Screenshot_2026_0830_215436

ایف آئی اے کراچی کا صرافہ بازار کے بعد ایک اور بڑا اسکینڈل منظر عام پر آگیا ۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں درج مقدمے میں 6 کروڑ سے زائد سونا اور چاندی تفتیشی افسر کے کمرے سے غائب ہوگئی ۔

ایف آئی اے کراچی نے تفتیشی افسر انسپکٹر ڈاکٹر سہیل شیخ کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے۔

ایف آئی اے نے صدر صرافہ بازار میں جس دکان اور دفتر پر چھاپہ مارا تھا اس دکان سے کامرس ایف آئی اے کی مبینہ طور پر پرائیوٹ پارٹی نے ضبط کیا تھا ۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں ضبط شدہ چاندی، سونے اور دیگر قیمتی دھاتوں کی مبینہ خوردبرد کے معاملے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت اسمگل شدہ چاندی سے متعلق ضبط شدہ مال کی تحویل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر قائم کیا گیا ہے، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 409 اور 109 سمیت انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) شامل کی گئی ہے۔

دستیاب دستاویزات کے مطابق مقدمہ نمبر FIR-ACC-KHI-17/26، درج کیا گیا۔واضح رہے کہ مزکورہ کارروائی کا واقعہ 8 مئی 2026 کو پیش آیا تھا جبکہ ضبط شدہ مال کی تحویل اور اس کے بعد ہونے والی مبینہ خوردبرد کی تفصیلات تفتیش کا مرکزی نکتہ ہیں۔

مقدمے میں درج تفصیلات کے مطابق 7 مئی 2026 کو مختلف مقامات پر کارروائیوں کے دوران ضبط شدہ مال ایف آئی اے کی تحویل میں لیا گیا تھا۔ اس میں شامل اہم اشیا 350 تولے چاندی اور 108 ڈائیز، دکان نمبر 303-304 سے ضبط کیے گئے۔

265 تولے چاندی، مختلف ڈائیز، لیجرز اور رجسٹرز دفتر نمبر 1101 سے برآمد کیے گئے۔چاندی کی دو سلاخیں، جن میں ایک کا وزن ایک کلوگرام درج ہے۔دکان نمبر G-39 اور G-41، گولڈ ٹاور، صدر کراچی سے رجسٹرز، مہریں، وزن کرنے والی مشین اور ایک لاکر بھی تحویل میں لیا گیا۔

مقدمےکے مطابق مجموعی طور پر 4,584 تولے، یعنی تقریباً 53 کلوگرام چاندی، سونے اور دیگر متعلقہ اشیا کا ذکر ہے، جن کی مالیت تقریباً 6 کروڑ 40 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔

مقدمے کے مطابق ضبط شدہ قیمتی دھاتوں کی تحویل انسپکٹر شیخ سہیل محمود کے سپرد کی گئی تھی، جو ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں تعینات تھے۔

مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ضبط شدہ مال کو باقاعدہ مال خانے میں جمع کرانے کے بجائے ایک علیحدہ کمرے میں ذاتی تالے اور چابی کے تحت رکھا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق اس انتظام کے باعث ضبط شدہ اشیا کی نگرانی اور محفوظ تحویل سے متعلق سنگین سوالات پیدا ہوئے۔

ایف آئی آر میں درج بیان کے مطابق 20 اکتوبر 2026 کو انسپکٹر عمیر شاہ نے مال خانے کا معائنہ کیا تو انسپکٹر شیخ سہیل محمود نے بتایا کہ متعلقہ ضبط شدہ مال ان کے حوالے کیا گیا تھا۔

بعد ازاں انسپکٹر عمیر شاہ کی موجودگی میں متعلقہ کمرہ کھولا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق کمرے اور لاکر کے تالے درست حالت میں تھے اور زبردستی داخلے کے کوئی آثار نہیں ملے، تاہم چاندی، سونے، ڈائیز اور ضبط شدہ دیگر اشیا وہاں موجود نہیں تھیں۔

مقدمے کے متن کے مطابق متعلقہ افسر کو ضبط شدہ مال پیش کرنے یا اس کی عدم موجودگی کا تسلی بخش حساب دینے کا موقع بھی دیا گیا، لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔

ایف آئی اے نے انسپکٹر شیخ سہیل محمود کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 409 اور 109 اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ ایف آئی آر میں سرکاری ملازم کی حیثیت سے سپرد کردہ مال کی مبینہ خوردبرد اور اس میں ممکنہ معاونت کے پہلوؤں کو تفتیش کا حصہ بنایا گیا ہے۔

مقدمے کی تفتیش اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے وقاص احمد ورک کے سپرد کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے