کلکٹر آف کسٹمز اپریزمنٹ پشاور کی زیر نگرانی اضاخیل ڈرائی پورٹ سے فیصل بینک لمیٹڈ کے جعلی ہے آرڈرز پر کنسائمنٹ کی کلئیرنس کا انکشاف ہوا ہے ۔
چیف کلکٹر کسٹم اپریزمنٹ پشاور نے دو برس کے دوران کلئیرنس ہونے والی کنسائمنٹس کے ہے آرڈر کے آڈٹ کا حکم دے دیا ہے ۔
پشاور کلکٹریٹ میں جعلی ہے آرڈرز پر کنسائمنٹ کی کلئیرنس پر مقدمات درج کر لئے گئے ۔
مقدمات میں امپورٹرز میسرز عجوہ انٹرپرائزز کے مالک عمر حیات ،میسرز بیسٹ کارپوریشن کے مالک اویس خان،میسرز یوسف زئی فوڈز ،کنسائمنٹ کی کلئیرنس کے لئے جعلی ہے آرڈرز جمع کرانے والے عبد الوکیل،کسٹمز کے ایل ڈی سی نبیل ناصر اور آپریشن منیجر فیصل بینک لمیٹڈ شاہ خص خیبر ایجنسی برانچ کو نامزد کیا گیا ہے ۔
اضاخیل ڈرائی پورٹ سے جعلی ہے آرڈرز پر کنسائمنٹس کی کلئیرنس کا نیا اسکینڈل سامنے آیا ہے کسٹمز حکام نے اعلی افسران کو بچانے کے لئے مقدمے میں کسٹمز کے ایل ڈی سی کو ہی نامزد کیا ہے جب کہ فیصل بینک لمیٹڈ کے اعلی حکام کے بجائے بینک کے خلاف بھی کارروائی کو محدود رکھنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
چیف کلیکٹر کسٹمز اپریزمنٹ پشاور عبدالوحید مروت نے اضاخیل ڈرائی پورٹ پر گزشتہ دو سال کے دوران جمع کرائے گئے پے آرڈرز (Pay Orders) کا مکمل آڈٹ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آڈٹ کے دوران جعلی پے آرڈرز (Fake Pay Orders) سامنے آنے پر اب تک تین ایف آئی آرز درج کی جا چکی ہیں، جن میں متعلقہ کمپنیوں کے ساتھ کسٹمز کے ذمہ دار اہلکاروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران جمع کرائے گئے تمام پے آرڈرز (Pay Orders) اور متعلقہ لین دین کا جامع آڈٹ مکمل کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اب تک کے آڈٹ میں فیصل بینک لمیٹڈ سے جعلی ہے آرڈر جاری ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے جس میں لے آرڈر کی دستاویز اصل ہیں جب کہ اکاوئنٹ اور اس پے آرڈر پر جعلی اسٹیمپ کا استعمال کیا گیا ہے ۔