Screenshot_2026_0524_101602

اسپیشل جج کسٹمز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی اسمگلنگ-II کراچی ڈاکٹر شابانہ وحید نے سیلز ٹیکس فراڈ، جعلی انوائسز اور مبینہ ٹیکس چوری سے متعلق 49 اہم مقدمات میں تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے تمام ملزمان کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265-K کے تحت بری کردیا ہے۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ ایف بی آر، آر ٹی اوز، سی ٹی او، ایل ٹی او اور ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کی جانب سے درج کیے گئے بیشتر مقدمات بنیادی قانونی، آئینی اور طریقہ کار کی خامیوں سے بھرپور تھے، جن کی موجودگی میں فوجداری کارروائی برقرار نہیں رکھی جاسکتی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلے “ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ایف بی آر بمقابلہ تاج انٹرنیشنل پرائیویٹ لمیٹڈ” (PLD 2025 SC 633) کے بعد کسی بھی ٹیکس دہندہ کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے سے قبل سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 11 کے تحت قانونی اسیسمنٹ، شوکاز نوٹس، سروس آف نوٹس اور ٹیکس واجبات کا حتمی تعین لازمی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ متعدد مقدمات میں ایف آئی آرز پہلے درج کی گئیں جبکہ اسیسمنٹ، شوکاز اور آرڈر اِن اوریجنل بعد میں جاری کیے گئے، جو قانون میں طے شدہ طریقہ کار کے برعکس ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ کئی مقدمات میں شوکاز نوٹس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا،
نوٹس کی قانونی سروس ثابت نہیں کی گئی،
اسیسمنٹ ex parte کی گئی،
آرڈر اِن اوریجنل موجود نہیں تھے،
اور ایف آئی آر میں درج ٹیکس رقم اور بعد کی اسیسمنٹ میں واضح تضاد پایا گیا۔

عدالت نے نشاندہی کی کہ بعض مقدمات میں ایف آئی آر میں کروڑوں روپے کے ٹیکس فراڈ کا الزام لگایا گیا، مگر بعد کی اسیسمنٹ میں رقم کم یا مختلف نکلی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجداری کارروائیاں غیر حتمی اور متنازع ٹیکس تخمینوں کی بنیاد پر شروع کی گئیں۔

خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 4 اور 10-A کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو due process اور fair trial کا حق حاصل ہے، جبکہ ٹیکس حکام کی جانب سے قانونی تقاضے پورے کیے بغیر گرفتاریوں اور ایف آئی آرز کا اندراج آئینی ضمانتوں کے منافی ہے۔

عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ محض جعلی انوائسز یا فلائنگ انوائسز کے الزامات لگا دینا کافی نہیں، بلکہ فوجداری کارروائی سے پہلے ٹیکس واجبات کا قانونی تعین ناگزیر ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ عدالت اس بات سے انکار نہیں کرتی کہ سیلز ٹیکس فراڈ سنگین جرم ہے، تاہم سنگین الزام بھی قانون اور آئین سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔

اسپیشل جج ڈاکٹر شابانہ وحید نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ: “قانونی اسیسمنٹ اور ٹیکس واجبات کے تعین کے بغیر ایف آئی آر، گرفتاری اور فوجداری کارروائی اختیار سے تجاوز اور غیر قانونی تصور ہوگی۔”

عدالت نے تمام ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرتے ہوئے انہیں بری کردیا، تاہم ایف بی آر اور متعلقہ ٹیکس حکام کو یہ آزادی بھی دی کہ وہ قانون کے مطابق دوبارہ اسیسمنٹ، ریکوری یا نئی کارروائی شروع کرسکتے ہیں، بشرطیکہ تمام قانونی تقاضے مکمل کیے جائیں۔

یہ فیصلہ ایف بی آر، ان لینڈ ریونیو اور ٹیکس فراڈ مقدمات کی تحقیقات کے نظام پر دور رس اثرات مرتب کرسکتا ہے، جبکہ قانونی حلقے اسے ٹیکس مقدمات میں “فوجداری کارروائی سے پہلے قانونی اسیسمنٹ” کے اصول کی ایک بڑی عدالتی توثیق قرار دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے