نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ میں مالی بے ضابطگیوں کو تحفظ دینے کے لئے ادارے کے فنڈز سے خریدی گئی گاڑیاں وفاقی وزیر ،ایف آئی اے اور آڈٹ افسران کو استعمال کے لئے دئیے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔
این آئی سی ایل کی انتظامیہ نے وفاقی حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے دوران بورڈ کی منظوری کے بغیر گاڑیاں خریدیں ۔
جن افسران کو گاڑیاں فراہم کی گئیں ان افسران کو ادارے سے ماہانہ پیٹرول کارڈ بھی استعمال کے لئے دئیے گئے جس سے این آئی سی ایل میں مالی بے ضابطگیوں اور خلاف قانون اقدامات کرنے والے افسران کے خلاف تحقیقات تعطل کا شکار رہیں جس سے ملزمان کو فائدہ پہنچا ہے ۔
ایف آئی اے میں دو برس سے انکوائری التواء کا شکار ہے حال ہی میں این آئی سی ایل کی دس سے زائد انکوائریوں پر دو برس بعد ازسرنو تحقیقات شروع ہوئیں تاہم اس علیحدہ انکوائری پر مقدمہ درج کرنے سے گریز کیا جارہا ہے ۔
وفاقی وزارتِ تجارت کے ماتحت سرکاری انشورنس کمپنی نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ (این آئی سی ایل) میں گاڑیوں کی خریداری اور سرکاری وسائل کے استعمال پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق، سال 2021 میں 12 گاڑیوں پر 3 کروڑ 17 لاکھ 34 ہزار روپے، جبکہ 2023 میں 11 گاڑیوں پر 4 کروڑ 99 لاکھ 9 ہزار 500 روپے کی مالیت درج ہے۔ دونوں ادوار کی مجموعی مالیت 8 کروڑ 16 لاکھ 43 ہزار 500 روپے بنتی ہے۔
سال 2023 کی فہرست میں ہونڈا سِوک، ٹویوٹا یارس، ہنڈائی پورٹر اور سات سوزوکی کلٹس گاڑیاں شامل ہیں، جنہیں مختلف افسران، پول یا پروٹوکول ڈیوٹی سے منسوب کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی وزارتِ خزانہ کے 27 فروری 2023 کے میمورنڈم میں گاڑیوں کی خریداری پر جون 2024 تک کفایت شعار پالیسی کے تحت پابندی عائد تھی اور یہ پالیسی وفاق کے ماتحت تمام اداروں پر تھی جس میں خودمختار ادارے بھی شامل تھے اور این آئی سی ایل خود مختار اداروں میں شمار ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ ایف آئی اے میں این آئی سی ایل سے متعلق مالی بے ضابطگیوں اور خلاف قانون اقدامات پر دس کے قریب انکوائریاں دو برس سے التواء کا شکار ہیں اور حال ہی میں جعلی بھرتیوں پر این آئی سی ایل انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اس مقدمے میں 7 افسران خالد حمید (Ex-CEO)، طارق عزیز (ED Corporate Services) ،اعجاز خان (Ex-ED CS)، علی اصغر (Ex-GM HR)، عامر اقبال (Ex-Manager HR)،جمال الدین انصاری (Ex-ED CS)، محمد ایاز خان نیازی (Ex-Chairman)،بینیفشریرز میں بلال قلی، فیصل خانزادہ، فواد احمد خان، علی رضا الطاف، نوید احمد، عائشہ فاروق وغیرہ شامل ہیں ۔
این آئی سی ایل میں 2021 اور 2023 کے دوران خریدی گئی گاڑیوں اور فیول کارڈز کی مبینہ الاٹمنٹ اور اخراجات سے متعلق دعوؤں کی بھی تحقیقات ضروری ہیں۔ وزارتِ تجارت اور این آئی سی ایل انتظامیہ کو واضح کرنا چاہیے کہ یہ سہولتیں کن افراد کو، کس اختیار کے تحت اور کن سرکاری مقاصد کے لیے فراہم کی گئیں۔
فیول کارڈز کے مجموعی اخراجات اور مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ تصدیق کے لیے اسٹیٹمنٹس، ادائیگیوں کے واؤچرز، گاڑیوں کے لاگ بکس اور الاٹمنٹ کے احکامات کی جانچ ضروری ہے تاہم ایف آئی اے میں بھی اس انکوائری پر کوئی خاص پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے ۔
وزارتِ تجارت، این آئی سی ایل بورڈ اور متعلقہ آڈٹ حکام سے مطالبہ ہے کہ گاڑیوں کی خریداری، منظوریوں، کفایت شعاری ہدایات اور فیول کارڈز کے اخراجات کا شفاف جائزہ لے کر حقائق سامنے لائے جائیں تاہم جن اداروں یا افسران نے اس انکوائری پر تحقیقات کرنی ہے وہ ان ہی گاڑیوں سے مستفید بھی ہورہے ہیں ،عوامی وسائل کے استعمال پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دستاویزی شواہد سے دیا جانا چاہیے۔ اگر قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، اور اگر تمام معاملات ضابطوں کے مطابق تھے تو متعلقہ ریکارڈ کے ذریعے اس کی وضاحت کی جائے۔