں خاموش کیوں رہے؟ اگر ہاؤس سیلنگ واقعی جامعہ کے مالی استحکام کے لیے خطرہ تھی تو اس پر بروقت آواز کیوں نہیں اٹھائی گئی؟۔اور اب جب انتظامی تبدیلی قریب ہے تو ایڈمنسٹریشن اب کیسے اسے غیر قانونی قرار دے سکتی ہے اور احتجاجی تحریک کے شرکاء کیسے اس میں اضافے کا سوال کرسکتے ہیں؟

اب جبکہ جامعہ کراچی میں انتظامی تبدیلیوں اور احتجاجی تحریکوں کا ماحول موجود ہے، اس معاملے کا اچانک دوبارہ منظر عام پر آنا بھی کئی نئے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر اربوں روپے کے مالی نقصان کا خدشہ حقیقت پر مبنی ہے تو اس کی ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے اور عوام کے سامنے تمام حقائق لائے جانے چاہئیں۔

سب سے بڑا سوال بدستور اپنی جگہ موجود ہے: کیا جامعہ کراچی کو 3 ارب روپے کے ممکنہ خسارے تک پہنچانے والے فیصلوں کی ذمہ داری کوئی قبول کرے گا، یا یہ معاملہ بھی ماضی کی طرح خاموشی کی نذر ہو جائے گا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے