کراچی میں رہائشی علاقوں کے رفاحی پلاٹس پر تجارتی سرگرمیاں ،شادی ہالز کی تعمیرات کی منظوری پر عدالت نے 2019 میں پابندی عائد کردی تھی اس فیصلے کے خلاف آباد سمیت مختلف مختلف افراد نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر رکھا تھا ان دائر اپیلوں پر 9 جولائی 2026 کے وفاقی آئینی عدالت کے تحریری فیصلے کو نسلہ ٹاور سے منسلک کر کے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں نشر اور شائع کردیا گیا جبکہ اس فیصلے میں نسلہ ٹاور کا زکر تک موجود نہیں ہے ،اسی فیصلے پر تمام سیاسی جماعتوں نے بیانات بھی دئیے لیکن کسی نے فیصلے کو پڑھنے کی کوشش نہیں کی ہے۔
عدالت کے اس فیصلے کی غلط انداز سے تشریح پر کیا تحقیقات ہوں گی یا وہ بھی بلڈر مافیا کے اثر و رسوخ سے زائل ہو جائے گا اس فیصلے کی غلط تشریح سے کراچی میں رفاحی پلاٹس۔ سروس روڈ ،کھیل کے میدانوں ،پارکس وغیرہ میں تجارتی مراکز قائم کرنے کا نیا راستہ بنانے کوشش کی جاسکتی ہے۔جو شہریوں کے بنیادی حقوق کے خلاف ورزی ہے اور وفاقی آئینی عدالت کے 9 جولائی کے تحریری فیصلے میں انسانی حقوق کو تحفظ دینے کی واضح ہدایت موجود ہے تاہم اس پورے فیصلے میں نسلہ ٹاور کا زکر بھی موجود نہیں لیکن اسے شہہ سرخی بنادیا گیا۔
وفاقی آئینی عدالت کے پاس لیاری میں غیر قانونی تعمیرات پر آباد سمیت 10 متفرق درخواستیں اپیل پر زیر سماعت تھیں جس پر تحریری فیصلہ 9 جولائی 2026 کو جاری ہوا اس پورے فیصلے میں شارع فیصل پر سپریم کورٹ کے حکم پر منہدم کئے جانے والے نسلہ ٹاور کو ذکر تک موجود نہیں جبکہ جس بنیاد پر نسلہ ٹاور منہدم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس اقدام کی اس فیصلے میں حمایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب اس پورے فیصلے میں غیر قانونی تعمیرات کی کہیں بھی حمایت نہیں کی گئی تاہم عدالت نے اسے حکومت کے کرنے کا کام قرار دیا ہے ۔
9 جولائی کے تحریری فیصلے پر معاصر اخبارات ،الیکٹرانک میڈیا پر اس فیصلے کی ایسی تشہیر کی گئی کہ سپریم کورٹ کے حکم کو ہی غلط تصور کیا گیا جس سے کراچی میں رفاحی پلاٹس ، پارکس ،میدانوں سمیت دیگر مقامات پر کوڑیوں کی زمین سے اربوں روپے کمانے کی بلڈر مافیا نے مہم کا حصہ تصور کرلیا ہے۔



وفاقی آئینی عدالت کے 9 جولائی کو جاری تحریری فیصلے کا ہر صفحہ علیحدہ علیحدہ کرکے اس خبر کا حصہ بنایا جارہا ہے جبکہ 10 صفحات پر مشتمل اس تحریری فیصلے کا مختصر ترجمہ بھی کیا گیا ہے ۔
وفاقی آئینی عدالت کے 9 جولائی کو جاری تحریری فیصلے کے مطابق کراچی میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف گزشتہ برسوں کے دوران جاری وسیع پیمانے پر عدالتی کارروائیوں اور انہدامی مہم کے حوالے سے ایک غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے 21 دسمبر 2018 اور 22 جنوری 2019 کو جاری کیے گئے جس کے مطابق اس طرح کی کارروائیاں عدالت کی زمہ داری نہیں ہے اور رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیاں جہاں بھی نشاندہی ہو وہاں حکومت کے شعبہ جات اور اداروں کی زمہ داری ہے اس پر کارروائی کرئے۔



یاد رہے کہ کراچی میں بڑی شاہراہوں پر کمرشل پلاٹوں کی اجازت کی آڑ میں رہائشی علاقوں کے رفاحی پلاٹس سمیت دیگر پر تجارتی سرگرمیوں کی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی،کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے منظوری دینا شروع کردی تھی جس پر پابندی لگائی گئی تھی۔
واضح رہے کہ عدالت کے اس فیصلے میں ماضی کے تمام غیر قانونی اقدامات کی نشاندھی بھی کی گئی اور حکومت کی زمہ داریاں بھی بتائی گئیں رہائشی علاقوں میں تجارتی بنیاد پر استعمال کرنے پر 2019 میں پابندی لگائی گئی تھی اس فیصلے کے مطابق کوئی بھی فیصلہ کالعدم نہیں ہوا لیکن سندھ حکومت کے محکموں کو حکم دیا گیا کہ رہائشی علاقوں کو کمرشل ہونے سے بچایا جاسکے تاکہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ فراہم ہو ۔



سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ماضی میں رہائشی علاقوں میں رفاحی علاقوں میں کمرشل مراکز کھولے گئے شادی ہال بنائے گئے ۔عدالت نے اس فیصلے میں اپنے اوپر سے زمہ داری ہٹائی ہے اور انفرادی طور پر شہری کو حق دیا ہے کہ رہائشی علاقوں میں کمرشل تعمیرات جس سے شہری کے حقوقِ متاثر ہورہے ہیں وہ وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کرسکتا ہے ۔
عدالتی فیصلے کے مطابق کمرشل کرنے کا طریقہ واضح ہے کہ پبلک ہئیرنگ کی جائے گی انوائرمنٹ ان پیکٹ اسسمنٹ،سندھ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی،لوگوں سے رائے لینا ہے اور ان کا کیا کردار ادا کرنا تھا لیکن ماضی میں ایسا ہوا کہ 200 فٹ روڈ پر اونچی عمارتیں بنائی گئی اضافی رہائشی پلاٹس بھی استعمال کئے گئے اور پورے رہائشی علاقے کے مکینوں کے بنیادی حقوقِ متاثر ہوئے۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اصل مقدمہ لیاری کے علاقے موسیٰ لین میں واقع ایک مخصوص عمارت کی قانونی حیثیت اور اس کے انہدام سے متعلق تھا، تاہم سماعت کے دوران معاملہ غیر متوقع طور پر پورے کراچی میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف وسیع عدالتی مہم میں تبدیل ہوگیا اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو اس کے سدباب کی ہدایت کی گئی تھی۔
عدالت کے مطابق ابتدائی مقدمہ سندھ ہائی کورٹ کراچی میں دائر کیا گیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ لیاری کوارٹرز میں واقع ایک عمارت متروکہ املاک پر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے نومبر 2016 میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو عمارت گرانے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جولائی 2018 میں سپریم کورٹ نے لیاری ٹاؤن میں بغیر منظور شدہ نقشوں کے تعمیر ہونے والی تمام عمارتوں کی تفصیلات طلب کیں، جس کے بعد کارروائی کا دائرہ بتدریج پورے کراچی تک پھیل گیا۔ بعد ازاں دسمبر 2018 اور جنوری 2019 میں ایسے احکامات جاری کیے گئے جن کے تحت کراچی بھر میں تجاوزات، شادی ہالز، مارکیٹس اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں شروع ہوئیں جبکہ ماسٹر پلان میں زمین کے استعمال کی تبدیلی پر بھی مکمل پابندی عائد کردی گئی تھی۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ عدالتوں کا بنیادی فرض صرف ان تنازعات کا فیصلہ کرنا ہے جو ان کے سامنے باضابطہ طور پر پیش کیے گئے ہوں، اور عدالتی اختیارات کو ان معاملات تک توسیع نہیں دی جاسکتی جو مقدمے کے اصل دائرہ کار سے باہر ہوں۔
عدالت نے قرار دیا کہ لیاری کی ایک مخصوص عمارت سے متعلق اپیل کو بنیاد بنا کر کراچی کی تمام مبینہ غیر قانونی عمارتوں کے خلاف احکامات جاری کرنا عدالتی دائرہ اختیار سے تجاوز کے مترادف تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عدالتی ہدایات صرف اسی حد تک جاری کی جاسکتی ہیں جہاں وہ زیر سماعت تنازع کے حل کے لیے ناگزیر ہوں۔
عدالت نے یہ بھی آبزرویشن دی کہ اگرچہ غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام اور شہری منصوبہ بندی کا نفاذ ایک اہم مقصد ہے، تاہم یہ ذمہ داری بنیادی طور پر سندھ حکومت اور متعلقہ انتظامی اداروں کی ہے، نہ کہ عدلیہ کی۔ کسی بھی عمارت کو گرانے یا کارروائی کرنے سے قبل قانون کے مطابق مکمل ضابطہ کار اور متاثرہ فریقین کو مناسب قانونی حق دینا ضروری ہے۔
یاد رہے کہ نسلہ ٹاور کی زمین سے متعلق چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے روبرو ہوئی تھی جس میں اس زمین کی فروخت کر کے متاثرین کو ادائیگی کا کہا گیا تھا اور یہ فیصلہ تاحال برقرار ہے اور عدالت میں جمع ہونے والی آخری رپورٹس میں اس زمین کی کل مالیت اکشن میں 89 کروڑ تک لگ چکی ہے تاہم اس میں اصافہ متوقع ہے جس کے بعد فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
دوسری جانب وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے میں زور دیا گیا کہ شہریوں کو آئین کے تحت "قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی” اور "منصفانہ سماعت” کا بنیادی حق حاصل ہے، لہٰذا کسی بھی انہدامی کارروائی کو قانونی اور آئینی تقاضوں کے مطابق انجام دینا ہوگا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے 21 دسمبر 2018 اور 22 جنوری 2019 کے احکامات واپس لیتے ہوئے ان کے تحت جاری تمام رپورٹس، کارروائیوں اور زیر التواء پر تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ تمام معاملات میں صرف قانون اور ضابطے کے مطابق کارروائی کریں۔
دوسری جانب جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے اپنے اضافی نوٹ میں کراچی کے شہریوں کے بنیادی حقوق اور شہری سہولیات کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارکس، کھیل کے میدان، گرین بیلٹس، ساحلی مقامات، فٹ پاتھ، لائبریریاں، کمیونٹی سینٹرز، تعلیمی و طبی ادارے اور دیگر عوامی سہولیات شہریوں کے بنیادی حقوق کا حصہ ہیں اور انہیں کسی بھی غیر قانونی قبضے، غیر مجاز تبدیلی یا انتظامی فیصلے کے ذریعے متاثر نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت نے متعلقہ اداروں اور مقامی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے مفاد میں ان عوامی سہولیات کے تحفظ، دیکھ بھال اور دستیابی کو یقینی بنائیں۔