Screenshot_2026_0821_083510

جامعہ این ای ڈی برائے انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں مئی 2020 میں اعلان کیا جانے والا آئی ٹی پارک کا منصوبہ پانچ سال گزرنے کے باوجود تعمیر کے عملی مرحلے میں داخل نہ ہوسکا، جبکہ منصوبے میں تاخیر کے ساتھ مقام، ڈیزائن اور لاگت میں ممکنہ تبدیلی نے ایک نئے تنازع کو جنم دے دیا ہے۔

ابتدائی منصوبے کے مطابق جامعہ این ای ڈی کے مرکزی دروازے کے قریب موجود مقام پر 20 منزلہ اور تقریباً 208 فٹ بلند عمارت تعمیر کی جانی تھی۔ اس عمارت کے لیے ایرو ناٹیکل سروے اور متعلقہ کارروائی پر جامعہ کی جانب سے سول ایوی ایشن کو تقریباً 45 لاکھ روپے ادا کیے گئے، جبکہ بعد ازاں بلند عمارت کی تعمیر کے حوالے سے منظوری بھی حاصل کرلی گئی۔تاہم حیران کن طور پر منظوری ملنے کے بعد بھی اسی مقام پر آئی ٹی پارک تعمیر کرنے کے بجائے ہاکی گراؤنڈ کو ختم کرکے وہاں دو دس منزلہ عمارتیں تعمیر کرنے کی تجویز سامنے آگئی ہے۔

یہ صورتحال بنیادی سوال اٹھاتی ہے کہ جب 208 فٹ بلند عمارت کے لیے این او سی حاصل کرلی گئی تو پھر منصوبے کا مقام تبدیل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

مئی 2020 میں منصوبے کے اعلان کے وقت چھ ماہ کے اندر تعمیر شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جبکہ قوانین اور منصوبہ بندی کے تقاضوں کے مطابق اتنی طویل تاخیر کے بعد فزیبلٹی رپورٹ کی دوبارہ جانچ ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔

پانچ سال کے دوران تعمیراتی لاگت، زمین کے استعمال، سرمایہ کاری کے ماحول، تعمیراتی ضروریات اور ٹیکنالوجی میں نمایاں تبدیلیاں آچکی ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ 2020 میں تیار ہونے والی فزیبلٹی رپورٹ 2026 میں اسی مالی اور تکنیکی بنیاد پر کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟

دستاویزات کے مطابق جامعہ این ای ڈی نے مئی 2020 میں آئی ٹی پارک کے لیے ٹینڈر جاری کیا، جس میں جولائی 2020 میں تین کنسورشیمز نے حصہ لیا۔
M/S Rebel Group Consortium، M/S EY Consortium اور M/S iConsult Consortium
مقابلے میں شامل ہوئے۔

دستاویزات کے مطابق iConsult Consortium تکنیکی بنیاد پر مقابلے سے باہر ہوگیا، جبکہ EY Consortium نے تقریباً 119 ملین روپے اور Rebel Group Consortium نے تقریباً 150 ملین روپے کی لاگت ظاہر کی۔بعدازاں EY کو منصوبے کی کنسلٹنسی سے منسلک کیے جانے کے حوالے سے بھی سوالات سامنے آئے۔

منصوبے کے کنسلٹنسی کردار میں موجود EY کے ٹیکنیکل کنسلٹنٹ Exponent Engeneriers کےحوالے سے سب سے اہم سوال مبینہ طور پر سابق وائس چانسلر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی کے بھائی کے ساتھ جوائنٹ وینچر کا ہے۔
اگر یہ تعلق دستاویزی طور پر درست ہے تو یہ معاملہ ممکنہ Conflict of Interest کے تناظر میں مزید وضاحت کا متقاضی ہے۔

سوال یہ ہے کہ جس دور میں منصوبہ شروع ہوا، اسی دوران منصوبے سے وابستہ کنسلٹنسی کمپنی کے ساتھ سابق وائس چانسلر کے قریبی خاندانی تعلق کی صورت میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟

آئی ٹی پارک کے لیے ہاکی گراؤنڈ ختم کرنے کی تجویز نے بھی کئی نئے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ذرائع کے مطابق اس گراؤنڈ کی تعمیر پر سندھ حکومت کی جانب سے 30 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے گئے تھے، جبکہ گراؤنڈ کی آسٹروٹرف ہٹانے کے لیے 19 لاکھ 49 ہزار 523 روپے کا ٹینڈر بھی جاری کیا گیا۔

اب پورے اسٹیڈیم کو ختم کرکے ہاکی گراؤنڈ کو کنونشن ہال کے اوپر "ایلیویٹڈ گراؤنڈ” کی شکل میں منتقل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔یوں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسا کھیل کا منصوبہ جس پر پہلے ہی کروڑوں روپے خرچ ہوچکے ہیں، اسے ختم کرکے دوبارہ تعمیر کرنے پر مزید کتنے کروڑ خرچ ہوں گے؟

آئی ٹی پارک کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر اسد عارفین نے تحقیقات ڈاٹ کوم سے گفتگو میں بتایا کہ ہاکی گراؤنڈ کے مقام پر آئی ٹی پارک سے تقریباً 45 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے اور کویتی کمپنی نے بھی اس منصوبے کی منظوری دی ہے۔تاہم جب ان سے اصل منظور شدہ مقام پر 20 منزلہ عمارت کی ممکنہ لاگت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے تقریباً 20 ارب روپے کا تخمینہ بتایا۔

یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اصل مقام پر منصوبہ تقریباً 20 ارب روپے میں مکمل ہوسکتا ہے تو ہاکی گراؤنڈ پر منتقل کیے جانے والے منصوبے میں 45 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی بنیاد کیا ہے، اور اس اضافی سرمایہ کاری سے جامعہ این ای ڈی اور طلبہ کو کیا براہ راست فائدہ حاصل ہوگا؟

ڈاکٹر اسد عارفین نے منصوبے پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بعض افراد غلط معلومات فراہم کررہے ہیں جس سے منصوبے کے بارے میں سوالات پیدا ہورہے ہیں۔

ہاکی گراؤنڈ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اسے کنونشن ہال کے اوپر منتقل کیا جائے گا، جبکہ گراؤنڈ کے نیچے پارکنگ کی سہولت ہوگی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اصل مقام پر این او سی حاصل ہونے کے باوجود ہاکی گراؤنڈ ہی پر منصوبہ منتقل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی تو انہوں نے کہا کہ منصوبے کی کابینہ سے منظوری ہوچکی ہے اور بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر انہیں اس پر عملدرآمد کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بڑے مقصد کے لیے چھوٹے چھوٹے نقصانات ہوتے ہیں۔مگر اصل سوال یہی ہے کہ یہ "چھوٹے نقصانات” آخر کس کے ہوں گے؟طلبہ کی کھیلوں کی سہولت کے؟ جامعہ کے بجٹ کے؟ سندھ حکومت کے پہلے سے خرچ کیے گئے کروڑوں روپے کے؟ یا ایک ایسے منصوبے کے جس کی فزیبلٹی پانچ سال سے عملی شکل اختیار کرنے کی منتظر ہے؟

این ای ڈی آئی ٹی پارک کے منصوبے میں کویتی سرمایہ کاری، سندھ حکومت کی شراکت، پانچ سالہ تاخیر، 45 لاکھ روپے کا ایرو ناٹیکل سروے، 208 فٹ بلند عمارت کی منظوری، اصل مقام سے ہاکی گراؤنڈ کی طرف منتقلی، فزیبلٹی کی طویل مدت، کنسلٹنسی کمپنی کے تعلقات اور ہاکی اسٹیڈیم پر پہلے سے خرچ کیے گئے کروڑوں روپے،یہ تمام معاملات جامعہ این ای ڈی اور سندھ حکومت سے مکمل وضاحت کے متقاضی ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ منصوبے کی اصل فزیبلٹی، تمام ٹینڈر دستاویزات، کنسلٹنسی معاہدے، این او سی، مقام کی تبدیلی کی وجوہات، نئے ڈیزائن اور مالیاتی تخمینوں کو عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ واضح ہوسکے کہ پانچ سال کی تاخیر کے بعد این ای ڈی کا آئی ٹی پارک واقعی طلبہ کے مستقبل کی ضرورت ہے یا بدلتی ہوئی ترجیحات اور بڑھتی ہوئی لاگت کا ایک اور منصوبہ ہے ؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے