Screenshot_2026_0416_152959

کراچی کاٹن ایکسچینج کی تاریخی عمارت ایف آئی اے کراچی کے حوالے کردی گئی، جہاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کو دورے کے دوران تفصیلی بریفننگ دی گئی۔ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی نے دسمبر 2025 میں متروکہ وقف املاک بورڈ کی شکایت پر مقدمہ درج کیا تھا، جبکہ بعد ازاں ان کاروباری افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کی انکوائریاں بھی رجسٹرڈ کرلی گئیں جنہوں نے عمارت خالی نہیں کی۔

اگرچہ اس مقدمے اور متعلقہ درخواستوں پر اپیلیں سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں، تاہم اس سے قبل ہی ایف آئی اے نے اپنے مختلف سرکلز کو اس عمارت میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، منگل کو وفاقی وزیر داخلہ کے دورے سے قبل ایف آئی اے ٹیم نے عمارت کے باہر متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے لگائے گئے سیل کے پوسٹرز اور بینرز ہٹا دیے، جبکہ تاریخی عمارت کے باہر نصب خوبصورت تحریر "Cotton Exchange” بھی ٹوٹ گئی۔ مزید یہ کہ تالہ بند کمروں کو کھولنے کے لیے متبادل چابیاں استعمال کرنے کے بجائے مبینہ طور پر ہتھوڑوں سے تالے توڑے گئے، جس سے دروازوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔

اب تک ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل، اسٹیٹ بینک سرکل اور کمرشل بینکنگ سرکل کی فائلیں عمارت میں منتقل کی جا چکی ہیں، تاہم مکمل منتقلی عدالتی فیصلے سے مشروط قرار دی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کی حالیہ تیزی وفاقی وزیر داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے کے دورے کے باعث دکھائی گئی، جبکہ ایف آئی اے اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے درمیان لیز کا تحریری معاہدہ بھی متوقع ہے، جس کے تحت سالانہ کرایہ سرکاری خزانے میں جمع ہوگا، تاہم عدالتی فیصلے سے قبل اسے منظر عام پر لانے سے گریز کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ نے ایف آئی اے، ایویکیوی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ یہ نوٹسز ان درخواستوں پر جاری کیے گئے جن میں ایف آئی اے کی جانب سے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے عہدیداران کے خلاف کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت پر مبینہ غیر قانونی قبضے اور بے دخلی کے احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔

درخواست گزاروں، جن میں کے ایم سی، کے سی اے اور دیگر شامل ہیں، نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے کی کارروائیاں ای ٹی پی بی کی شکایت پر شروع کی گئیں، جس کے تحت عمارت کو سیل کیا گیا اور بے دخلی کے احکامات جاری کیے گئے۔

عدالت نے اس سے قبل وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، تاہم ایف آئی اے حکام کے اس مؤقف کے بعد کہ وہ ایف آئی آر کو انکوائری کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور ایف آئی اے ایکٹ کے تحت کارروائی کر رہے ہیں، کیس کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ چونکہ اسی نوعیت کی دیگر درخواستیں بھی آئینی بینچ ون کے روبرو زیر سماعت ہیں، اس لیے موجودہ درخواستوں کی دوبارہ سماعت ضروری ہے تاکہ تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے جامع فیصلہ کیا جا سکے۔

ایف آئی اے نے کے سی اے، کے ایم سی اور ای ٹی پی بی کے بعض عہدیداران کے خلاف مقدمہ درج کیا، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے دہائیوں سے کراچی میں متروکہ املاک پر غیر قانونی قبضہ، لیز اور مالی فوائد حاصل کیے۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ نہ ای ٹی پی بی اور نہ ہی ایف آئی اے کو اس عمارت پر کوئی دائرہ اختیار حاصل ہے، کیونکہ یہ عمارت 22 جولائی 1936 کو ایک رجسٹرڈ کنوینس ڈیڈ کے ذریعے کے سی اے کو لیز پر دی گئی تھی جو 2081 تک مؤثر ہے۔

وکیل کے مطابق اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد متروکہ املاک صوبائی معاملہ بن چکا ہے، جبکہ سندھ ایویکیوی پراپرٹی ایکٹ کے تحت 1975 کے وفاقی قانون کا اطلاق ختم ہو چکا ہے، جس کے بعد وفاقی حکومت اور ای ٹی پی بی کا اختیار بھی ختم ہو گیا ہے۔

مزید یہ کہ پاکستان (انتظام متروکہ املاک) ایکٹ 1957 کے مطابق یکم جنوری 1957 کے بعد کسی بھی جائیداد کو متروکہ قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ زیر بحث عمارت کبھی متروکہ نہیں رہی اور تقسیم ہند سے قبل سے مسلسل زیر استعمال ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ سول عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور ایف آئی اے کی کارروائیاں بغیر نوٹس اور سماعت کے کی گئیں، جو بدنیتی اور قانون کے غلط استعمال کے مترادف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایف آئی اے کی مداخلت بلاجواز ہے، جس سے درخواست گزاروں کو نقصان اور کاٹن ٹریڈنگ سیکٹر میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔

دوسری جانب ای ٹی پی بی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عمارت کو ای ٹی پی بی نے سیل کیا جبکہ ایف آئی اے نے معاونت فراہم کی۔ تاجروں کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ عمارت کو ڈی سیل کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔

عدالت پہلے ہی عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کے سی اے حکام کو سیل شدہ عمارت تک رسائی کی اجازت دے چکی ہے اور ایف آئی اے کو کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالنے سے روک دیا گیا ہے۔

مزید برآں تاجروں نے منی لانڈرنگ تحقیقات کے حوالے سے کسی بھی سخت کارروائی کے خلاف عبوری حکم امتناعی بھی حاصل کر رکھا ہے، تاہم عدالت نے ایف آئی اے کو قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

ایف آئی اے نے اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کے تحت درخواست گزاروں کے اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے مختلف بینکوں اور کمپلائنس ہیڈز کو نوٹسز بھی جاری کیے ہیں۔

ایف آئی اے کے مطابق ای ٹی پی بی، کے ایم سی اور کے سی اے کے بعض عہدیداران مبینہ طور پر آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع کراچی کاٹن ایکسچینج بلڈنگ پر جعلی ملکیتی اور کرایہ داری معاہدے تیار کر کے غیر قانونی قبضے میں ملوث رہے، جس کے باعث قومی خزانے کو 15 ارب 94 کروڑ 31 لاکھ 70 ہزار روپے کا نقصان پہنچا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے