Screenshot_2025_1129_150306

کراچی کے معروف ہوٹلیئر اور سابق جنرل منیجر ریجنٹ پلازہ ہوٹل شیخ خالد احمد کے مبینہ اغوا اور ڈیفنس پولیس کی مبینہ عدم کارروائی کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ پہنچ گیا، جہاں آئینی بینچ نے ڈی جی رینجرز سندھ، آئی جی سندھ پولیس، سیکرٹری داخلہ سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی ساؤتھ، ایس ایس پی ساؤتھ، ایس ایچ او تھانہ ڈیفنس سمیت دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔

آئینی درخواست نمبر D-4813 کے مطابق، 26 جولائی کی رات 10 بج کر 51 منٹ پر ڈیفنس فیز II میں واقع ایک گیسٹ ہاؤس پر پولیس اہلکاروں کے ہمراہ 20 سے زائد نجی افراد نے مبینہ طور پر دھاوا بولا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران گیسٹ ہاؤس میں موجود افراد کو یرغمال بنایا گیا اور معروف ہوٹلیئر شیخ خالد احمد اور ان کے دوست عدنان حیدر جعفری کو اپنے ساتھ لے جایا گیا۔

درخواست گزاروں کے مطابق کارروائی کے دوران 10 سے زائد موبائل فون، ایک میڈیا پرسن کا لیپ ٹاپ، ڈی وی آر اور موقع پر موجود افراد سے نقد رقم بھی لے لی گئی۔ مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں افراد کو اپنے ساتھ لے جانے کے بعد آج تک ان کے مقام یا قانونی حیثیت کے بارے میں اہل خانہ اور متعلقہ افراد کو آگاہ نہیں کیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ مبینہ کارروائی کے تقریباً دس منٹ بعد تھانہ ڈیفنس کی پولیس موقع پر پہنچی، تاہم صرف معلومات حاصل کرکے واپس چلی گئی۔ گیسٹ ہاؤس انتظامیہ نے فوری طور پر پولیس کو تحریری درخواست دینے کی کوشش کی، مگر الزام ہے کہ ایس ایچ او تھانہ ڈیفنس اشرف جوگی نے درخواست وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں 28 جولائی کو درخواست وصول تو کر لی گئی، لیکن اس کے باوجود مقدمہ درج کرنے یا مؤثر کارروائی سے مسلسل گریز کیا گیا۔

پولیس کی مبینہ عدم کارروائی کے بعد شیخ خالد احمد، عدنان حیدر جعفری اور گیسٹ ہاؤس انتظامیہ نے ایڈووکیٹ شنکر سنگھ راجپوت کے ذریعے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکلین کو کسی مقدمے یا قانونی جواز کے بغیر اٹھایا گیا اور آٹھ روز گزرنے کے باوجود نہ انہیں عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی ان کی بازیابی کے لیے کوئی مؤثر اقدام کیا گیا۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ حکام کو فوری طور پر دونوں افراد کو بازیاب کرانے اور قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیا جائے۔

یہ آئینی درخواست سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ، جسٹس محمد سلیم جیسر اور جسٹس عبدالحمید برگڑی نے سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

واضح رہے کہ درخواست میں عائد الزامات پر سندھ پولیس یا دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے