Screenshot_2026_0507_153058

جامعہ کراچی میں اساتذہ اور ملازمین کی جاری احتجاجی تحریک نے ایک نیا اور غیر متوقع رخ اختیار کر لیا ہے۔ ایک جانب یونیورسٹی انتظامیہ احتجاج پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے تو دوسری جانب ٹرانسپورٹ یونٹ کی جانب سے اساتذہ رہنماؤں کے خلاف کی گئی شکایت اور 24 برس پرانے سندھ ہائی کورٹ کے عدالتی ریکارڈ نے کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

تحقیقات ڈاٹ کام کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق 18 مئی 2026 کو جامعہ کراچی کے ٹرانسپورٹ یونٹ کے قائم مقام انچارج محمد دلدار خان نے رجسٹرار جامعہ کراچی کو ایک تفصیلی شکایتی خط ارسال کیا، جس میں انجمن اساتذہ کے صدر ،ملازمین سمیت دیگر افراد پر ٹرانسپورٹ یونٹ کے ملازمین کو مبینہ طور پر دباؤ میں لانے، ہراساں کرنے اور احتجاجی تحریک میں شامل ہونے پر مجبور کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔

خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ احتجاجی عناصر اسٹوڈنٹس پوائنٹس بس سروس کو بند کرانے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں، حالانکہ یہ سروس ہزاروں طلبہ و طالبات کی تعلیمی سرگرمیوں سے براہ راست منسلک ہے۔ شکایت میں دعویٰ کیا گیا کہ بعض احتجاجی سرگرمیوں کے دوران ٹرانسپورٹ یونٹ کو زبردستی بند کرانے کی کوششوں کا تاثر ملا، جس سے سروس کی مسلسل فراہمی خطرے میں پڑ سکتی تھی۔

تاہم اس شکایتی خط کا سب سے حیران کن پہلو یہ سامنے آیا کہ مبینہ طور پر ایک صحافی کو بھی ایسے انداز میں نامزد کرنے کی کوشش کی گئی جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ وہ جامعہ کراچی کا ملازم ہے، حالانکہ متعلقہ صحافی کا یونیورسٹی ملازمت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس معاملے نے نہ صرف شکایت کی تیاری کے طریقہ کار بلکہ اس کی قانونی حیثیت کے بارے میں بھی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق ٹرانسپورٹ یونٹ نے اپنی شکایت کی نقول سندھ رینجرز، پولیس حکام، وائس چانسلر سیکریٹریٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ارسال کیں۔ خط میں رینجرز سے سیکیورٹی نفری تعینات کرنے اور پولیس سے کسی بھی مبینہ غیر قانونی کارروائی کی صورت میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی گئی۔

دوسری جانب تحقیقات ڈاٹ کام کو سندھ ہائی کورٹ کراچی کا 24 برس پرانا عدالتی ریکارڈ بھی موصول ہوا ہے، جس میں جامعہ کراچی کی اساتذہ، افسران اور ملازمین کی نمائندہ تنظیموں نے عدالت کے روبرو بعض اہم یقین دہانیاں کرائی تھیں۔

16 جولائی 2002 کو سندھ ہائی کورٹ میں سوٹ نمبر 771/2002 کی سماعت کے دوران کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی، کراچی یونیورسٹی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن اور کراچی یونیورسٹی ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے عدالت میں جمع کرائے گئے جوابی حلف نامے میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ نہ تو ہڑتال کی کال دے رہے ہیں اور نہ ہی امتحانات کے بائیکاٹ کا کوئی منصوبہ رکھتے ہیں۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق تنظیموں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے صرف علمی، فلاحی اور تنظیمی سرگرمیاں انجام دیں گی اور کسی ایسی احتجاجی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوں گی جس سے تعلیمی ماحول متاثر ہو۔ عدالت نے اسی یقین دہانی کی بنیاد پر درخواست نمٹا دی تھی۔

اب جبکہ جامعہ کراچی میں جاری احتجاجی تحریک کے دوران تدریسی، انتظامی اور ٹرانسپورٹ سرگرمیوں کے متاثر ہونے کے خدشات سامنے آرہے ہیں، قانونی حلقوں میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ آیا موجودہ صورتحال 2002 میں عدالت کے روبرو دی گئی یقین دہانیوں سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔ البتہ اس معاملے پر حتمی قانونی رائے صرف متعلقہ عدالت ہی دے سکتی ہے۔

دوسری طرف اس پورے بحران نے یونیورسٹی انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سطح پر بھی صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے اور عیدالاضحیٰ سے قبل مذاکراتی کوششوں کی تجاویز سامنے آئی تھیں، تاہم کوئی عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران صرف احتجاجی تحریک کا نتیجہ نہیں بلکہ انتظامیہ، اساتذہ تنظیموں اور ملازمین کے درمیان بڑھتی ہوئی بداعتمادی کا عکاس ہے۔ ان کے مطابق اگر فوری اور سنجیدہ مذاکرات نہ ہوئے تو عید کے بعد احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات تدریسی سرگرمیوں، امتحانات اور طلبہ کے معمولات پر مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

جامعہ کراچی کے موجودہ حالات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا انتظامیہ اور نمائندہ تنظیمیں ماضی کے تجربات سے سبق سیکھنے میں ناکام رہی ہیں یا یونیورسٹی ایک بار پھر اسی نوعیت کے بحران کے دہانے پر کھڑی ہے جس کا سامنا اسے دو دہائیاں قبل کرنا پڑا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے