FIA cyber crime

ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کے درج مقدمے میں نامزد پرائیوٹ شخص بلال نے عدالت سے ضمانت قبل از وقت گرفتاری حاصل کر لی ہے ۔ملزم پر الزام ہے کہ اس نے ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی کی ایک کارروائی میں تاجر کو ہراساں کرنے کی کوشش کی اور اپنا تعارف ایف آئی اے افسر کی حیثیت سے کروایا ،ملزم سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید علی مردان شاہ کا ذاتی ڈرائیور ہے۔

عدالت میں ملزم بلال کے وکیل نے درخواست میں استدعا کی کہ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کی ٹیم نے صدر کے علاقے صرافہ بازار میں العمران جیمز اینڈ جیولری شاپ پر 14 مئی کی شام سات بج کر 50 منٹ پر کارروائی کی اس ٹیم کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر رباب قاضی،ایس ایچ او محمد اقبال،انسپکٹر سہیل شیخ،سب انسپکٹر عدنان دلاور سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔

ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل میں ملزم بلال کے خلاف مقدمہ 6 دن بعد درج کیا گیا اور جس وقت یہ واقعہ پیش آیا تو وہاں موجود کسی بھی افسر نے انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی کہ وہ چھاپے کے دوران مداخلت کر رہا ہے ۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ میرے موکل اس کارروائی کے دوران موجود تھا تاہم اس نے اپنا تعارف ایف آئی اے کے افسر یا اہلکار کی حیثیت سے نہیں کروایا ۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے تاحال چالان جمع نہیں کروایا ہے اور نا ہی اس مقدمے میں کسی کی میڈیکل رپورٹ جمع کراوئی گئی کہ وہ زخمی ہوا ہے ۔

عدالت نے ملزم بلال کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے ۔

یاد رہے کہ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی کی ٹیم نے 14 مئی کو صدر کے علاقے صرافہ بازار میں چھاپے کے دوران جیولر مالک کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس پر تاجروں کی بڑی تعداد نے احتجاج کیا تھا جس کے بعد اس وقت کے ڈپٹی ڈائریکٹر اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی مردان شاہ کو عہدے سے ہٹا کر ایف آئی اے ہیڈکوارٹر اسلام آباد رپورٹ کرنے کی ہدایت کی تھی جبکہ اس وقت کے ایس ایچ او محمد اقبال کا تبادلہ زونل آفس کیا تھا اور اس ریڈنگ ٹیم میں شامل تمام افسران و اہلکاروں کے خلاف انکوائری کا حکم دیا گیا تھا جو تاحال جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے