fia_logo

صرافہ بازار میں جیولری شاپ پر چھاپے نے ایف آئی اے کراچی زون کی بنیاد ہلا دی ہے ،ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی کے بااعتماد اور جونیئر سرکل ہیڈ اور ان کی ٹیم تحقیقات کی زد میں آگئی ہے، علی مردان شاہ کے پرائیوٹ ڈرائیور کے خلاف ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے تاہم اس مقدمے میں اس کی تاحال گرفتاری نہیں ہوئی ہے ۔

چند برس قبل ایف آئی اے لاہور زون سے کراچی تبادلہ ہوکر آنے والے اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی مردان شاہ نے کارپوریٹ کرائم سرکل میں تعیناتی کے دوران کراچی زون پر دھیرے دھیرے گرفت حاصل کرنا شروع کی یاد رہے کہ 2015 میں ایف آئی اے اے ایس آئی بھرتی ہونے والے علی مردان شاہ سے متعلق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے کراچی زون کے دورے میں دربار کے دوران ایف آئی اے افسران سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ علی مردان ایک اچھا افسر تھا اور جب اس وقت انسپکٹر کی نوکریاں آئیں تو انہوں نے ایک خاص شخصیت کے ذریعے سفارش کروائی تھی ہم نے بھی اس لئے سفارش مان لی تھی کہ افسر اچھا ہے پھر انہوں نے بھرے دربار میں علی مردان کو آواز دے کر کہا کہ علی بتاؤ کہ سفارش کروائی تھی یا نہیں؟۔

لاہور سے ایف آئی اے کراچی زون میں آنے کے بعد علی مردان شاہ اور ان کے بیج میٹ عمید بٹ ساتھ مل کر اپنی ٹیم تشکیل دینا شروع کی جو کہ ایف آئی اے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ان کے بیج میٹس پر مشتمل تھی، اور 2025 میں صرف چند سالوں میں ایف آئی اے کراچی زون پر منصوبہ بندی کے زریعے گرفت مضبوط کردی گئی جس کے لئے پہلے انہوں نے لاہور زون سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شاہد میو کو کراچی تبادلہ کروایا گیا جس وقت انہیں کراچی بلوایا گیا اس وقت شاہد میو ایک حساس مقدمے میں جعل سازی اور بدنیتی پر تحقیقات کی زد میں تھے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لئے کراچی منتقل کیا گیا اور انہیں اینٹی منی لانڈرنگ سیل میں اہم ٹاسک کے ساتھ زمہ داری دی گئی اس وقت اینٹی منی لانڈرنگ سیل میں ارمغان کے خلاف مقدمے کا اندراج کیا گیا تھا اور اس مقدمے کی تحقیقات میں بھی شاہد میو کی بدنیتی اور جعل سازی کی شکایات اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختار راجہ کو ملی جس کے بعد انہوں نے ایف آئی اے لاہور کی تحقیقات پر شاہد میو کو نوکری سے برطرفی کے احکامات دئیے تھی ۔

اس کے بعد اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی مردان شاہ جنہیں اینٹی منی لانڈرنگ سیل کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا چارج دیا گیا تھا ان کے خلاف بھی شکایات کے انبار لگ گئے تھے جس کی بنیاد پر اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل راجہ رفعت مختار نے انہیں عہدے سے ہٹا دیا تھا بعد ازاں ڈاکٹر عثمان انور نے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر آنے کے بعد انہیں ایف آئی اے کا سب سے حساس سرکل ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کا چارج دے دیا گیا اس تعیناتی کے ساتھ ہی ایف آئی اے کراچی زون کے ڈائریکٹر منتظر مہدی کے سب سے بااعتماد افسر کے طور پر علی مردان شاہ کا نام سامنے آیا اور یہاں سے اصل کہانی شروع ہوئی۔

ایف آئی اے کراچی زون میں علی مردان شاہ کی درخواست پر لاہور زون کی انکوائری میں معطل ہونے والے اسسٹنٹ ڈآئریکٹر شیراز عمر کو بحال ہوتے ہی ایف آئی اے کراچی زون میں اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل میں تعینات کردیا گیا تھا جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ملک ساجد محمود کو کراچی زون تبادلہ کر کے انہیں کمرشل بینکنگ سرکل تعینات کروایا گیا ۔

اسی طرح لاہور زون سے کراچی تبادلہ کر لائے جانے والے اسسٹنٹ ڈائریکٹر رانا فیصل کو نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کراچی میں تعینات کروایا گیا اسی طرح ایف آئی اے کے سابق افسر فضل جاٹ کے بیٹے اسسٹنٹ وقاص ورک کو گوادر سے کراچی خصوصی فرمائش پر تبادلہ کروانے کے بعد انہیں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل میں تعینات کیا گیا ۔

علی مردان شاہ نے کراچی زون میں گرفت مضبوط کرنے کے ساتھ ایف آئی اے ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں بھی من۔پسند افسران کی تعیناتی کروائی جس میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کے پی ایس او وقاص بشیر بھی شامل تھے جسے موجودہ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کو مبینہ طور پر معلومات ملیں جس پر اس کا تبادلہ کروادیا گیا اسی طرح ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر میں ایچ آر سیکشن میں اپنے من پسند افسران تعینات کروائیے گئے تاکہ کراچی زون سے ان کے خلاف آنے والی شکایات یا تبادلے کے نوٹیفکیشن پر عمل درآمد کو رکوایا جائے جس کی سب سے اہم مثال اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمید بٹ کا کوئٹہ تبادلے کے نوٹیفکیشن پر کئی ماہ سے عمل نہیں ہوا اور اس نوٹیفکیشن نا ہی مبینہ طور پر ختم ہوا اور نا ہی اس پر عمل درآمد ہوا ۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کے صرافہ بازار چھاپے کے دوران غیر پیشہ وارانہ مہارت کھل کر سامنے آئی اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے اسی نااہلی کی بنیاد پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی مردان شاہ جنہیں ڈپٹی ڈائریکٹر کا سینئرعہدہ سونپا گیا تھا اسے عہدے سے ہٹا کر ایف آئی اے اسلام آباد ہیڈکوارٹر رپورٹ کرنے کے احکامات دئیے گئے ایف آئی اے کراچی زون کے ڈائریکٹر اس نوٹیفکیشن کو مبینہ طور پر روکنے کی بھرپور کوشش کرتے رہے جس کر ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے ایک نہیں سنی اور ہیڈکوارٹر سے ان کے تبادلے کا نوٹیفکیشن جاری کروادیا اور ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون کو علی مردان شاہ کے پرائیوٹ ڈرائیور بلال کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے احکامات دئیے اور ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی میں انسپکٹر عادل ملک کو مقدمہ درج کروانے کا حکم دیا ۔

اس مقدمے میں کراچی کے صرافہ بازار صدر میں ایف آئی اے کے متنازع چھاپے کے بعد ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے چھاپے کے دوران خود کو ایف آئی اے افسر ظاہر کرنے والےپرائیویٹ شخص کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق مقدمہ نمبر26 /12 مورخہ 18 مئی 2026 کو درج کیا گیا۔ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 419 (دھوکہ دہی سے کسی اور کا روپ دھارنا) کے تحت درج ہوا۔

ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ محمد بلال ولد نامعلوم کے خلاف درج کیا گیا، جس پر الزام ہے کہ وہ صرافہ بازار میں واقع عمران جیمز جیولز اینڈ واچز پر ایف آئی اے کے چھاپے کے دوران خود کو ایف آئی اے کراچی زون کا اہلکار ظاہر کرکے کارروائی میں شریک ہوا۔

ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر کرائم ایف آئی اے کراچی زون کو اطلاع ملی کہ ایک شخص عمران عرف عمران ڈائمنڈ سونا اور چاندی کی اسمگل شدہ اشیا کی خرید و فروخت میں ملوث ہے۔ اس اطلاع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر رباب قاضی ، ایس ایچ او محمد اقبال، انسپکٹر شیخ سہیل اور دیگر افسران پر مشتمل ٹیم نے 14 مئی 2026 کو صدر میں واقع دکان پر چھاپہ مارا۔ایف آئی اے کے مطابق چھاپے کے دوران رجسٹر، لیجرز اور تین موبائل فون تحویل میں لیے گئے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق چھاپے کے دوران دیکھا گیا کہ محمد بلال نامی شخص خود کو ایف آئی اے اہلکار ظاہر کرتے ہوئے کارروائی میں شریک ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ بعد ازاں اس کے خلاف فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کی گئی جس میں اسے الزامات کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

دوسری جانب ایف آئی اے کراچی زون نے اس واقعہ پر ایک رسمی بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون نے صرافہ بازار واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری قانونی اور محکمانہ کارروائیوں کی ہدایات جاری کر دیں۔

ترجمان کے مطابق واقعے میں ایک شہری کو تھپڑ مارنے میں ملوث پرائیویٹ شخص کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

واقعے میں موجود دو افسران کو معطل کر دیا گیا ہے،انچارج ایف آئی اے اے سی سی کراچی اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید علی مردان شاہ کو عہدے سے ہٹا کر ہیڈکوارٹر کلوز کر دیا گیا ہے۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر رباب قاضی کو ایف آئی اے اے سی سی سے ٹرانسفر کر کے ایف آئی اے اے ایچ ٹی سی تعینات کر دیا گیا ہے۔

واقعے میں موجود تمام افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمانہ انکوائری بھی شروع کر دی گئی ہے تاکہ تمام پہلوؤں کا مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون نے واضح کیا ہے کہ اختیارات سے تجاوز، غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور قانون سے متصادم کسی بھی اقدام کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ایف آئی اے قانون کی بالادستی، شفافیت اور احتساب کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے اور ہر سطح پر بلاامتیاز کارروائی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

ایف آئی اے کراچی زون شہریوں کے اعتماد، پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور قانون کی عملداری کے لیے پرعزم ہے۔اس مقدمے کے اندراج نے کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ

ایک نجی شخص ایف آئی اے کی ٹیم کے ساتھ چھاپے تک کی

کیا کسی ایف آئی اے افسر نے اسے ساتھ لے جانے کی اجازت دی؟

اگر اس نے دکاندار پر تشدد کیا تو متعلقہ افسران کے خلاف کیا کارروائی ہوگی؟

جیولرز ایسوسی ایشن پہلے ہی دعویٰ کر چکی ہے کہ چھاپے کے دوران نجی شخص نے دکاندار کو تھپڑ مارا، جس کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اس واقعے کے بعد ایف آئی اے نے بعض اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی۔

ایف آئی اے کی ساکھ پر سوال
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے ہیڈکوارٹر نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے کیونکہ کسی نجی شخص کا حساس کارروائی میں شامل ہونا نہ صرف قانونی بلکہ ادارہ جاتی طور پر بھی سنگین معاملہ سمجھا جا رہا ہے۔

یہ مقدمہ بظاہر ایک فرد کے خلاف درج کیا گیا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ اسے ایف آئی اے کی کارروائی کا حصہ بننے کا موقع کس نے فراہم کیا۔ اگر اس سوال کا جواب نہ ملا تو یہ مقدمہ محض رسمی کارروائی تصور کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے