Screenshot_2026_0421_154111

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کسٹم کلکٹریٹ انفورسمنٹ کوئٹہ میں سرکاری طور پر تحویل میں لی گئی 400 کلو چاندی کی حیران کن چوری اور ردوبدل کے اسکینڈل پر بڑا قدم اٹھاتے ہوئے تحقیقات فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سپرد کر دی ہیں۔ اس پیش رفت نے نہ صرف کسٹمز نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ ادارہ جاتی بدعنوانی کی گہری جڑوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔

اہم پیش رفت میں سیکرٹری فنانس ڈویژن نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو باضابطہ خط ارسال کر دیا ہے، جس میں اس ہائی پروفائل کیس کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی ہدایت کی گئی ہے۔ خط میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (سی آئی ٹی) تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ مختلف ادارے مل کر اس پیچیدہ کیس کی تہہ تک پہنچ سکیں۔ اس سلسلے میں اسلام آباد کلکٹریٹ کو فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے فوری ایکشن لیتے ہوئے کسٹم کلکٹریٹ کے ملوث افسران کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ پریوینٹو افسران اور انسپکٹرز کو پہلے ہی معطل کیا جا چکا ہے۔ مزید برآں ایک ڈپٹی کلکٹر کو بھی عہدے سے ہٹا کر ایڈمن پول میں بھیج دیا گیا ہے، جو اس اسکینڈل کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ پورا معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب حکومتِ پاکستان کے ریونیو ڈویژن اور ایف بی آر کی دستاویزات میں ایک سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا۔ انکشاف کے مطابق کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ کی جانب سے ضبط کی گئی 698 کلوگرام چاندی کی کھیپ میں سے 400 کلوگرام چاندی کو مبینہ طور پر راستے میں سیسے سے تبدیل کر دیا گیا۔

دستاویزات کے مطابق مذکورہ چاندی کی کھیپ کو 5 اپریل 2026 کو کوئٹہ سے پاکستان منٹ لاہور منتقل کیا گیا، جہاں جانچ پڑتال کے دوران یہ حیران کن حقیقت سامنے آئی کہ کل وزن میں سے 400 کلوگرام حصہ اصل چاندی کے بجائے سیسے پر مشتمل ہے۔

ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ یہ کھیپ کسٹم ہاؤس کوئٹہ سے کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک دو مختلف حصوں میں منتقل کی گئی تھی، جن کا وزن بالترتیب 400 کلوگرام اور 298 کلوگرام تھا، اور انہیں الگ الگ گاڑیوں کے ذریعے لاہور روانہ کیا گیا۔ تحقیقات کے مطابق اسی دوران 400 کلوگرام وزنی حصہ دھوکہ دہی کے ذریعے تبدیل کیا گیا۔

کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے اس کھیپ کی محفوظ ترسیل کے ذمہ دار اہلکاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ مزید تفتیش اور گرفتار افراد سے پوچھ گچھ کے دوران ایک منظم اسمگلر گروہ کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں، جو مبینہ طور پر بعض کسٹمز اہلکاروں کے ساتھ ملی بھگت کر کے اس واردات کو انجام دے رہا تھا۔

ایف بی آر حکام کے مطابق معاملے کی سنگینی، بدعنوانی کے شبہات اور منظم جرائم کے پیش نظر اس کیس کو جامع تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے سپرد کیا گیا ہے، تاکہ نہ صرف تبدیل شدہ سامان کی برآمدگی ممکن بنائی جا سکے بلکہ اس میں ملوث تمام عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی بھی یقینی بنائی جا سکے۔

مزید برآں، موثر اور بروقت تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (سی آئی ٹی) تشکیل دینے کی سفارش کو بھی عملی شکل دی جا رہی ہے، جس میں انٹیلی جنس اداروں، پولیس اور کسٹمز حکام کے نمائندگان شامل ہوں گے۔
اس کیس میں کسٹمز کی جانب سے چیف کلیکٹر کسٹمز انفورسمنٹ اسلام آباد کے دفتر کو فوکل پوائنٹ مقرر کیا گیا ہے۔

سیکریٹری انفورسمنٹ شاکر محمد کی جانب سے جاری کردہ مراسلہ اس امر کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ یہ صرف ایک چوری کا واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم، مربوط اور بدعنوانی پر مبنی نیٹ ورک کا حصہ ہے، جس کے اثرات نہ صرف مالی بلکہ ادارہ جاتی ساکھ پر بھی گہرے مرتب ہو سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے