Screenshot_2025_0709_042642

ملک کی سب سے بڑی جامعات میں شمار ہونے والی University of Karachi میں نئے شیخ الجامعہ (وائس چانسلر) کی تقرری کے لیے غیر معمولی سرگرمیاں جاری ہیں، اور اس اہم عہدے کے لیے تقریباً 70 امیدوار میدان میں آچکے ہیں۔ درخواست گزاروں میں موجودہ وائس چانسلر، جامعہ کے سینئر اساتذہ، ریٹائرڈ پروفیسرز اور اعلیٰ انتظامی افسران شامل ہیں۔

گزشتہ سات برس سے جامعہ کراچی کی سربراہی کرنے والے Professor Khalid Iraqi اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے متحرک ہیں اور مختلف سطحوں پر رابطوں اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ ہاؤس نئے وائس چانسلر کی تقرری کے حق میں دکھائی دیتا ہے۔ اسی تناظر میں حالیہ دنوں موجودہ وائس چانسلر کی بیرون ملک روانگی کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کردی گئی کہ پہلے جامعہ میں جاری اساتذہ اور ملازمین کی احتجاجی تحریک ختم کرائی جائے، اس کے بعد ہی رخصت کی منظوری پر غور کیا جائے گا۔

جامعہ کراچی میں جاری احتجاجی تحریک نے وائس چانسلر کی تقرری کے پورے عمل پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ احتجاج کے باعث وزیراعلیٰ ہاؤس کے ایک مضبوط سمجھے جانے والے امیدوار کے امکانات تقریباً ختم ہو چکے ہیں، جبکہ اب ایک سینئر ایڈمنسٹریٹر کے بطور نئے اور طاقتور امیدوار سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ادھر سندھ حکومت نے جامعہ کراچی میں قائم مقام وائس چانسلر تعینات کرنے کا فیصلہ بھی فی الحال مؤخر کردیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق حکومت تقرری کے عمل کو مکمل کرکے مستقل شیخ الجامعہ تعینات کرنا چاہتی ہے تاکہ جامعہ میں انتظامی استحکام بحال کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق نئے وائس چانسلر کے نام کا حتمی فیصلہ عیدالاضحیٰ کے بعد متوقع ہے۔ سرچ کمیٹی کی سفارشات، سیاسی مشاورت اور اعلیٰ سطح کے غور و خوض کے بعد اس اہم تقرری کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

جامعہ کراچی میں نئے شیخ الجامعہ کی تقرری اب محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں رہی بلکہ یہ تعلیمی، انتظامی اور سیاسی اہمیت کا حامل معاملہ بن چکا ہے، جس پر جامعاتی حلقوں، اساتذہ تنظیموں اور حکومتی ایوانوں کی نظریں مرکوز ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے