این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی کے فوڈ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے اسٹاک رجسٹر کے لوکل آڈٹ میں 5 کروڑ 71 لاکھ 73 ہزار 640 روپے مالیت کی چار قیمتی مشینیں فزیکل ویری فکیشن کے دوران دستیاب نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
دستاویز کے مطابق مالی سال 2024-25 کے لیے فوڈ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے اسٹاک رجسٹرز کا لوکل آڈٹ سپرنٹنڈنٹ لوکل آڈٹ وسیم احمد کی جانب سے 6 اپریل 2026 سے 10 اپریل 2026 تک کیا گیا۔
آڈٹ رپورٹ میں مین اسٹور کے ڈیڈ اسٹاک رجسٹر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ آڈٹ اور اسٹور کی رینڈم فزیکل ویری فکیشن کے دوران متعدد مشینیں فوڈ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں موقع پر دستیاب نہیں تھیں۔
دستاویز کے مطابق دستیاب نہ ہونے والی مشینری میں
Hydrogenation Unit Computer Control ایک عدد، مالیت 2 کروڑ 18 لاکھ 24 ہزار 80 روپے
Deodourising Unit Computer Control ایک عدد، مالیت 1 کروڑ 74 لاکھ 59 ہزار 560 روپے
Continuous Cycle Oil Production Plant — ایک عدد، مالیت 1 کروڑ 9 لاکھ 90 ہزار روپے
FT-IR Spectrometer ایک عدد، مالیت 69 لاکھ روپے
شامل ہیں۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق پہلے تین آلات M/s Paktech Instruments Company سے جبکہ FT-IR Spectrometer M/s Nordtec International سے متعلق درج ہے۔
دستاویز میں مذکورہ سامان کی ڈیڈ اسٹاک رجسٹر میں متعلقہ صفحات بھی درج کیے گئے ہیں، جن میں بالترتیب صفحہ نمبر 135، 136، 137 اور 138 شامل ہیں۔
دستاویزات کے مطابق چاروں مشینوں کی مجموعی مالیت 57,173,640 روپے بنتی ہے۔ آڈٹ کا اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ مشینیں ریکارڈ میں موجود ہونے کے باوجود رینڈم فزیکل ویری فکیشن کے دوران متعلقہ شعبے میں دستیاب نہیں پائی گئیں۔
تاہم رپورٹ میں ان مشینوں کے بارے میں چوری، خردبرد یا کسی فرد کی جانب سے مالی بے ضابطگی کا حتمی الزام عائد نہیں کیا گیا بلکہ آڈٹ کے دوران ان کی موقع پر عدم دستیابی کی نشاندہی کی گئی ہے۔
یہ انکشاف اس امر کو اہم بنا دیتا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو کروڑوں روپے مالیت کی مذکورہ مشینری کے موجودہ مقام، منتقلی، استعمال، حوالگی اور اسٹاک ریکارڈ میں درج اندراجات کی وضاحت کرنا ہوگی۔
آڈٹ رپورٹ میں سامنے آنے والا بنیادی سوال یہی ہے کہ 5 کروڑ 71 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی مشینری جو سرکاری ریکارڈ میں موجود ہے، فزیکل ویری فکیشن کے وقت فوڈ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں کہاں تھی؟