جامعہ کراچی میں سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کے قریب سمجھے جانے والی ڈائریکٹر ORIC حورالعین کےکنٹریکٹ میں توسیع نہیں ہوسکی ۔جامعہ کراچی کے شعبہ فزیکس کے پروفیسر ڈاکٹر نعیم کو اضافی چارج سونپ دیا گیا ۔

ایڈیشنل چارج کے حامل وائس چانسلر نے مبینہ خواہش کا اظہار کیا تھا کہ کنٹریکٹ میں توسیع کردی جائے تاہم ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے جامعہ کراچی کے حوالے سے سی آئی سی کی رپورٹ دکھا دی جس پر موجودہ وائس چانسلر بھی خاموش ہوگئے۔
جامعہ کراچی میں سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کی سب سے بااعتماد اور طالبہ حورالعین کے کنٹریکٹ میں توسیع نہیں ہوسکی ہے ۔
یاد رہے کہ سابق وائس چانسلر نے مدت ملازمت ختم ہونے سے قبل سینڈیکیٹ کا اجلاس طلب کیا تھا جس میں حورالعین کو کنفرم کرنے کے ساتھ انہیں گریڈ 20 میں تعینات کیا جانا تھا تاہم س سینڈیکیٹ کے اجلاس میں سندھ حکومت نے رکاوٹ ڈال دی اور نوٹیفکیشن جاری کیا کہ مستقل وائس چانسلر ہی اس سینڈیکیٹ کے اجلاس کے ایجنڈے کی منظوری حاصل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اس لئے نا ہی وہ مستقل ہوسکیں اور ناہی ان کے کنٹریکٹ میں توسیع ہوسکی ہے ۔
زرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل جوکھیو نے اعلی حکام سے سفارش کی کہ حورالعین کے کنٹریکٹ میں توسیع کردی جائے تاہم ان کی سفارش منظور نہیں کی ہے ۔
واضح رہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ماتحت شعبہ ریسرچ انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) کو سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کے دور میں شخصی پسند و ناپسند کی بھینٹ چڑھا کر نہ صرف میرٹ کا قتل کیا بلکہ یونیورسٹی کی انتظامی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔
جامعہ کراچی میں ریسرچ انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کے قیام کا مقصد ریسرچ انڈسٹریز کو جامعہ سے منسلک کرنا ہے تاہم یہاں صرف انڈسٹریز کے ساتھ مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط اور زاتی تعلقات بنانے کے اور کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ،جامعہ کراچی کے اساتذہ نیشنل ریسرچ پروجیکٹ یونٹ (این آر پی یو) سے از خود ریسرچ حاصل کرتے ہیں از خود فنڈنگ کی کوششیں کرتے ہیں۔
۔ریسرچ انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کی ڈائریکٹر کی نااہلی کے باعث جامعہ کراچی دنیا بھر کی ریسرچ جامعات کے بجائے صرف ڈگری فراہم کرنے والا ایک ادارہ بن گئی ہے جس کی وجہ سے جامعہ کراچی میں داخلے کے لئے آنے والے طالب علموں کا رجحان ہر برس کم ہورہا ہے۔
یاد رہے کہ ORIC کا پورا بجٹ ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے مختص ہوتا ہے، لیکن اس پورے ادوار میں یہ شعبہ مکمل طور پر غیر فعال ہو چکا ہے۔
اساتذہ کو اپنی ریسرچ یا پراجیکٹ ڈیٹا جمع کرانے کے لیے آج بھی ای میل پر ذاتی معلومات بھیجنا پڑتی ہیں، کیونکہ دو برس میں کوئی ڈیجیٹل سسٹم متعارف نہیں کرایا گیا۔
ریسرچ انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کا دفتر جس کا مقصد عالمی سطح پر جامعہ کراچی کا تشخص بہتر بنانا تھا، سابق وائس چانسلر کے دور میں ذاتی مفادات اور فیورز کی آماجگاہ بنا رہا تھا۔