نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کراچی میں پولیس سے ڈیپوٹیشن پر تعینات ہونے والے انکوائری افسر کی جانب سے مبینہ طور پر خاتون سے سماجی رابطہ ختم ہونے کے بعد سوشل میڈیا کے پانچ برس پرانے پیغامات کو جواز بنا کر نوٹس کے زریعے ہراساں کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔
سندھ ہائی کورٹ نے ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے سے جواب طلب کرلیا انکوائری افسر کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کا بھی حکم دے دیا گیا ہے ۔
انکوائری افسر نے عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ کسی اور انکوائری میں نوٹس جاری کیا گیا تاہم انکوائری افسر اس انکوائری کی تفصیلات یا درخواست گزار کا ریکارڈ فراہم نہیں کرسکا ہے ۔
سندھ ہائیکورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے انکوائری افسر چوہدری عمران اللہ کے خلاف دائر درخواست میں عبوری حکم جاری کرتے ہوئے ڈی جی این سی سی آئی اے کو ان کے طرزِ عمل کے بارے میں آزادانہ محکمانہ انکوائری شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سندھ ہائیکورٹ کراچی میں CP No. D-5817 of 2026 کی سماعت کے دوران جاری حکم نامے میں عدالت نے قرار دیا کہ درخواست میں انکوائری افسر کے خلاف عائد الزامات کی نوعیت سنجیدہ ہے اور جس انداز میں درخواست گزار کو نوٹس جاری کیا گیا، اس معاملے کی ادارہ جاتی سطح پر تحقیقات ضروری ہے۔
درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ این سی سی آئی اے کے انکوائری افسر چوہدری عمران اللہ اسے تقریباً پانچ سال قبل ذاتی طور پر جانتے تھے اور اس عرصے میں دونوں کے درمیان بعض پیغامات اور رابطے ہوئے تھے۔ درخواست گزار کے مطابق بعد ازاں اس نے یہ تعلق ختم کردیا اور تقریباً پانچ سال سے دونوں کے درمیان کوئی بامعنی رابطہ نہیں رہا۔
درخواست گزار نے عدالت کے سامنے سوال اٹھایا کہ ایسے پس منظر میں انکوائری افسر نے خود اس کے خلاف آنے والی شکایت سے معاملہ کیوں نمٹایا اور اسے اپنے سامنے پیش ہونے کا نوٹس کیوں جاری کیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران جب چوہدری عمران اللہ کے سامنے درخواست گزار کی جانب سے پیش کیے گئے الزامات اور سابقہ رابطوں کا معاملہ رکھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ درخواست گزار جن انسٹاگرام پیغامات کا حوالہ دے رہی ہے، وہ تقریباً پانچ سال پرانے ہیں۔
عدالتی حکم کے مطابق انکوائری افسر نے سابقہ رابطوں کے وجود سے انکار نہیں کیا، تاہم ان کا مؤقف تھا کہ بعد ازاں ایک نجی شخص کی جانب سے درخواست گزار کے خلاف شکایت درج کرائی گئی تھی اور اسی شکایت کی بنیاد پر انہوں نے درخواست گزار کو پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا۔
عدالت نے خصوصی طور پر دریافت کیا کہ آیا شکایت کی کاپی درخواست گزار کو فراہم کی گئی یا اسے جاری کیے گئے نوٹس کے ساتھ منسلک کی گئی تھی۔عدالتی حکم کے مطابق انکوائری افسر نے اس سوال کا جواب نفی میں دیا۔مزید استفسار پر جب یہ پوچھا گیا کہ نوٹس میں شکایت کنندہ کا نام بھی کیوں ظاہر نہیں کیا گیا تو عدالت کے مطابق انکوائری افسر اس کی کوئی تسلی بخش وضاحت پیش نہ کرسکے۔
عدالت نے ابتدائی طور پر مشاہدہ کیا کہ متنازع نوٹس میں صرف عمومی طور پر ’’آن لائن دھمکی، بلیک میلنگ اور ہراسانی‘‘ جیسے الزامات کا حوالہ دیا گیا، تاہم نہ تو شکایت کنندہ کی شناخت ظاہر کی گئی اور نہ ہی اس معاملے کی بامعنی تفصیلات فراہم کی گئیں جس کے سلسلے میں درخواست گزار کو طلب کرکے اس کا بیان ریکارڈ کرنا مقصود تھا۔
سندھ ہائیکورٹ نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ انکوائری افسر کے خلاف لگائے گئے الزامات ابھی کسی مناسب فیکٹ فائنڈنگ عمل سے نہیں گزرے، اس لیے عدالت نے ان الزامات کی سچائی یا غلطی کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینے سے گریز کیا۔تاہم عدالت کے مطابق دستیاب حالات اتنے سنجیدہ ہیں کہ معاملے کی ادارہ جاتی سطح پر تحقیقات ضروری ہے۔
عدالت نے حکم نامے میں واضح کیا کہ تفتیشی اختیارات رکھنے والے سرکاری افسر پر لازم ہے کہ وہ اپنے اختیارات قانون کے مطابق، منصفانہ، غیر جانب دارانہ اور اسی مقصد کے لیے استعمال کرے جس کے لیے اسے اختیار دیا گیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ چوہدری عمران اللہ کے طرزِ عمل کے بارے میں آزادانہ محکمانہ انکوائری کرائیں۔
انکوائری میں بالخصوص درخواست میں لگائے گئے الزامات، درخواست گزار اور انکوائری افسر کے درمیان سابقہ رابطوں، درخواست گزار کے خلاف آنے والی شکایت کے انکوائری افسر تک پہنچنے کے حالات اور متنازع نوٹس جاری کیے جانے کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ انکوائری قانون اور متعلقہ قواعد کے مطابق ایسے افسر کے ذریعے کی جائے جو سینیئر ہو اور چوہدری عمران اللہ کو مکمل طور پر مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع دیا جائے۔اگر محکمانہ انکوائری میں کوئی بدعنوانی یا بدسلوکی ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ مجاز اتھارٹی قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔
عدالت نے واضح کیا کہ وہ درخواست گزار کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ہراساں، دھمکا، دباؤ میں یا کسی بھی طریقے سے متاثر نہیں کریں گے اور نہ ہی اپنے سرکاری عہدے یا اختیار کو قانونی فرائض کی انجام دہی کے علاوہ کسی مقصد کے لیے استعمال کریں گے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ درخواست گزار کو قانون کے تحت تفتیشی افسر کے خلاف دستیاب کسی بھی قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگا اور اگر ایسا کوئی قانونی راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو متعلقہ فورم یا اتھارٹی معاملے کو آزادانہ طور پر قانون کے مطابق دیکھے گی۔
عدالت نے اس امر کا بھی نوٹس لیا کہ تفتیشی افسر کے مطابق متنازع نوٹس ایک نجی شخص کی جانب سے دائر کی گئی شکایت کی بنیاد پر جاری کیا گیا تھا۔ عدالت نے مذکورہ شکایت کنندہ کو بھی سماعت کا موقع دینے کا فیصلہ کیا اور اگلی تاریخ پر اسے نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی۔
چونکہ شکایت کنندہ کی تفصیلات اس وقت عدالت کے سامنے موجود نہیں تھیں، اس لیے ڈی جی این سی سی آئی اے کو ہدایت کی گئی کہ متعلقہ دفتر کے ذریعے شکایت کنندہ کو عدالتی نوٹس کی تعمیل کرائی جائے اور آئندہ سماعت سے قبل اس کی تعمیل کا ثبوت ریکارڈ پر پیش کیا جائے۔
عدالت نے مزید حکم دیا کہ اگلی تاریخ پر ڈی جی این سی سی آئی اے محکمانہ انکوائری شروع کیے جانے سے متعلق کمپلائنس/پروگریس رپورٹ بھی عدالت کے سامنے پیش کریں۔جبکہ چوہدری عمران اللہ کو ذاتی حیثیت میں آئندہ سماعت پر عدالت میں موجود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔عدالت نے سماعت 2 اکتوبر تک ملتوی کردی یے۔