صرافہ بازار چھاپے پر ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل میں درج مقدمے میں نامزد ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات ہونے والے اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی مردان شاہ کے پرائیوٹ ڈرائیور بلال گرفتار نہیں ہوسکا ، اس مقدمے میں ملزم کا شناختی کارڈ نمبر لکھنے ،مکمل رہائشی پتہ اور والد کا نام بھی نہیں لکھا گیا ،ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کے حکم پر درج ادھورا مقدمہ یا تو ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی منتظر مہدی کی نااہلی ہے یا پھر وہ اپنی سب سے قابل اعتماد ٹیم کو بچانے کے لئے مبینہ حربوں کا استعمال کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس مقدمے کے نامزد ملزم کی گرفتاری سے ایف آئی اے کے دو اسسٹنٹ ڈائریکٹر ،دو انسپکٹر ،دو سب انسپکٹر ممکنہ طور پر زر میں آسکتے ہیں ،اسی لئے تاخیری حربے کے طور پر مقدمے میں ادھوری معلومات رکھی گئیں،کہ اہم ملزم گرفتار نہ ہو معاملہ طول اختیار کرئے گا تو فائل سرد خانے میں چلی جائے گی۔


تحقیقات ڈاٹ کام نے ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کی آسانی کے لئے ملزم بلال جس کا شناختی کارڈ کے مطابق مکمل نام محمد بلال ہے اس کا شناختی کارڈ نمبر4230151133091 ہے اور اس کے والد کا نام محمد رزاق ہے جو اولڈ ستی ایریا میں جامعہ اردو کے قریب ہی رہائش پزیر ہے ۔
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کی اس کارروائی میں جیولری شاپ کے مالک کو اس کے بیٹے کے سامنے تشدد کرنے کے ناقابل تردید شواہد کے باوجود ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی ہدایت پر درج مقدمے میں دفعہ 419 کا استعمال کیا گیا جو شناخت چھپانے کے زمرے میں آتا ہے ۔
قانونی ماہرین کے مطابق تاجر پر جسمانی تشدد کے باوجود دفعہ 351 اور 352 کا استعمال نہیں کیا گیا کیونکہ جس تاجر کے خلاف کارروائی کی گئی نا تو وہ مفرور ملزم تھا اور نا ہی وہ اشتہاری تھا پھر تاجر کی پرائیوٹ پراپرٹی میں بغیر اجازت داخل ہونے کے بعد تشدد کا نشانہ بنانے اور سنگین نتائج کی دھمکی دینا قابل تعزیز ہے ۔
قانونی ماہرین کے مطابق تاجر کو ہراساں کرنے پر جرم کے مرتکب پرائیوٹ شخص بلال ہر انسداد دہشت گردی یعنی 7 ATA کی دفعات کیا لاگو نہیں ہوتیں ہیں ؟.
قانونی ماہرین کے مطابق تاجروں کو خوف میں مبتلا کرنے اور عوامی مقامات پر تشدد کر کے کیا عوام کو ایف آئی اے کے نام سے خوف زدہ کرنے کا تاثر نہیں دیا گیا کیا ایف آئی اے کے اس عمل سے شہری زندگی متاثر نہیں ہوئی کیا تاجروں میں خوف نہیں پھیلا ،کیا قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا گیا
قانونی ماہرین کے مطابق تاجروں پر ان کی ہی پراپرٹی میں تشدد کرنے کے ناقابل تردید شواہد بتاتے ہیں کہ اس موقع پر موجود ایف آئی اے کے افسران اور ان کے روئیے ثبوت ہیں کہ پرائیوٹ شخص کی جانب سے تاجر پر تشدد اور خوف و ہراس میں مبتلا کرنے میں سہولت کار بننے ہوئے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق کیا اس پوری صورتحال میں موقع پر موجود تمام افسران پر وہ ہی الزام عائد نہیں ہوتا کیا یہ افسران بھی اس مقدمے میں بطور نامزد ملزم شامل ہوں گے؟
قانونی ماہرین کے مطابق تاجر کی پرائیوٹ پراپرٹی میں داخل ہونے ،تاجروں میں خوف وہراس پھیلانے جیسے سنگین جرائم کی دفعات کیا اس مقدمے میں اندارج نہیں ہوں چائیے تھی؟
تاجروں کی ایک بڑی تعداد یہ جاننے میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں کہ جیولرز کی دکان میں گھسنے والا پرائیوٹ شخص بلال ایف آئی اے کے کن افسران کا منظور نظر ہے جس کے لئے قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کی ٹیم میں شامل پرائیوٹ شخص کے خلاف درج کمزور مقدمے کا اندراج کر کے حقائق سے چشم پوشی کی جارہی ہے اور تاجروں کی آنکھ میں دھول جھونکنے کی ایک کوشش ہے ۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران ایف آئی اے کی وردی میں ملبوس افسران و اہلکاروں کی جانب سے تشدد کرنے والوں کے خلاف اینٹی ٹارچر سیل میں کب مقدمہ ہوگا کیا ایف آئی اے اس معاملے کو بھی دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔؟
یاد رہے کہ 14 مئی کو صدر کے علاقے میں واقع صرافہ بازار میں العمران ڈائمنڈ اینڈ جیولرز میں کارروائی کے دوران سوشل میڈیا پر آنے والی ویڈیوز ریکارڈنگ میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کی ریڈنگ ٹیم میں شامل پرائیوٹ شخص پر ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کی ہدایت پر ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل میں مقدمے کا اندراج کیا گیا اس مقدمے میں ریڈنگ ٹیم کا حوالہ بھی دیا گیا ہے کہ اس کارروائی میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل سے جانے والی ریڈنگ ٹیم میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر رباب۔ قاضی ،سب انسپکٹر اقبال ،انسپکٹر سہیل شیخ ،انسپکٹر اشرف جان ،سب انسپکٹر عدنان دلاور سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔
ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل میں درج ہونے والے اس مقدمے میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملزم یا گرفتار ہوگا یا ضمانت قبل از وقت گرفتاری حاصل کر کے تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوگا جہاں اس نے اپنا بیان قلمبند کرانا ہے جس کے بعد دلچسپ صورتحال ہوگی ۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ملزم بلال یہ کہتا ہے کہ اسے ریڈنگ ٹیم میں شامل ہونے کے لئے ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی نے ہدایت کی تو ابتدائی چالان میں یہ رپورٹ ہوگا اور پھر اعلی حکام اس حوالے سے فیصلہ کریں گے کہ انہیں نامزد کیا جائے یا پھر باز پرس کی جائے ۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر ملزم بلال تفتیشی افسر کو بیان میں یہ کہتا ہے کہ وہ سرکل کے ڈپٹی ڈائریکٹر اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی مردان شاہ کے کہنے پر شامل ہوا تو اس مقدمے کے چالان میں علی مردان شاہ کو بھی نامزد کیا جائے گا تاہم فیصلہ اعلی حکام ہی کریں گے اور یہ بھی فیصلہ کریں گے کہ یہ اور کن کارروائیوں میں شامل رہا یا صرف اس مقدمے کی حد تک ہی اس تفتیش کو رکھیں گے ۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر ملزم بلال اپنے بیان میں کہتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اس ریڈنگ ٹیم میں شامل ہوا تو بھی ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کے اس وقت کے ڈپٹی ڈائریکٹر اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی مردان شاہ سمیت اسسٹنٹ ڈائریکٹر رباب قاضی ،ایس ایچ او اقبال سمیت تمام افسران اس مقدمے کے چالان میں ملزم بن سکتے ہیں کہ کیسے ان کی نااہلی سے ایک پرائیویٹ شخص ریڈنگ ٹیم میں شامل ہوا ۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ تفتیشی افسر اور ایف آئی اے کے اعلی حکام پر منحصر ہے کہ وہ اس کیس کی تحقیقات کو کہاں تک پھیلا سکتے ہیں اور ایک نظیر قائم کرسکتے ہیں کہ ایف آئی اے میں اس طرح کے اقدامات سے افسران باز رہیں ۔
زرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کے اس مقدمے میں ڈائریکٹر جنرل آفس خاصی دلچسپی رکھتے ہیں اور اس واقعہ کی ہر پیش رفت پر از خود معلومات کے رہے ہیں ۔دوسری جانب کراچی زونل آفس میں اس کیس میں پیش رفت سے عدم دلچسپی کئی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ معاملہ کو طول دینے کے لیے سست رفتاری سے کیس کی تفتیش پر مبینہ طور پر اثر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔