nad-fia-01

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی تیار کردہ پاک آئی ڈی ایپلیکیشن سیکیورٹی اور نگرانی کے نظام سے متعلق سوالات کی زد میں آگئی ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی حالیہ کارروائی میں دو مبینہ ایجنٹوں کی گرفتاری کے بعد ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں جنہوں نے قومی شناختی نظام، پاسپورٹ اجراء اور امیگریشن سیکیورٹی کے متعدد پہلوؤں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق گرفتار افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر ملکی شہریوں کو پاکستانی خاندانوں کے خاندانی ریکارڈ میں شامل کروانے کے لیے نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ کا استعمال کیا۔ ایف آئی اے حکام کا دعویٰ ہے کہ اس طریقہ کار کے ذریعے قومی شناختی کارڈ کے حصول کے بعد پاسپورٹ، تعلیمی اسناد، میڈیکل سرٹیفکیٹس اور بیرون ملک ملازمت کے لیے درکار دستاویزات تک رسائی ممکن بنائی جاتی رہی۔

ذرائع کے مطابق 2022 کے بعد ہزاروں افغان شہریوں کو پاکستانی پاسپورٹ جاری ہونے سے متعلق رپورٹس سامنے آنے کے بعد شروع ہونے والی تحقیقات میں ایک منظم اور کثیر الجہتی نیٹ ورک کے شواہد ملے ہیں، جو مبینہ طور پر ملک کے مختلف حصوں میں سرگرم ہے۔

تحقیقات کے مطابق اس نیٹ ورک کا پہلا مرحلہ ایسے خاندانوں کی تلاش سے شروع ہوتا ہے جو رقم کے عوض اپنے فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (ایف آر سی) میں کسی غیر متعلقہ شخص کو شامل کرنے پر آمادہ ہوں۔ مبینہ طور پر اسی مرحلے میں ایک لاکھ روپے تک متعلقہ خاندان کو ادا کیے جاتے ہیں، جبکہ قومی شناختی کارڈ کے اجرا کے لیے مجموعی طور پر 8 سے 10 لاکھ روپے تک وصول کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق شناختی کارڈ کے حصول کے بعد اگلا مرحلہ تعلیمی ریکارڈ، میڈیکل دستاویزات، پاسپورٹ، ورک ویزا اور پروٹیکٹر سے متعلق کارروائیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ تفتیشی معلومات کے مطابق ایک شخص کی مکمل "پاکستانی شناخت” تیار کرنے کے لیے 25 سے 30 لاکھ روپے تک وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ایف آئی اے کی حالیہ کارروائی میں گرفتار ہونے والے دو افراد میں سے ایک کا تعلق بلوچستان کے ضلع ژوب جبکہ دوسرا کراچی کی بنگالی آبادی سے بتایا جاتا ہے۔

تفتیشی حکام کے مطابق ان افراد پر دو درجن سے زائد افغان شہریوں کو پاکستانی خاندانوں کے ریکارڈ میں شامل کروانے کا الزام ہے۔

اس مقدمے نے ایک اور اہم سوال اٹھایا ہے کہ اگر کسی غیر ملکی شہری کا اندراج قومی شناختی نظام میں کیا جا رہا تھا تو کیا سسٹم نے اس عمل کو خودکار جانچ پڑتال (اسکروٹنی) کے لیے فلیگ نہیں کیا؟ یا پھر تحقیقات کی ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ کہیں نظام کے اندر موجود کسی سطح پر مبینہ سہولت کاری تو موجود نہیں تھی۔

وفاقی وزارت داخلہ ایک جانب ایف آئی اے کو غیر قانونی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے اجراء میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کا ٹاسک دے چکی ہے۔

زرائع کے مطابق ایف آئی اے کو ابتدائی طور پر 12 ہزار سے زائد افغان شہریوں کو قومی شناختی کارڈ سمیت پاسپورٹ کے اجراء پر تحقیقات سونپی گئی تھی اور اسی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ افغان شہریوں کو اپنے وطن واپس بھیجنے کے عمل کے بعد بھی نادرا کی ایپلیکیشن سے شناختی کارڈ بنے ہیں۔

ایف آئی اے کی کارروائی میں گرفتار ایجنٹوں نے جنوری اور فروری 2026 میں افغان شہریوں کے شناختی کارڈ تیار کروائے اور ان افغان شہریوں کو بنگالی خاندان میں اندراج کروایا گیا اور نادرا ایپلیکیشن نے اس غیر معمولی سرگرمی کو روکنے کا کوئی اشارہ دیا ؟اس پر تحقیقات ہونا ضروری ہے۔

تاہم تفتیشی حلقوں کا کہنا ہے کہ نادرا سے مطلوبہ ریکارڈ کے حصول اور متعلقہ معلومات تک بروقت رسائی میں مشکلات کے باعث کئی مقدمات کی پیش رفت متاثر ہو رہی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اکتوبر 2022 میں نادرا آرڈیننس 2000 میں کی گئی ترامیم کے بعد بعض مقدمات میں تفتیشی اداروں کو اضافی قانونی تقاضوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر آرڈیننس کی شق 31 کے حوالے سے یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ نادرا اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے ادارہ جاتی طریقہ کار اور داخلی منظوریوں کی ضرورت مقدمات کی رفتار کو متاثر کر سکتی ہے۔

عدالتی کارروائیوں کے دوران بھی یہ سوال سامنے آیا کہ اگر جرم کی ابتدا قومی شناختی کارڈ کے اجرا سے ہوتی ہے تو پھر صرف پاسپورٹ، ویزا پروسیسنگ، پروٹیکٹر اور دیگر مراحل سے وابستہ افراد کے خلاف کارروائیاں کافی کیسے ہو سکتی ہیں، جبکہ ابتدائی مرحلے میں کردار ادا کرنے والے عناصر کی نشاندہی اور تحقیقات بھی ضروری ہیں۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اگر متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ، بروقت ڈیٹا شیئرنگ اور مربوط تحقیقات کو یقینی بنایا جائے تو ایسے نیٹ ورکس کے مکمل ڈھانچے کو بے نقاب کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ کیس نے نہ صرف قومی شناختی نظام بلکہ ادارہ جاتی رابطوں اور قانونی فریم ورک سے متعلق بھی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے