Screenshot_2026_0507_153058

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے اپنی مدت ملازمت مکمل ہونے سے 26 دن پہلے اپنی پسندیدہ طالبہ کو خلاف ضابطہ گریڈ 20 میں مستقل کرنے کے لئے مالیاتی و منصوبہ بندی کا اجلاس بلا لیا ۔

فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے ممبران کی کثیر تعداد موجودہ وائس چانسلر کے قریبی ساتھیوں پر مشتمل ہے ۔

ڈائریکٹر Oric ڈاکٹر حورالعین سمیت دیگر کے لئے سینڈیکیٹ 2025 میں منظوری دے چکی ہے کہ ان افسران و ملازمین کو گریڈ کے بجائے کنٹریکٹ افسر و ملازم تصور کیا جائے گا ۔

اس سے قبل جون 2023 میں انہیں ڈائریکٹر Oric کے لئے عدم تجربے کے باعث نااہل قرار دیا گیا تھا اس کے باوجود شیخ الجامعہ کراچی ڈاکٹر خالد عراقی نے انہیں ڈائریکٹر کے عہدے پر کی تعینات کیا تھا۔

سینڈیکیٹ کے اراکین نے چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن سمیت سندھ حکومت کی قریبی شخصیات کو تحریری اعتراض ارسال کردیا ہے ۔

دوسری جانب جامعہ کراچی میں ملازمین کی تنظیم انصاف پسند گروپ نے بھی درخواست جمع کرادی ہے ۔

جامعہ کراچی میں موجودہ شیخ الجامعہ نے اپنی مدت ملازمت مکمل ہونے سے 26 دن قبل فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے اس اجلاس کا ایجنڈا ممبران کو جاری کردیا ہے جس میں ایجنڈا نمبر 6 پر موجود ڈائریکٹر Oric سے متعلق ہے ۔

جس کا مراسلہ از خود ڈاکٹر حورالعین نے تحریر کیا اور مالی بحران کے دوران اپنی تنخواہ چار لاکھ روپے کے قریب تجویز کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ جامعہ کراچی کے فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کی صدارت شیخ الجامعہ کرتے ہیں جبکہ دیگر ممبران میں شعبہ زولوجی کی پروفیسر ڈاکٹر صالحہ رحمن جنہیں سینیٹ کی منظوری سے ایف پی سی کا رکن بنایا گیا ،صاحبزادہ معظم قریشی جنہیں سینڈیکیٹ کی منظوری سے رکن منتخب کیا گیا ،ڈین فیکلٹی آف فارمیسی اینڈ فارماسیوٹیکل ڈاکٹر حارث شعیب جنہیں شیخ الجامعہ نے بطور دین فیکلٹی منظوری دی ،ڈاکٹر ثمینہ سعید جن کی منظوری شیخ الجامعہ کی جانب سے ہوئی اسی طرح ڈائریکٹر فنانس اور رجسٹرار جامعہ کراچی اس کا حصہ ہیں ۔

ماہرین کے مطابق شیخ الجامعہ کراچی مالیات اور منصوبہ بندی سے متعلق اجلاس تو منعقد کرسکتے ہیں لیکن اخلاقی طور پر کوئی اہم فیصلہ نہیں کرسکتے کیونکہ وفاق اور صوبے میں بھی تعینات شخصیات اپنی مدت ملازمت کے 90 دن رہ جانے پر کوئی بڑا فیصلہ از خود نہیں لیتے ہیں اور صرف روز مرہ مسائل کو حل کرنے پر ہی دھیان دیتے ہیں ۔

تاہم ایف پی سی کے اس ایجنڈے سے واضح ہے کہ شیخ الجامعہ اپنی من پسند طالبہ ڈاکٹر حورالعین کو نوازنے کے لئے خلاف ضابطہ اقدام کرنے پر تیار ہیں جس کے لئے انہیں اس فورم پر مشکلات کم ہی ہوں گی کیونکہ اس فورم میں کثیر تعداد ان کی ہم خیال ہے۔

دوسری جانب جامعہ کراچی کی مالیاتی و منصوبہ بندی کمیٹی کا اہم اجلاس منگل کو منعقد ہو گا جس میں اہم و متنازعہ فیصلے کرنے کے امکانات و تحفظات سامنے آئے ہیں ۔

اس حوالے سے انصاف پسند گروپ نے مالی و انتظامی معاملات پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے اور ڈائریکٹر فنانس کو مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔

انصاف پسند گروپ جامعہ کراچی کے مراسلے کے مطابق وائس چانسلر کی مدت ملازمت 26 جولائی 2026 کو اختتام پذیر ہو رہی ہے، اور اس دوران انتظامیہ کی جانب سے بعض اہم تقرریوں اور فیصلوں میں ضابطوں کی خلاف ورزی اور اختیارات کا مبینہ غیر مناسب استعمال کیا جا رہا ہے۔

انصاف پسند گروپ کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر کی مدت ملازمت ختم ہونے کے قریب ہے، ایسے میں فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کا اجلاس طلب کر کے اہم تقرریوں کی منظوری لینے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ مخصوص افراد کو نوازنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بالخصوص ڈائریکٹر ORIC کے عہدے کے لیے جاری کردہ اشتہار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر حورالعین کے بارے میں جامعہ کراچی کے اساتذہ کی رائے ہیکہ وہ موجودہ VC کی شاگردہ ہیں ۔ دونوں کے آرٹیکلز بھی ایک ساتھ ہیں ۔ اور آخری سنڈیکیٹ اجلاس میں فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ ORIC کی تمام اسامیاں BPS کے بجائے کنٹریکٹ کی بنیاد پر پُر کی جائینگی ۔ تاہم ڈاکٹر حور العین کی خواش کیمطالق انہیں ڈائریکٹر ORIC مستقل بنیادوں پر بنایا جائے ۔

اس حوالے سے حورالعین نے ORIC کی خود سمیت 8 اسامیوں کو مستقل کرنے کی درخواست لکھی ۔ جس کو VC نے FPC کے ابجنڈے پر رکھوایا ہے تاکہ اس کا بجٹ منظور کرایا جائے جبکہ پہلے FPC اور سنڈیکیٹ دونوں منع کر چکے ہیں ۔ جب کہ ORIC کی ڈائریکٹر شپ کی بھرتی کا اشتہار بھی آ چکا ہے ۔

مراسلے میں ذکر کیا گیا ہے کہ کمپیوٹر آپریٹرز کی اپ گریڈیشن کا معاملہ، جسے حکومت سندھ نے 2020 میں منظور کیا تھا، انتظامیہ کی عدم توجہ کے باعث پانچ سال تک فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا گیا۔ مزید برآں، اس معاملے کو سلیکشن بورڈ سے مشروط کر کے مزید پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ جبکہ حکومت سندھ نے پالیسی واضح دے دی ہے۔

انصاف پسند گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ مجاز حکام تمام معاملات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں تاکہ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔

گروپ نے زور دیا ہے کہ اہم تقرریوں اور پالیسی نوعیت کے فیصلوں کو فی الحال مؤخر کیا جائے، کیونکہ ایسے فیصلوں پر تنازعہ یا اعتراض موجود ہے۔ جب تک شفاف اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی مکمل نہ ہو، تب تک ان فیصلوں سے گریز کیا جائے۔

انصاف پسند گروپ نے امید ظاہر کی ہے کہ جامعہ انتظامیہ ادارے کے وسیع تر مفاد، شفافیت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مناسب کارروائی عمل میں لائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے