وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شیخ الجامعہ کراچی کی مدت ملازمت میں توسیع کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ نئے وائس چانسلر کے لیے بیوروکریسی سے افسران کی چھان بین کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے جامعہ کراچی بھیجی جانے والی انسپکشن کمیٹی کے سربراہ کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کی کوشش بھی ناکام بنا دی گئی، جبکہ بااثر حلقوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے جامعہ کراچی کے کچھ ریٹائرڈ افسران کی جانب سے ڈاکٹر سروش لودھی کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی مہم چلانے پر تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔ ادھر جامعہ کراچی میں ڈاکٹر خالد محمود عراقی کے قریبی حلقوں میں موجود خواتین کے گروہ کو بھی بااثر حلقوں کے سخت ردعمل کے بعد ہراساں کرنے کی مہم سے پیچھے ہٹا دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گزشتہ جمعہ کو جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری کو یکسر مسترد کر دیا۔ اس اہم فیصلے نے جامعہ کراچی کی انتظامی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔
یاد رہے کہ 26 مارچ 2026 کو سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع کی جانب سے جاری اشتہار میں واضح کیا گیا تھا کہ 27 جولائی 2026 کو وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کی مدت ملازمت مکمل ہو جائے گی۔
ذرائع کے مطابق سمری میں وزیر اعلیٰ سندھ کو دو آپشنز دیے گئے تھے: ایک یہ کہ موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کی مدت ملازمت میں توسیع کر دی جائے، یا پھر نئے وائس چانسلر کی تعیناتی کے لیے سرچ کمیٹی کے ذریعے عمل شروع کیا جائے۔ اس حوالے سے حتمی اختیار وزیر اعلیٰ سندھ کے پاس تھا۔
جمعہ 10 اپریل کو وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے توسیع کے آپشن کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے سرچ کمیٹی کے ذریعے نئے وائس چانسلر کی تلاش کی منظوری دے دی۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر سابق وائس چانسلر جامعہ این ای ڈی ڈاکٹر سروش لودھی کی سربراہی میں انسپکشن کمیٹی نے جامعہ کراچی کے مختلف اہم شعبہ جات کا تفصیلی دورہ کیا، اور اس کی رپورٹ بھی جلد وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کی جائے گی۔
تاہم اس دوران ایک غیر معمولی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب کمیٹی کے سربراہ کو شیخ الجامعہ آفس میں اثر و رسوخ رکھنے والی ایک خاتون نے مبینہ طور پر متاثر کرنے کی کوشش کی، تاہم کمیٹی سربراہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اس کوشش کو وہیں ناکام بنا دیا۔
ذرائع کے مطابق اس واقعے سے قبل جامعہ کراچی میں اثر و رسوخ رکھنے والے ایک ریٹائرڈ افسر نے سوشل میڈیا کے ذریعے ڈاکٹر سروش لودھی کے خلاف مالی اسکینڈل کی مبینہ مہم شروع کی۔ اس مہم کے ذریعے جامعہ این ای ڈی میں ہونے والے مختلف مالیاتی اسکینڈلز کو ڈاکٹر سروش لودھی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔
اسی دوران جامعہ کراچی میں ریٹائرڈ اور موجودہ خواتین پروفیسرز کے ایک گروہ نے بھی شیخ الجامعہ آفس میں اثر و رسوخ رکھنے والی خاتون کو استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر سروش لودھی کے خلاف مبینہ ہراسانی کی درخواست دائر کروانے کی کوشش کی۔یہ معاملہ وزیر اعلیٰ ہاؤس تک پہنچا، جہاں اس کے شواہد بااثر حلقوں کو بھی فراہم کیے گئے۔
بااثر حلقوں نے فوری اور سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح پیغام دیا کہ اس طرح کی منظم مہمات اور دباؤ ڈالنے کی کوششیں برداشت نہیں کی جائیں گی۔ اس کے بعد نہ صرف یہ گروہ پیچھے ہٹ گیا بلکہ سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم بھی اچانک دم توڑ گئی۔
ذرائع کے مطابق اب اس مہم میں ملوث عناصر کے خلاف باضابطہ کارروائی اور تحقیقات کا فیصلہ بھی کیا جا چکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کی گئی تفصیلات کے بعد یہ تاثر مضبوط ہوا کہ انسپکشن کمیٹی کو متنازع بنانے اور توجہ ہٹانے کے لیے یہ تمام ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔
اسی تناظر میں وزیر اعلیٰ سندھ نے نہ صرف توسیع مسترد کی بلکہ نئے وائس چانسلر کی تعیناتی کے لیے گرین سگنل دے دیا، جس میں بیوروکریسی سے افسران کے نام زیر غور آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
انسپکشن کمیٹی کی رپورٹ میں کیا بڑے انکشافات سامنے آئیں گے؟
سوشل میڈیا مہم چلانے والوں کے خلاف کیا عملی کارروائی ہوگی؟
کیا واقعی جامعہ کراچی میں بیوروکریسی سے وائس چانسلر تعینات کیا جائے گا؟۔
جامعہ کراچی کی یہ تیزی سے بدلتی صورتحال نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ حکومتی ایوانوں میں بھی غیر معمولی دلچسپی کا باعث بن چکی ہے، اور آنے والے دنوں میں مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔