Screenshot_2025_0708_194802

پاکستان کسٹمز آفیسرز ایسوسی ایشن نے سابق گورنر اسٹیٹ بینک پاکستان اور انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (IBA) کراچی کے سابق ڈین و ڈائریکٹر ڈاکٹر عشرت حسین کی جانب سے پاکستان کسٹمز کے افسران پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد، غیر مصدقہ اور ہتک آمیز قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ڈاکٹر عشرت حسین نے دعویٰ کیا کہ “پاکستان کسٹمز کے 100 افسران میں سے ہر ایک کے اثاثے 100 ملین امریکی ڈالر سے زائد ہیں۔” اعلامیے کے مطابق یہ دعویٰ نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ اس کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق ثبوت، نام یا ریکارڈ بھی پیش نہیں کیا گیا۔

پاکستان کسٹمز آفیسرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ یہ الزام سراسر قیاس آرائی، مبالغہ آرائی اور ادارے کو منظم طور پر بدعنوان ظاہر کرنے کی کوشش ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ہزاروں کسٹمز افسران مشکل حالات میں دیانت داری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ قومی خدمات انجام دے رہے ہیں، اور اس نوعیت کے عمومی الزامات ان کی ساکھ، عزت اور حوصلے کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ پاکستان کسٹمز ایک جامع قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کام کرتا ہے اور گزشتہ برسوں میں آٹومیٹڈ کلیئرنس سسٹم، جدید رسک مینجمنٹ اور ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے شفافیت، تجارت میں سہولت اور قومی خزانے کے لیے محصولات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ڈاکٹر عشرت حسین کے بیانات پاکستان کے قوانین، بشمول ہتکِ عزت آرڈیننس 2002 اور پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 کے تحت سول اور فوجداری ذمہ داری کا باعث بن سکتے ہیں۔ اعلامیے میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 14 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہر شہری کی عزت و وقار ایک ناقابلِ تنسیخ بنیادی حق ہے۔

پاکستان کسٹمز آفیسرز ایسوسی ایشن نے ڈاکٹر عشرت حسین کو قانونی نوٹس اور خط کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ وہ:
فوری طور پر غیر مشروط، واضح اور تحریری عوامی معافی جاری کریں؛
اپنے الزامات کی غلطی کا اعتراف کریں ،وہی معافی انہی پلیٹ فارمز، بشمول ایکس (سابق ٹوئٹر)، پر اسی نمایاں انداز میں نشر کریں؛
اور متعلقہ پلیٹ فارم نیا دور سے رابطہ کر کے مذکورہ ویڈیو کو تمام آن لائن پلیٹ فارمز سے مستقل طور پر حذف کروائیں۔

ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ وہ ادارہ جاتی اصلاحات اور تعمیری تنقید کا خیر مقدم کرتی ہے، تاہم بغیر شواہد کے لگائے گئے عمومی الزامات نہ صرف ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو مجروح کرتے ہیں بلکہ باصلاحیت افراد کو سرکاری خدمات اختیار کرنے سے بھی بددل کرتے ہیں۔

پاکستان کسٹمز افسران نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے محصولات کی وصولی، سرحدوں کی حفاظت اور ملکی اقتصادی مفادات کے دفاع میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے