Screenshot_2026_0830_215436

ایف آئی اے کراچی کے مال خانے سے کروڑوں روپے مالیت کا ضبط شدہ سونا اور چاندی چوری ہونے کے اسکینڈل میں گرفتار انسپکٹر ڈاکٹر سہیل شیخ محمود کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے مزید 5 دن کے ریمانڈ پر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کے حوالے کردیا ۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں 20 اکتوبر 2026 کو صرافہ بازار واقعہ کے بعد ایک نئے اسکینڈل کا سامنا کرنا پڑا جس میں صرافہ بازار میں مئی 2026 کے پہلے ہفتے میں ایک کارروائی کے دوران ملکی تاریخ کا سونا اور چاندی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا اس کیس میں ضبط شدہ سونا اور چاندی کی مالیت ساڑھے 6 کروڑ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے یہ تمام کیس پراپرٹی جس میں سونا چاندی اور ڈائیاں بنی ہوئی تھیں وہ سب ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی کے مال خانے سے غائب تھیں اس واقعہ کا علم ہونے کے دو دن بعد ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں مقدمہ درج کر کے اس کیس کے تفتیشی افسر انسپکٹر ڈاکٹر سہیل شیخ محمود کو گرفتار کر کے پہلے 7 دن کا ریمانڈ لیا گیا اور بعد ازاں جمعہ کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ون کی عدالت سے مزید 5 دن کا ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے ۔عدالتی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد اس کیس پر کارروائی وفاقی اینٹی کرپشن کی خصوصی عدالت میں ہوگی۔

ایف آئی اے حکام کو مال خانے سے کیس پراپرٹی چوری ہونے کے شواہد حاصل نہیں ہوسکے ،ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کے مال خانے پر ڈیوٹی دینے والے اہلکاروں میں شامل 2 اے ایس آئیز ،3 ہیڈ کانسٹیبل سمیت دیگر کو بھی 6 دن تک گھر جانے کی اجازت نہیں ملی تاہم ان اہلکاروں سے بھی چوری شدہ مال کے شواہد نا ملنے پر انہیں گھر روانہ کردیا گیا ۔

ایف آئی اے کے اس حالیہ اسکینڈل میں چوری شدہ مال کی تلاش ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن کیا یہ نااہلی صرف ایک انسپکٹر تک ہی محدود ہے ؟۔کیا اس نااہلی پر ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی ،سرکل کے سربراہ اور متعلقہ ایس ایچ او بھی اس لپیٹ میں آئیں گے ؟۔

ایف آئی اے کیس کی تحقیقات میں چوری سے متعلق تفتیش میں شواہد تلاش کئے جارہے ہیں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ اصل ملزمان کا تعین بھی ہو کیونکہ کیس پراپرٹی ہی اس مقدمے کی بنیاد ہے ۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں کروڑوں روپے مالیت کا سونا چاندی مال خانے سے چوری ہوا یہ نااہلی کہاں سے شروع ہوئی۔واضح رہے کہ ایف آئی اے کے قوانین اور ایس او پی کے مطابق کسی بھی کارروائی میں ضبط شدہ رقم یا قیمتی سامان جس کی مالیت 25 ہزار روپے سے زائد ہو اس کیس پراپرٹی کو مال خانے کے بجائے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں وضع طریقہ کار کے مطابق رکھنے کی پابندی ہے ۔

ایف آئی اے ایس او پی یا قوانین کے مطابق نئے تعینات ہونے والے ڈائریکٹر،سرکل ہیڈ ،ایس ایچ او ،ہیڈ محرر کی زمہ داری ہے کہ وہ مال خانے کی مکمل انسپکشن کرئے اس کی تمام تفتیشی افسران سے رپورٹ لے اور مال خانہ انچارج سے تصدیق کرئے اور پھر جب تک اس کی تعیناتی ہے اس دوران سرپرائز وزٹ ،ہر 15 دن بعد معائنہ اور مال خانے کا جائزہ لیا جائے کہ کیس پراپرٹی درست جگہ مکمل ریکارڈ کے ساتھ محفوظ ہے کہیں بارش کا پانی یا دیمک اسے ختم تو نہیں کر رہی ہے ۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کے اس مقدمے میں 8 مئی 2026 کو کارروائی میں ضبط شدہ سونا اور چاندی کو براہ راست لاکر یا تجوری میں ڈال کر کارروائی کے چند روز بعد مال خانے میں جمع کرایا گیا جس کی مال خانہ رجسٹرڈ نمبر 19 میں کوئی انٹری موجود نہیں ہے یہاں سے پہلی نااہلی اس وقت کے ڈپٹی ڈائریکٹر ،ایس ایچ او ،تفتیشی افسر اور مال خانہ انچارج کی شروع ہوتی ہے کہ کیسے قوانین کے برخلاف 25 ہزار سے زائد مالیت کا ضبط شدہ سامان مال خانے میں رکھا گیا ۔یاد رہے کہ اس دوران ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل پاکستان سیکرٹریٹ کے بیرک نمبر 46A سے تقریبا 3 کلو میٹر سے زائد دور کراچی کاٹن ایکسچینج کی تیسری منزل پر منتقل ہوگیا تھا اور کیونکہ کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت کا کیس عدالت میں تاحال جاری ہے اور ایف آئی اے نے اس وقت اس عمارت کو تھانہ ڈیکلیئر نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے مال خانہ افسران سے دور اہلکاروں کے رحم وکرم پر موجود تھا ۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں مئی کے دوران صرافہ بازار کے مسلسل چھاپوں میں ایف آئی اے کا ایک جیولر پر تشدد کے واقعہ نے پوری ایف آئی اے کراچی کو ہلا کر رکھ دیا اور اس کارروائی کے فوری بعد اسکینڈل منظر عام پر آنے سے سرکل ہیڈ اور ایس ایچ او کو تبدیل کردیا گیا ۔جس کے بعد کچھ عرصے کے لئے قائم مقام سرکل ہیڈ اسسٹنٹ ڈائریکٹر وقاص ورک کو تعینات کیا گیا جو اس کیس کے تفتیشی افسر بھی ہیں اس کے بعد اسلام آباد ہیڈ کوارٹر سے جائر نصرانی کی بطور ڈپٹی ڈائریکٹر تعیناتی کی گئی اور یہ جائر نصرانی کی ملک بھر میں کسی بھی سرکل کی پہلی زمہ داری تھی اس سے پہلے وہ انتظامی عہدوں پر رہے ۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل پاکستان سیکرٹریٹ بیرک نمبر 46A کی اہمیت صرف اتنی رہ گئی کہ روزنامچہ رجسٹرڈ نمبر 2 جہاں روزمرہ کی انٹری کی جاتی ہے اور مال خانہ تھا ۔اب اگر کوئی افسر یا اہلکار کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت سے باہر نکلتا ہے تو اس کی روزنامچے میں انٹری پاکستان سیکرٹریٹ بیرک 46A میں کی جاتی ہے ۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں 8 مئی سے ضبط ہو کر مال خانے میں جمع ہونے والے مال کا معائنہ 20 اکتوبر 2026 تک 5 ماہ کے دوران کتنی بار ہوا کتنی بار ایس ایچ او نے مال خانہ کا جائزہ لیا کتنی بار سرکل ہیڈ نے کیس پراپرٹی کی تفصیلات مانگیں کتنی بار ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی نے انسپکشن کا حکم دیا اور خود تفتیشی افسر نے قیمتی سامان کو اپنی حفاظت میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نہیں پہنچایا جہاں دس سے 12 ہزار روپے کی معمولی فیس سے کیس پراپرٹی محفوظ ہوسکتی تھی اور کیوں مال خانے میں قیمتی سامان رکھتے وقت مال خانہ انچارج کو تحریری رپورٹ یا سامان نہیں دکھایا گیا ۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی پاکستان سیکرٹریٹ بیرک نمبر 46 A میں نصب کیمرے کب سے خراب ہیں اس کی ڈی وی آر کہاں ہے ایف آئی اے حکام کو اس کا علم ہے ؟ ایف آئی اے ایس او پی کے مطابق مال خانے پر نصب سی سی ٹی وی کسی بھی وقت بند نہیں ہونا چائیے اور اس کا خصوصی اہتمام کرتے ہوئے اسے یو پی ایس سے منسلک کیا جانا چائیے تاکہ بجلی منقطع ہونے کی صورت میں بھی کیمرے کام کریں تاہم ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کے کیمرے کب سے بند ہیں اور ان کا ریکارڈ کہاں ہے وہ کسی کے علم میں نہیں ہے لیکن اس کی نااہلی کا زمہ دار کون کون ہے کیا اس کا تعین ہوسکتا ہے ۔

ایف آئی اے کراچی کے انسپکٹر ڈاکٹر سہیل شیخ محمود کی گرفتاری کے بعد اس کیس میں اے ایس آئی غلام مجتبیٰ،اے ایس آئی امان اللہ سولنگی ،ہیڈ کانسٹیبل تحریم سعید ،ہیڈ کانسٹیبل سید احسان علی ،ایف سی معراج سمیت دیگر کو بھی 6 دن سے زائد پوچھ گچھ کے لئے روکا گیا لیکن ایف آئی اے شواہد حاصل کرنے میں تاحال ناکام ہے ۔ایف آئی اے کا موقف ہے کہ مزکورہ اہلکاروں کو بیانات لینے کے لئے روکا گیا تھا ۔

یاد رہے کہ یہ تمام اہلکاروں کے ساتھ ایف آئی اے انسپکٹر ڈاکٹر سہیل شیخ محمود کی تکرار اور چپقلش ہے جو ایف آئی اے کے تمام افراد کے علم میں ہے اور یہ ہی اہلکار روزنامچے اور مال خانے کی ڈیوٹی پر بھی تعینات رہے ہیں

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کا یہ اسکینڈل ایف آئی اے کے لئے ٹیسٹ کیس بن سکتا ہے جس میں نااہل افسران کے خلاف کارروائی اور چوری میں ملوث عناصر کے خلاف سزا ہی اس کی ساکھ بحال کرسکتی ہے ۔بشرط ہے کہ اس کا درست تعین ہوسکے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے