Screenshot_2026_0823_130331

جامعہ کراچی میں امتحانی نظام کی کارکردگی، انتظامی ڈھانچے اور طریقۂ کار کا جامع آڈٹ کرنے کے لیے لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ،

کمیٹی امتحانی امور میں شفافیت، جوابدہی، انتظامی کارکردگی اور ڈیجیٹل نظام کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات تجویز کرے گی۔

رجسٹرار جامعہ کراچی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن نمبر No. Estt. N.T.I/2026 کے مطابق وائس چانسلر جامعہ کراچی کی ہدایت پر قائم کمیٹی دفترِ امتحانات کی تنظیمی ساخت، انسانی وسائل، انتظامی استعداد، امتحانی طریقۂ کار اور اندرونی نگرانی کے نظام کا جائزہ لے گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر اکرام الدین اوجھان وائس چانسلر، لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز، جامشورو اس کمیٹی کے کنونئیر ہوں گے جبکہ سلیمان احمد ڈائریکٹر، ریجنل سینٹر، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)،ڈاکٹر نوید یوسف چیف ایگزیکٹو آفیسر، ایگزامینیشن بورڈ؛ ایسوسی ایٹ پروفیسر آف پریکٹس، ایجوکیشن ڈیولپمنٹ اور ڈاکٹر شاہ منیر ایسوسی ایٹ رجسٹرار، داخلہ، انرولمنٹ اینڈ ڈگری ایڈوائزری، انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے)، کراچی اس کمیٹی کے اراکین ہیں ۔

کمیٹی کو شعبہ امتحانات کی کارکردگی اور تنظیمی ڈھانچے کی جانچ کے ساتھ امتحانات کے شیڈول، پرچوں کی تیاری، جانچ پڑتال، نتائج کے اجرا، ٹرانسکرپٹس اور ڈگریوں کے اجراء سمیت تعلیمی ریکارڈ کی تصدیق کے عمل کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

اس کے علاوہ اندرونی کنٹرول، امتحانی رازداری، ڈیٹا سیکیورٹی، ریکارڈ کے انتظام اور جوابدہی کے طریقۂ کار کا معائنہ کیا جائے گا تاکہ ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرکے حفاظتی اقدامات تجویز کیے جاسکیں۔

نوٹیفکیشن میں کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتظامی کارروائیوں میں تاخیر، غیر ضروری مراحل، دہرے طریقۂ کار اور ذمہ داریوں کی غیر واضح تقسیم کی نشاندہی کرے اور مناسب تنظیمِ نو کی سفارشات پیش کرے۔

کمیٹی امتحانی نظام کی خودکاری کے لیے وقت کے تعین کے ساتھ ایک لائحۂ عمل بھی تجویز کرے گی، جس میں ڈیجیٹل ریکارڈ، نتائج کی پروسیسنگ، آڈٹ ٹریلز، آن لائن طلبہ خدمات، درخواستوں کی پیش رفت معلوم کرنے اور تعلیمی اسناد کی آن لائن تصدیق جیسے اقدامات شامل ہوں گے۔

مزید برآں، معیاری طریقۂ کار (ایس او پیز) قواعد پر عمل درآمد کی نگرانی اور طلبہ کی شکایات کے ازالے کے نظام کی سفارشات بھی کمیٹی کے دائرۂ کار میں شامل ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی اپنی جامع رپورٹ نوٹیفکیشن کے اجرا کی تاریخ سے 15 دن کے اندر وائس چانسلر کو پیش کرے گی۔ رپورٹ میں نشاندہی کردہ مسائل، مجوزہ اصلاحات، درکار وسائل، عمل درآمد کی مدت اور نتائج جانچنے کے قابلِ پیمائش اہداف شامل ہوں گے۔

رجسٹرار کو کمیٹی کے کام میں سہولت فراہم کرنے اور متعلقہ دفاتر سے ضروری ریکارڈ، دستاویزات اور انتظامی معاونت کی فراہمی یقینی بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

قائم مقام کنٹرولر امتحانات اور قائم مقام انچارج، سمسٹر امتحانات سیکشن کو بھی ضرورت کے مطابق انتظامی، تکنیکی اور دستاویزی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد جامعہ کراچی کے امتحانی نظام کو مضبوط بنانا، ادارہ جاتی اصلاحات کو فروغ دینا اور طلبہ کے تعلیمی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ایک شفاف، مؤثر، جوابدہ اور ڈیجیٹل نظام قائم کرنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے