Screenshot_2026_0804_234931

جامعہ کوہاٹ میں تقریباً 150 تدریسی اور غیر تدریسی بھرتیوں، انتظامی تقرریوں اور تبادلوں کے حوالے سے سنگین بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ میناس کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق متعدد تقرریاں خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ایکٹ، 2024 کی ترامیم، صوبائی کابینہ کے فیصلوں اور یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط سے انحراف کرتے ہوئے کی گئیں، جبکہ کئی معاملات میں میرٹ، قانونی تقاضوں اور ادارہ جاتی منظوریوں کو مبینہ طور پر نظرانداز کیا گیا۔

دستاویزات کے مطابق صوبائی کابینہ کے 36ویں اجلاس میں عائد پابندی کے باوجود جامعہ کوہاٹ میں 80 سے زائد لیکچررز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کو عارضی بنیادوں پر تعینات کیا گیا، جبکہ گریڈ ایک سے 16 تک 70 سے زائد ملازمین کو ڈیلی ویجز کے نام پر بھرتی کیا گیا۔

ریکارڈ کے مطابق ان تقرریوں میں نیڈ اسیسمنٹ، آؤٹ آف بجٹ منظوری، این او سی، اخباری اشتہار، سلیکشن کمیٹی، سنڈیکیٹ کی منظوری اور اوپن میرٹ جیسے لازمی تقاضوں کو مبینہ طور پر پورا نہیں کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض تقرریاں وزٹنگ فیکلٹی کے عنوان سے کی گئیں، حالانکہ ایکٹ کے تحت وائس چانسلر کو صرف وزٹنگ فیکلٹی رکھنے کا محدود اختیار حاصل ہے، مستقل نوعیت کے لیکچررز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کی تقرری اس اختیار میں شامل نہیں۔

دستاویزات کے مطابق اگست 2025 میں صوبائی کابینہ کے 36ویں اجلاس کے فیصلے کے تحت گریڈ ایک سے 14 تک نئی بھرتیوں کے لیے پیشگی منظوری اور اسیسمنٹ لازمی قرار دی گئی تھی، تاہم جامعہ میں پہلے سے ڈیلی ویجز ملازمین کی موجودگی کے باوجود مزید 50 سے زائد افراد کو کم از کم اجرت کے بجائے 60 ہزار روپے ماہانہ تک معاوضے پر بھرتی کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق جامعہ کے رجسٹرار کی تعیناتی بھی قانونی تنازع کا باعث بن گئی ہے۔ الزام ہے کہ گریڈ 19 کے افسر ضلعدار خان کو براہ راست گریڈ 20 کے رجسٹرار کے عہدے پر تعینات کیا گیا، جبکہ خیبر پختونخوا یونیورسٹیز (ترمیمی) ایکٹ 2024 کی دفعہ 13 کے مطابق رجسٹرار کی تقرری کے لیے یونیورسٹی کے تین سینئر ترین انتظامی افسران کے نام سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کے ذریعے وزیر اعلیٰ کو بھجوائے جانا لازمی ہے۔

دستاویزات کے مطابق جامعہ میں بہادر خان مہمند، ڈاکٹر محمد طارق خان، انجینئر محمد الطاف حسین، محمد ظفر خان، ڈاکٹر محمد ذیشان اور ڈاکٹر اسد حبیب سمیت متعدد گریڈ 20 کے سینئر افسران موجود ہونے کے باوجود ایک جونیئر افسر کو رجسٹرار مقرر کیا گیا، جسے قواعد سے انحراف قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق صرف بھرتیاں ہی نہیں بلکہ اہم انتظامی عہدوں پر بھی غیر معمولی ردوبدل کیا گیا۔ ڈائریکٹر ورکس انجینئر محمد الطاف حسین کو ان کے تکنیکی عہدے سے ہٹا کر پرووسٹ مقرر کیا گیا، جبکہ ان کی جگہ ایڈیشنل ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نادر سرفراز کو ڈائریکٹر ورکس تعینات کیا گیا۔ دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے پاس نہ انجینئرنگ کا مطلوبہ پس منظر ہے اور نہ ہی متعلقہ شعبے کا تجربہ ہے۔

اسی طرح چین سے پی ایچ ڈی کرنے والے انجینئر ڈاکٹر محمد رضوان کو ڈپٹی ڈائریکٹر ورکس سے ہٹا کر منیجر ORIC تعینات کیا گیا، جبکہ وائس چانسلر کے پرسنل سیکرٹری فیصل محمود، جن کا کیڈر اسٹینوگرافر کا ہے، انہیں ڈپٹی رجسٹرار اسٹیبلشمنٹ مقرر کیے جانے کو بھی قواعد کی مبینہ خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید برآں، تجربہ کار آئی ٹی ماہر روف خان کو ایڈیشنل ڈائریکٹر آئی سی ٹی کے عہدے سے ہٹا کر ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات مقرر کیا گیا، جبکہ ڈائریکٹر آئی سی ٹی کا اضافی چارج بھی ایک غیر متعلقہ افسر کو دے دیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر اسد حبیب کی بطور ڈائریکٹر ایڈمیشن تعیناتی پہلے ہی پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج ہو چکی ہے اور گورنر انسپکشن ٹیم بھی اس پر اعتراضات اٹھا چکی تھی۔

دستاویزات کے مطابق یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹر (YDC) کے بانی اور سربراہ پروفیسر ڈاکٹر کلیم سلطان کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا کر گریڈ 16 کے آفس اسسٹنٹ آصف علی کو مرکز کا انچارج مقرر کیا گیا۔ ذرائع اس فیصلے کی وجہ وائس چانسلر سے مبینہ قریبی رشتہ داری قرار دیتے ہیں، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

دستاویزات میں سامنے آنے والے ان معاملات کے بعد جامعہ کوہاٹ میں بھرتیوں، تقرریوں اور انتظامی فیصلوں کی شفافیت پر اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔ جامعہ کوہاٹ کی انتظامیہ کا مؤقف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر کی اشاعت تک کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔ انتظامیہ کا مؤقف موصول ہونے پر اسے بھی اسی اہمیت کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے