ایف آئی اے کے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل سکھر نے سانگھڑ میں مبینہ طور پر اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم کو جائیداد کی خریداری میں استعمال کرنے کے الزام میں سابق ایس ایس پی سانگھڑ عابد علی بلوچ سمیت تین افراد کے خلاف انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق ایف آئی آر نمبر AMLC-SKR-14/26، 17 اگست 2026 کو درج کی گئی، مقدمہ ایف آئی اے کے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل سکھر میں درج کیا گیا ہے۔مقدمے میں سابق ایس ایس پی سانگھڑ عابد علی بلوچ ولد علی حسن خان، ایس ایس پی آفس سانگھڑ کے جونیئر کلرک/اکاؤنٹنٹ غلام سرور جعفری ولد صاحب ڈنو اور ایس ایس پی آفس سانگھڑ کی اکاؤنٹس برانچ میں تعینات پولیس کانسٹیبل ممتاز علی ولد نیاز محمد کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کی ایف آئی آر کے مطابق ابتدائی مقدمے کی تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ سانگھڑ کے تعلقہ کھپرو کے چک نمبر 36، دیہہ سدھارتھ میں واقع 100 ایکڑ زرعی اراضی، جو ابتدائی طور پر پولیس کانسٹیبل ممتاز علی کے نام پر رجسٹرڈ تھی، مبینہ طور پر عابد علی بلوچ کی فراہم کردہ رقم سے خریدی گئی۔
دستاویز کے مطابق غلام سرور جعفری نے زمین کی خریداری میں مبینہ طور پر سہولت کاری کی، جبکہ بعد ازاں یہ جائیداد 8 جنوری 2026 کے سیل ڈیڈ، انٹری نمبر 2898 کے ذریعے ممتاز علی کے نام رجسٹرڈ ہوئی۔
ایف آئی اے کے مطابق مذکورہ اراضی کی موجودہ مارکیٹ ویلیو متعلقہ مختیارکار تعلقہ سانگھڑ کی جانب سے تقریباً 8 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کانسٹیبل ممتاز علی نے مذکورہ جائیداد کے لیے فرنٹ مین/نامی مالک کا کردار ادا کیا، جبکہ مبینہ طور پر اصل فائدہ اٹھانے والا شخص عابد علی بلوچ تھا۔
تفتیشی حکام کے مطابق غلام سرور جعفری نے زمین کا معائنہ کیا، خریداری اور ادائیگی کے معاملات میں رابطہ کاری کی، بیچنے والے اور درمیانی افراد سے معاملات طے کیے اور جائیداد سے متعلق ڈیجیٹل معلومات عابد علی بلوچ کو فراہم کیں۔
ایف آئی اے کا مؤقف ہے کہ اس طرح مبینہ طور پر جرم سے حاصل ہونے والی رقم کو پہلے جمع کیا گیا اور بعد ازاں اسی رقم سے مذکورہ غیر منقولہ جائیداد حاصل کی گئی، جبکہ ممتاز علی کو مبینہ طور پر اصل فائدہ اٹھانے والے کی شناخت چھپانے کے لیے جائیداد کا رجسٹرڈ مالک ظاہر کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق یہ مقدمہ ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل شہید بینظیر آباد میں درج کیس ایف آئی آر نمبر 14/2026 (ACC) کا نتیجہ ہے، جو کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعات 156(8) اور 89، تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 161، 34 اور 109 کے تحت عابد علی بلوچ، غلام سرور جعفری اور ممتاز علی کے خلاف درج کیا گیا تھا۔
ایف آئی اے کے مطابق اس ابتدائی مقدمے میں ملزمان پر اسمگلنگ کی سرگرمیوں میں مبینہ سہولت کاری، تحفظ فراہم کرنے اور جرائم سے حاصل ہونے والی رقم پیدا کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
ابتدائی تفتیش میں حاصل ہونے والے مواد، بشمول پیشگی مقدمے کی ایف آئی آر، چھاپہ رپورٹ، ضبطگی میمو، موبائل فونز کی فرانزک/ٹیکنیکل رپورٹ، ریونیو ریکارڈ اور دیگر متعلقہ دستاویزات کی بنیاد پر تفتیشی حکام نے ملزمان، مبینہ جرم سے حاصل ہونے والی رقم اور مذکورہ جائیداد کے درمیان بادی النظر میں تعلق قرار دیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق دستیاب شواہد بادی النظر میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010، ترمیمی 2020 کی دفعات 3 اور 4 کے تحت قابلِ سزا جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمان نے مبینہ طور پر جرم سے حاصل شدہ رقم کی اصل نوعیت اور ماخذ چھپانے کے لیے اسے غیر منقولہ جائیداد کے حصول میں استعمال کیا اور تیسرے شخص کے نام پر جائیداد رکھ کر اصل ملکیت کو پوشیدہ رکھا۔
دستاویز کے مطابق دیگر افراد، سہولت کاروں، فائدہ اٹھانے والوں یا کسی بھی منسلک شخص کا کردار تفتیش کے دوران سامنے آنے کی صورت میں اس کا تعین کیا جائے گا۔
ایف آئی اے کے سب انسپکٹر محسن شہباز کو مقدمے کا تفتیشی افسر مقرر کیا گیا ہے، جنہوں نے مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بعد نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔