سندھ حکومت نے University of Karachi کے نئے شیخ الجامعہ (وائس چانسلر) کی تعیناتی کے لیے جاری اشتہار میں اہم ترمیم کا فیصلہ کر لیا ہے۔ صوبائی کابینہ کی جانب سے امیدواروں کی عمر کی بالائی حد 62 برس سے بڑھا کر 65 برس کیے جانے کے بعد اب سابق اشتہار کی جگہ کورجینڈم (تصحیح شدہ اشتہار) جاری کیا جائے گا، جس سے کئی ریٹائرڈ اور موجودہ پروفیسرز ایک بار پھر مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کابینہ کے فیصلے کو قانونی حیثیت دینے کے لیے اسے صوبائی اسمبلی سے منظوری دلائی جائے گی۔ اسمبلی کی توثیق کے بعد جون کے اوائل میں نیا اشتہار جاری ہونے کا امکان ہے، جس کے بعد نئے وائس چانسلر کی تقرری کے لیے باقاعدہ عمل دوبارہ شروع ہوگا۔
ادھر موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کی مدت ملازمت مکمل ہونے کے قریب ہے، جس کے باعث عبوری انتظام کے طور پر کسی سابق وائس چانسلر کو قائم مقام شیخ الجامعہ مقرر کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد ازاں اسی شخصیت کو مستقل تعیناتی دلانے کی حکمت عملی بھی زیر غور آ سکتی ہے۔عمر کی حد میں اضافے کے فیصلے نے متعدد سینئر ماہرین تعلیم کی امیدوں کو نئی زندگی دے دی ہے۔
باخبر حلقوں کے مطابق پروفیسر جمیل کاظمی، پروفیسر نصرت ادریس اور پروفیسر احسان ولیم ممکنہ امیدواروں میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس فیصلے سے وہ ریٹائرڈ پروفیسرز بھی دوبارہ اہل قرار پائیں گے جو سابق اشتہار کے تحت عمر کی شرط پوری نہ ہونے کے باعث باہر ہو گئے تھے۔
دوسری جانب گزشتہ چند ماہ سے ڈائریکٹر ایوننگ پروگرام پروفیسر شبیہ الحسن کے لیے جاری مبینہ لابنگ کو دھچکا لگا ہے۔ انہیں موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کا قریبی ساتھی تصور کیا جاتا ہے، تاہم نئی عمر کی حد کے بعد ان کی پوزیشن پہلے جیسی مضبوط نہیں رہی۔
اسی طرح سابق وائس چانسلر NED University of Engineering and Technology ڈاکٹر سروش لودھی کے قریب سمجھے جانے والے ڈاکٹر حارث شعیب کے امکانات بھی محدود ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق امیدواروں کی درخواستیں سیکریٹری بورڈز و جامعات کے ذریعے Sindh Higher Education Commission کو بھجوائی جائیں گی، جہاں ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد تین نام وزیر اعلیٰ ہاؤس ارسال کیے جائیں گے۔ حتمی فیصلہ وزیر اعلیٰ سندھ کریں گے، جو انہی تین امیدواروں میں سے ایک کو جامعہ کراچی کا نیا وائس چانسلر مقرر کریں گے۔
جامعہ کراچی کی سربراہی کے لیے جاری اس اہم مرحلے نے تعلیمی حلقوں میں غیر معمولی سرگرمی پیدا کر دی ہے۔ عمر کی حد میں اضافے کے بعد نہ صرف کئی سابق نام دوبارہ منظرعام پر آ گئے ہیں بلکہ پس پردہ رابطوں، لابنگ اور جوڑ توڑ میں بھی نمایاں تیزی آ گئی ہے۔ اب نظریں جون میں جاری ہونے والے کورجینڈم اور وزیر اعلیٰ سندھ کے حتمی فیصلے پر مرکوز ہیں۔