Screenshot_2026_0514_134446

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں اربوں روپے کے چھالیہ اسمگلنگ میگا اسکینڈل مقدمے میں کسٹمز اینٹی اسمگلنگ کی خصوصی عدالت نمبر ون کراچی نے ایک اہم اور دور رس اثرات کا حامل فیصلہ سناتے ہوئے پولیس اور کسٹمز سے وابستہ سات افسران کو مقدمے سے بری کردیا، جبکہ نو ملزمان کی بریت کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔ایف آئی اے حکام عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے؟

عدالت نے جن افسران کو مقدمے سے بری کیا ان میں فدا حسین جانوری، اعجاز احمد، فیروز عالم جونیجو، واجد حسین، منظور حسین میمن، صلاح الدین وزیر اور سعید فاروقی شامل ہیں۔ عدالت نے ان کے ضمانتی مچلکے منسوخ کرتے ہوئے ضامنوں کو بھی بری الذمہ قرار دے دیا۔

دوسری جانب عدالت نے عثمان باجوہ، عامر تھیم، جمال ضیا، حسن سردار، حافظ محمد یونس، یاور عباس، منصور، طارق محمود اور محمد طیب کی بریت کی درخواستیں مسترد کردیں۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد ان ملزمان کے خلاف مقدمے کی کارروائی بدستور جاری رہے گی۔

عدالت نے مقدمے میں نامزد ملزمان سہیل، عابد اور حنیف ہارون کو چالان اور دیگر دستاویزات کی نقول فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ ساتھ ہی اشتہاری ملزمان داؤد، افتخار حسین عرف بلا اور سید اسد اشتیاق کاظمی کے ناقابل ضمانت وارنٹس پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرلی۔
ثاقف سعید اور بشیر بھٹو کے ضامنوں کو جاری نوٹسز پر بھی آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

مقدمے کی سب سے اہم پیش رفت میں عدالت نے چھالیہ اسکینڈل کے مرکزی کرداروں میں شمار ہونے والے ملزم حزیفہ کی تعلیمی اسناد جرمنی کے متعلقہ تعلیمی اداروں سے تصدیق کرانے کا حکم دے دیا۔
ملزم کے وکیل صفیان ایڈووکیٹ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے ہدایت کی کہ متعلقہ یونیورسٹی سے ای میل یا کورئیر کے ذریعے تعلیمی ریکارڈ کی تصدیق کرائی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس تمام عمل کے اخراجات درخواست گزار خود برداشت کرے گا۔

قانونی ماہرین کے مطابق اگر جرمن اداروں سے تعلیمی اسناد کے حوالے سے منفی یا متضاد رپورٹ موصول ہوئی تو یہ مقدمے کا رخ تبدیل کرسکتی ہے۔

عدالت آئندہ سماعت پر ملزم انور کی بریت کی درخواست، جمال ضیا کی موبائل فون واپسی کی درخواست اور دیگر ملزمان کی ضمانتوں کی توثیق یا منسوخی سے متعلق امور پر مزید کارروائی کرے گی۔

چھالیہ اسمگلنگ اسکینڈل میں ایک جانب افسران کو ریلیف ملا ہے تو دوسری جانب متعدد ملزمان کے خلاف مقدمہ مزید مضبوط ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ خصوصاً حزیفہ کی جرمن ڈگریوں کی تصدیق کا عدالتی حکم اس ہائی پروفائل کیس میں ایک نئے اور انتہائی اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے