Screenshot_2025_0804_133319

سندھ ہائی کورٹ نے بین الاقوامی منشیات کے نیٹ ورک سے منسلک کمپنی مالکان اور ان کے ملازمین کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔

سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس محمد اقبال کلہوڑو اور جسٹس خالد حسین ساہانی پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو زیرِ سماعت مقدمے میں عدالت نے مبینہ طور پر منشیات کے لئے استعمال پر مبنی ادویات کی منظم اور خفیہ غیر قانونی تیاری و ترسیل کے کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے پانچوں ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق ریکارڈ کے ابتدائی جائزے سے ایک منظم اور خفیہ فارماسیوٹیکل نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، جس میں غیر لائسنس یافتہ مقامات سے مشینری، خام مال اور تیار شدہ ادویات کی برآمدگی عمل میں آئی۔

مزید برآں، گرفتاری کے بعد کے ملزمان کی جائے وقوعہ پر موجودگی بھی ثابت ہوئی جبکہ ایک منسلک گودام سے ہونے والی مزید برآمدگی نے قبل از گرفتاری درخواست گزاروں کو بھی اس نیٹ ورک سے جوڑ دیا ہے۔

عدالت کے مطابق تفتیش تاحال جاری ہے اور 27 فروری 2026 کی لیبارٹری رپورٹس بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں، جن میں ٹائمول-ایکس 225 ملی گرام (ٹراماڈول ایچ سی ایل)، ٹامول-ایکس 225 ملی گرام (ٹراماڈول ایچ سی ایل یو ایس پی) اور ناماڈول-ایکس 225 ملی گرام (ٹراماڈول ایچ سی ایل یو ایس پی) کو غیر رجسٹرڈ (جعلی) ادویات قرار دیا گیا ہے جبکہ ان میں استعمال ہونے والے ایکٹو فارماسیوٹیکل اجزاء (API) کو ٹراماڈول ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ استغاثہ نے مزید ایک وسیع نیٹ ورک کی موجودگی کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایسے حالات میں شواہد سے چھیڑ چھاڑ، گواہوں پر اثرانداز ہونے یا تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق ملزمان کی جانب سے کوئی غیر معمولی وجوہات پیش نہیں کی گئیں جن کی بنیاد پر ضمانت دی جا سکے، جبکہ قبل از گرفتاری ضمانت کے لیے بدنیتی یا کسی خفیہ محرک کا بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ بادی النظر میں استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات سے تعلق ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے، جبکہ دفاع کے نکات کا جائزہ ٹرائل کے دوران لیا جائے گا۔

فیصلے کے تحت پانچوں فوجداری ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں، جبکہ کریمنل بیل ایپلیکیشن نمبر 822 اور 823 آف 2026 میں دی گئی عبوری قبل از گرفتاری ضمانت بھی واپس لے لی گئی ہے۔

عدالت نے تمام ملزمان کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر متعلقہ تفتیشی افسر یا ڈرگ کورٹ سندھ کراچی کے روبرو سرنڈر کریں، بصورت دیگر استغاثہ قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا مجاز ہوگا۔

عدالت نے واضح کیا کہ حکم نامے میں دیے گئے تمام مشاہدات عبوری نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد صرف ضمانت کی درخواستوں کا فیصلہ کرنا ہے، یہ ٹرائل کے دوران کسی بھی فریق کے مؤقف یا شواہد پر اثرانداز نہیں ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے