نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی نے بحریہ ٹاؤن روالپنڈی میں کال سینٹر کی آڑ میں ملائشین شہریوں کو بلیک میل کر کے لوٹنے والے گروہ کے خلاف کارروائی کی ہے ۔
اس کارروائی میں پاکستان میں غیر قانونی طریقے سے رہنے والے 130 سے زائد ملائشین شہریوں سمیت مختلف پاکستانی ایجنٹ بھی گرفتار کئے گئے ہیں ۔
نیٹ ورک کا ملائشین سربراہ کمبوڈیا سے بیٹھ کر پاکستان میں غیر قانونی کال سینٹر کی سرپرستی کر رہا ہے ۔
فراڈ اور بلیک میلنگ سے حاصل ہونے والی رقوم کو کرپٹو کرنسی کے زریعے پاکستان منتقل کیا گیا جہاں ایک چین کے شہری کی مدد سے کرپٹو کرنسی کو پاکستانی کرنسی میں وصول کیا جارہا تھا۔
گرفتار ملائشین شہریوں کے ویزے کی مدت مکمل ہوچکی ہے اور وہ کئی ماہ سے بحریہ ٹاؤن روالپنڈی میں غیر قانونی طریقے سے مقیم ہیں اور غیر قانونی کال سینٹر کے دھندے سے منسلک ہیں۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے راولپنڈی کے بحریہ ٹاؤن فیز 8 میں واقع کاسا ٹاور سے مبینہ طور پر ملائیشیا کے شہریوں کو سائبر فراڈ کا نشانہ بنانے والے منظم نیٹ ورک کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے، جس میں 130 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر نمبر 182/26 کے مطابق، مبینہ نیٹ ورک جعلی بینک نمائندوں، ملائیشین پولیس افسران کی نقالی، منی لانڈرنگ کے الزامات اور قانونی کارروائی کی دھمکیوں کے ذریعے شہریوں سے رقوم بٹورنے میں ملوث تھا۔ مبینہ طور پر حاصل کی گئی رقم ڈیجیٹل ادائیگیوں اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے منتقل کی جاتی تھی۔
مقدمہ دستاویزات کے مطابق، این سی سی آئی اے نے خفیہ اطلاع اور انکوائری نمبر 2610/26 مکمل ہونے کے بعد راولپنڈی کی مجاز عدالت سے سرچ اور ضبطی کے وارنٹ حاصل کیے اور بحریہ ٹاؤن فیز 8 میں واقع مذکورہ مقام پر کارروائی کی۔
این سی سی آئی اے کے ڈیجیٹل آلات اور وہاں قائم آپریشنل نظام کے ابتدائی تکنیکی جائزے سے شبہ ظاہر ہوا کہ اس مقام کو ملائیشیا کے شہریوں کے خلاف مالیاتی سائبر فراڈ کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔
مقدمے کے مطابق کال سینٹر میں موجود افراد وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول (VoIP) ایپلی کیشنز کے ذریعے ملائیشین شہریوں سے رابطہ کرتے اور خود کو بینک کے کسٹمر سروس نمائندے ظاہر کرتے تھے۔ متاثرین کو بتایا جاتا کہ ان کے بینک اکاؤنٹس میں مشتبہ یا غیر مجاز لین دین ہوا ہے، جس کے بعد انہیں مبینہ طور پر ایسے افراد سے بات کروائی جاتی جو ملائیشین پولیس افسران بن کر سامنے آتے تھے۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بعض افراد پولیس یونیفارم پہن کر اور دفتر جیسا پس منظر استعمال کرکے ویڈیو کالز کے ذریعے اپنی جعلی شناخت کو حقیقی ظاہر کرنے کی کوشش کرتے تھے، متاثرین کو منی لانڈرنگ، فوجداری مقدمات اور قانونی کارروائی کی دھمکیاں دے کر رقم منتقل کرنے پر دباؤ ڈالا جاتا تھا۔
مقدمے میں الزام ہے کہ مبینہ طور پر حاصل ہونے والی رقوم ملائیشیا کی ڈیجیٹل ادائیگی سروس Touch ’n Go eWallet کے ذریعے وصول کی جاتی تھیں، جس کے بعد مختلف ذرائع سے انہیں کرپٹو کرنسی میں تبدیل کیا جاتا تھا۔
تاہم، ایف آئی آر میں مبینہ فراڈ کی مجموعی مالیت، متاثرین کی مصدقہ تعداد، کرپٹو کرنسی میں منتقل ہونے والی رقم یا چھاپے کے دوران برآمد کی گئی رقم کی تفصیلات درج نہیں ہیں۔
دستاویز کے مطابق، ’’جیک‘‘ نامی ایک ملائیشین شہری مبینہ طور پر کمبوڈیا سے نیٹ ورک چلا رہا تھا اور بیرون ملک سے اس کی نگرانی کرتا تھا۔ محمد شوال الدین کو مبینہ مقامی نگران یا سربراہ جبکہ ہیو وائی لون کو کال سینٹر کے انتظامی امور کا ذمہ دار بتایا گیا ہے۔
مقدمے میں بعض پاکستانی شہریوں کا بھی ذکر ہے، جن کے بارے میں الزام ہے کہ وہ سہیل، رچ، مارٹن اور بی جیسے فرضی نام استعمال کرتے ہوئے مبینہ سرگرمیوں میں معاونت کرتے تھے۔
اس کے علاوہ اسلام آباد کے سیکٹر ڈی 12 میں مقیم ایک چینی شہری پر الزام ہے کہ وہ نیٹ ورک کے افراد سے کرپٹو کرنسی وصول کرکے اس کے مساوی پاکستانی رقم نقد فراہم کرتا تھا۔
تاہم، ان افراد کے انفرادی کردار، مالیاتی لین دین کی مکمل تفصیلات اور مبینہ سہولت کاری کی نوعیت تاحال تحقیقات کا حصہ ہیں۔
این سی سی آئی اے کے مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق، مبینہ سائبر فراڈ آپریشن کے سلسلے میں نامزد 130 افراد ملائیشیا کے شہری ہیں۔ ایف آئی آر میں ان کے پاسپورٹ کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔
مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان افراد کے ویزوں کی معیاد ختم ہوچکی تھی اور وہ پاکستان میں قانونی امیگریشن حیثیت کے بغیر مقیم تھے، جہاں سے مبینہ طور پر سائبر کرائم کی سرگرمیاں جاری تھیں۔
تاہم، ان کے امیگریشن اسٹیٹس اور سائبر فراڈ میں مبینہ کردار سے متعلق الزامات کی تصدیق اور قانونی جانچ ابھی باقی ہے۔ محض مقدمے میں نامزد ہونے سے کسی فرد کا جرم ثابت نہیں ہوتا، جبکہ ہر ملزم کے کردار کا تعین شواہد اور قانونی کارروائی کے ذریعے کیا جائے گا۔
ایف آئی آر نمبر 182/26 این سی سی آئی اے سرکل راولپنڈی میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016، بشمول 2025 کی ترامیم، کی دفعات 13، 14 اور 16 کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 34، 383، 419، 420 اور 109 کے تحت درج کی گئی ہے۔ان دفعات کا تعلق الیکٹرانک جرائم، مشترکہ نیت، بھتہ خوری، نقالی کے ذریعے دھوکا دہی، دھوکا دہی سے مال حاصل کرنے اور جرم میں معاونت جیسے معاملات سے ہے۔
این سی سی آئی اے کی تفتیش میں مبینہ بیرونِ ملک سرغنہ، مقامی نگرانوں، کال سینٹر کے عملے، مالیاتی سہولت کاروں اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے رقوم منتقل کرنے والے افراد کے کردار کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں میں مزید افراد معاون تھے اور مبینہ مالیاتی لین دین کا مضبوط نیٹ ورک موجود ہے۔