fbr-and-pakistan-customs

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کسٹمز ایکٹ 1969 کے سیکشن 98 کے تحت ایک اہم ایس آر او1629 جاری کیا ہے جس کے ذریعے 27 فروری 1999کو جاری کردہ پرانے ایس آراو125کو منسوخ کرتے ہوئے جلدی خراب ہونے والی اشیاء کی نئی اور جامع فہرست کا اعلان کر دیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں شامل 29 مختلف اشیاءو اجناس کی فہرست میں چھالیہ سمیت پان ، مکھن ، پنیر، ناریل،* ایکسرے فلمیں ، کھجور، ڈرائی فروٹ / خشک میوہ جات ، انڈے، ادرک، غیر ضروری / ناکارہ تیل اور روغنی بیج، اناج / غذائی اجناس ، مچھلی ،لہسن،خام اور پروسیس شدہ چمڑا/کھالیں ، درخت، پودے اور ان کی جڑیں، خشک دودھ / ملک پاﺅڈر ،گوشت، پیاز، سیب ، مٹھائیاں اور کنفیکشنری ، مشروبات / سافٹ ڈرنکس ، چینی ، مصالحہ جات ،شربت، جام، جیلی، مارملیڈ، کیچپ اور دیگر چٹنیاں ، پروسیس شدہ تمباکو کے علاوہ دیگر تمباکو، چائے، کوکو اور کافی، کھانے کے قابل نباتاتی تیل اور تمام دیگر سبزیوں ،پھل کو بھی جلدی خراب ہونے والی اشیاءکی فہرست میں برقرار رکھا گیا ہے تاکہ اس کی کلیئرنس اور ویئر ہاﺅسنگ سے متعلق امور کو قواعد کے مطابق سنبھالا جا سکے۔

ایف بی آر کی جانب سے نوٹیفکیشن میں ایک اہم استثنیٰ بھی شامل کیا گیا ہے جس کے مطابق محفوظ، کین، بوتل یا ڈبوں میں بند ایسی تمام اشیاءخوردونوش جن پر تیاری کی تاریخ اور ایکسپائری ڈیٹ درج ہوگی، انہیں ویئر ہاﺅسنگ سرچارج کے مقاصد کے لیے جلدی خراب ہونے والی اشیاءشمار نہیں کیا جائے گا۔

اس سہولت کے لیے شرط عائد کی گئی ہے کہ ان اشیاءکو کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاﺅسز میں مینوفیکچرر کی ہدایت کے مطابق رکھا جائے گا اوردرآمد کنندہ یا کلیئرنگ ایجنٹ ان ٹوبانڈ گڈز ڈیکلریشن فائل کرتے وقت یہ سرٹیفکیٹ پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کا پابند ہوگا جبکہ ویئر ہاﺅس کا لائسنس ہولڈر طے شدہ فارمیٹ پر یہ سرٹیفکیٹ پورٹل پر اپ لوڈ کرے گا کہ اس کے پاس ان اشیاءکو محفوظ رکھنے کے تمام تر جدید آلات اور سہولیات موجود ہیں۔

ایف بی آر نے چیف کلکٹر (ساوتھ اپریزمنٹ) کے کو ہدایت کی ہے کہ نظام میں ضروری تبدیلیوں کے لیے پی ایس ڈبلو اورویبوک کی ٹیموں سے فوری رابطہ کیا جائے جبکہ اس نئے ایس آر او کا باقاعدہ اطلاق 15اکتوبر 2026 سے ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے