250px-Karachi_Metropolitan_Corporation

کراچی میونسپل کارپوریشن کے ماتحت آنے والے میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز کراچی کے زیر انتظام گزری میٹرنٹی اسپتال کے لئے دستاویزات میں 48 لاکھ کی مالیت ظاہر کر کے ٹینڈر ہونے والے کلر ڈوپلر کی فراہمی کے بجائے دو لاکھ مالیت کی الٹر ساؤنڈ مشین سپلائی کردی گئی، جس نے محکمہ صحت میں شفافیت کے دعووں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

دستاویزی شواہد کے مطابق مذکورہ ٹینڈر کی منظوری اینول ڈویلپمنٹ پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت دی گئی اور مالی سال 2025 کے اختتام پر اس کا بل بھی کلئیر کردیا گیا، جبکہ اس ٹینڈر کے عیوض سپلائی تقریبا 7 ماہ بعد ہوئی، مگر حیران کن طور پر اس کے باوجود ٹینڈر میں منظور شدہ آئٹم سپلائی نہیں کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ٹینڈر کو بھی ماضی کی طرح بائیو میڈیکل اسٹار انٹرپرائز نے ہی حاصل کیا اور دیگر اسپتالوں کی طرح اس اسپتال میں بھی ٹینڈر کے برخلاف آئٹم سپلائی کیا گیا، جس سے مبینہ طور پر ایک منظم طریقہ کار کا عندیہ ملتا ہے۔

دوسری جانب اس ٹینڈر کی منظوری اور بعد ازاں رقم کی کلئیرنس کے بعد محکمہ صحت کے سینئر ڈائریکٹر میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز کراچی کے دفتر سے جاری ایک سرکاری سرٹیفکیٹ میں مالیاتی امور اور خریداری کے عمل سے متعلق اہم نکات کی تصدیق کی گئی، جو اس پورے معاملے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔

سرٹیفکیٹ میں کہا گیا ہے کہ ادائیگیوں کی تفصیلات درست ہیں اور جہاں کہیں استثنا موجود ہے، وہاں بقیہ رقم متعلقہ وصولی کے بعد ادا کی جائے گی۔ ایک سو روپے سے زائد تمام ادائیگیوں کے ثبوت بل کے ساتھ منسلک ہیں جبکہ دیگر رقوم کے واؤچرز بھی حاصل کر لیے گئے ہیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید برآں، اس امر کی بھی ذمہ داری لی گئی ہے کہ تمام واؤچرز کو اس انداز میں منسوخ (deface) کر دیا گیا ہے کہ ان کا دوبارہ استعمال ممکن نہ رہے۔

دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بل سے منسلک واؤچرز اور دفتر میں محفوظ ریکارڈ کے مطابق تمام اشیاء کو اسٹاک رجسٹر میں درج کر لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خریدی گئی اشیاء کی وصولی، مقدار اور معیار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ادا کی گئی قیمتیں مارکیٹ ریٹ اور منظور شدہ نرخوں سے زیادہ نہیں ہیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ ڈبل ادائیگی سے بچاؤ کے لیے تمام متعلقہ اندراجات مکمل کیے گئے ہیں اور انوائسز کے ساتھ مناسب نوٹنگ بھی موجود ہے۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ سرٹیفکیٹ میں اس بات کی باقاعدہ تصدیق کی گئی ہے کہ مالی سال 2024-2025 کے دوران سینئر ڈائریکٹر میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز کراچی کی تمام خریداری سندھ پبلک پروکیورمنٹ ایکٹ 2009 اور 2010 کے قواعد (ترمیم شدہ) کے مطابق کی گئی ہیں۔

اختتام میں کہا گیا ہے کہ یہ سرٹیفکیٹ اس صورت میں ضروری ہوتا ہے جب خریدی گئی اشیاء اور اسٹورز کا باقاعدہ ریکارڈ برقرار رکھنا مقصود ہو، تاکہ سرکاری مالیاتی نظم و ضبط اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

واضح رہے کہ گزشتہ مالی سال میں اینول ڈویلپمنٹ پروگرام کے نام پر مختلف اسپتالوں میں ٹینڈر کی منظوری اور وصولی ٹینڈر کی سپلائی ظاہر کرکے حاصل کرلی گئی اور اس کے لئے مخصوص کمپنیوں کو ہی ٹینڈر کیسے دیا جاتا رہا ہے۔

اس ضمن میں تحقیقات ڈاٹ کام نے پہلے سئینر ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کراچی مہوش مٹھائی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا جبکہ کمپنی مالکان بھی موقف دینے سے گریز کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے جب میڈیکل سپرنٹینڈنٹ گزری میٹرنٹی ہوم ڈاکٹر ثمینہ نے بتایا کہ دو سے تین ماہ قبل مشین کی سپلائی ہوئی ہے، اس میں تاخیر سے متعلق انہوں نے بتایا کہ یہ معاملات ڈائریکٹر میڈیکل ہیلتھ سروسز کراچی کو پتہ ہوگا۔

اہم سوال یہ ہے کہ جب سرکاری ریکارڈ میں سب کچھ قواعد کے مطابق دکھایا جا رہا ہے تو پھر اصل میں فراہم کی جانے والی مشین اتنی کم مالیت کی کیوں ہے؟ کیا یہ محض غفلت ہے یا ایک منظم مالی بے ضابطگی؟ یہ سوال اب بھی جواب طلب ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے