Screenshot_2025_0709_042642

جامعہ کراچی میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی کے معاملے کے دوران اکیڈمک اور انتظامی سطح پر اہم فیصلوں کی رفتار نے نئی بحث شروع کردی ہے۔ 21 ستمبر 2026 کو ہونے والے اکیڈمک کونسل کے خصوصی اجلاس کا باضابطہ ایجنڈا سامنے آگیا ہے جس میں فیکلٹی آف لاء سمیت متعدد اہم اکیڈمک معاملات شامل ہیں۔

جامعہ کراچی کے رجسٹرار کی جانب سے جاری کردہ خط کے مطابق اکیڈمک کونسل کا خصوصی اجلاس 21 ستمبر پیر کو دوپہر 2:30 بجے منعقد ہونا ہے۔ اجلاس کے ایجنڈے میں بالخصوص بورڈ آف فیکلٹی آف لاء کے 4 ستمبر 2026 کے اجلاس کی کارروائی کی توثیق شامل کی گئی ہے۔دستاویز سامنے آنے کے بعد فیکلٹی آف لاء میں داخلہ پالیسی اور پروگرامز سے متعلق زیرغور تبدیلیاں بھی خصوصی اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق فیکلٹی آف لاء کے داخلوں میں موجودہ KSP پالیسی میں تبدیلی زیرغور ہے، جس کے نتیجے میں داخلوں کی ترجیح کو صرف کراچی کے بجائے پورے سندھ تک وسعت دی جاسکتی ہے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس تبدیلی کے ساتھ فیکلٹی آف لاء میں داخلوں کی نشستوں میں بھی نمایاں اضافہ زیرغور ہے، جنہیں موجودہ تعداد سے بڑھا کر 100 کے قریب یا اس سے زائد کرنے کی تجویز پر غور کیا جارہا ہے۔
تاہم اہم بات یہ ہے کہ نشستوں کی حتمی تعداد یا KSP کو ختم کرنے کا فیصلے کا امکان ہے۔

دستاویز میں بورڈ آف فیکلٹی آف لاء کے 4 ستمبر کے اجلاس کی کارروائی کو اکیڈمک کونسل کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ اس لیے ان تجاویز کی حتمی منظوری کا فیصلہ اجلاس کی کارروائی کے بعد ہی واضح ہوگا۔

ذرائع کے مطابق فیکلٹی آف لاء کے Bachelor of Laws (LL.B) اور Master of Laws (LL.M) پروگرامز کے دورانیے میں توسیع کی تجویز بھی زیرغور ہے۔

اسی طرح ایک جامعہ سے دوسری جامعہ یا متعلقہ ادارے سے طلبہ کے منتقلی/ٹرانسفر کے امکانات کو بھی وسیع کرنے کی تجاویز زیر بحث ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔

ان ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے بنیادی سوال یہ ہے کہ داخلوں کا دائرہ وسیع کرنے اور نشستوں میں اضافہ کرنے سے قبل فیکلٹی آف لاء کے پاس موجود مستقل فیکلٹی، تحقیقی صلاحیت، کلاس رومز، تعلیمی انفراسٹرکچر اور طلبہ کی نگرانی کی استعداد کا جائزہ کس سطح پر لیا گیا ہے؟

زرائع کے مطابق فیکلٹی آف لاء میں مستقل تدریسی و تحقیقی استعداد، بالخصوص PhD/MPhil سطح کی فیکلٹی سے متعلق بھی سوالات موجود ہیں۔ اگر داخلوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ تدریسی اور تحقیقی سہولیات میں متناسب اضافہ بھی ایک اہم اکیڈمک تقاضا ہوگا۔

جامعہ کے موجودہ انتظامی سیٹ اپ میں ڈاکٹر طفیل محمد جوکھیو وائس چانسلر کا اضافی چارج سنبھالے ہوئے ہیں جبکہ وہ این ای ڈی یونیورسٹی کے مستقل وائس چانسلر ہیں۔ فیکلٹی آف لاء میں ڈین بیرسٹر محمد سرفراز علی میتلو سمیت دیگر تدریسی و انتظامی ذمہ داران موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق اجلاس میں صرف فیکلٹی آف لاء ہی نہیں بلکہ دیگر اہم اکیڈمک معاملات بھی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔

خاص طور پر اکیڈمک کونسل کے 23 فروری 2026 کے اجلاس کی قرارداد نمبر 2/5 کے تحت تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں تمام ڈگری پروگرامز میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کا لازمی 3 کریڈٹ آور کورس شامل کرنے کی تجویز بھی منظوری کے لیے پیش کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ اجلاس میں بورڈ آف گریجویٹ ایڈمنسٹریشن اینڈ ماسٹرز اور بورڈ آف فیکلٹی آف آرٹس و سوشل سائنسز کے اجلاسوں کی کارروائی کی توثیق سمیت دیگر اکیڈمک معاملات بھی شامل ہیں۔

جامعہ کراچی میں رواں برس اکیڈمک کونسل کے اہم اجلاسوں اور انتظامی فیصلوں کے پس منظر میں فیکلٹی آف لاء سے متعلق مجوزہ تبدیلیاں خاصی اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔

اگر داخلوں کا دائرہ کراچی سے بڑھا کر پورے سندھ تک کیا جاتا ہے، نشستوں میں اضافہ ہوتا ہے اور LL.B و LL.M پروگرامز کے دورانیے میں تبدیلی آتی ہے تو اس کے ساتھ یہ سوال بھی سامنے آئے گا کہ کیا فیکلٹی کی موجودہ افرادی قوت اور تعلیمی و تحقیقی وسائل ان تبدیلیوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے کافی ہیں؟

دوسری جانب اکیڈمک کونسل کے سامنے آنے والی سرکاری دستاویز یہ ضرور ثابت کرتی ہے کہ فیکلٹی آف لاء کے بورڈ کا اجلاس اور اس کی کارروائی 21 ستمبر کے خصوصی اجلاس کے باقاعدہ ایجنڈے کا حصہ ہے، تاہم KSP پالیسی، نشستوں کی حتمی تعداد اور LL.B/LL.M کے دورانیے میں تبدیلی کی حتمی منظوری ابھی اجلاس کی کارروائی سے مشروط ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اکیڈمک کونسل ان تجاویز کو کس شکل میں منظور کرتی ہے اور کیا فیکلٹی آف لاء میں داخلوں کے دائرہ کار اور نشستوں میں اضافے کے ساتھ فیکلٹی اور تعلیمی انفراسٹرکچر سے متعلق بنیادی سوالات کا بھی جواب دیا جاتا ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے