Screenshot_2026_0816_125047

جامعہ این ای ڈی کے تھر پارکر میں قائم ہونے والے پروجیکٹ انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (TIEST) میں شفافیت کیلئے معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت ڈاکیومنٹس مانگے گئے تھے ، جس سے این ای ڈی کی انتظامیہ معلومات دینے سے گریز کرتی رہی ، تایم سندھ انفارمیشن کمیشن نے انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (TIEST)، تھرپارکر کے خلاف دائر آر ٹی آئی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے ادارے کو مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔

دستاویزات کے مطابق شکایت نمبر 218/2026 سندھ انفارمیشن کمیشن میں دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ متعلقہ پبلک باڈی یعنی این ای ڈی یونیورسٹی کو معلومات کے حصول کے لیے درخواست جمع کرائی گئیں تاہم اس پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا ۔

سندھ انفارمیشن کمیشن کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق شکایت پر کارروائی کے دوران کمیشن نے این ای ڈی کے انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (TIEST)، تھرپارکر سے مؤقف اور معلومات طلب کیں ۔

تاہم کمیشن کا سخت انتباہ بھی سامنے آ گیا ، دستاویزات میں شامل کارروائی کے ایک اور حکم کے مطابق کمیشن نے متعلقہ فریق کو 9 جون 2026 کو دوپہر 12 بجے سماعت کے لیے طلب کیا تھا ۔ نوٹس میں واضح کیا گیا تھا کہ فریق کو سندھ انفارمیشن کمیشن کے دفتر، گراؤنڈ فلور، اسٹیٹ لائف بلڈنگ نمبر 3، ڈاکٹر ضیاء الدین احمد روڈ، وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے کراچی میں پیش ہو کر اپنے کمنٹس، معلومات اور متعلقہ دستاویزات جمع کرانا ہوں گی ، بصورت دیگر معاملہ اس کی غیر موجودگی میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

کمیشن نے واضح کیا کہ سندھ ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 کی خلاف ورزی یا عدم تعمیل کے قانونی نتائج مرتب ہو سکتے ہیں ۔ حکم نامے میں ایکٹ کی دفعات 15 اور 16 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قانون کی عدم تعمیل یا خلاف ورزی پر سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ، جس میں دو سال چھ ماہ تک قید، یا کم از کم 10 ہزار روپے یا بنیادی تنخواہ کے 10 فیصد کے برابر جرمانہ، یا دونوں سزائیں شامل ہو سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ تھرپارکر انسٹیٹیوٹ میں شفافیت کے لئے لکھے گئے سوالات میں انسٹیٹیوٹ کیلئے لی گئی اراضی کی انسپکشن رپورٹ ، پروکیورمنٹ ٹینڈر کا ریکارڈ ، اشتہارات کا ریکارڈ ، بڈنگ دستاویزات ، ٹیکنیکل اور فناننشل رپورٹ ، کس اور ٹھیکا دیا گیا اس کو ایوارڈ لیٹر مانگا گیا تھا اس کے علاوہ ٹھیکوں کے ڈیلیوری چالان بھی مانگے گئے تھے ۔

اس کے علاوہ حکومت کے اربوں کے اخراجات کے باوجود ادارہ کی کارکردگی کا جانچنے کے لئے یہ بھی سوال گیا تھا کہ سالانہ کتنے داخلے ہوئے ہیں ، ہر سال کی علیحدہ علیحدہ تفصیلات مہیا کی جائیں ، اس کے علاوہ انسٹیٹیوٹ میں ملازمین اور فکلیٹی ممبرز کی تعداد بھی پوچھی گئی تھی ، جس میں مستقل ، کنٹریکٹ اور پروجیکٹ اور وزٹنگ فکلیٹی کی تعداد و تفصیل بھی معلوم کی گئی تھی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے