جامعہ کراچی میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی کے لئے تاخیری حربوں کا استعمال کیا جارہا ہے ، شیخ الجامعہ کراچی کی تعیناتی میں کیا وزیر اعلی ہاؤس رکاوٹ ہے یا وہاں موجود اہم شخصیت کے قریبی ساتھی جو اپنی پسند کے وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی سمیت صوبے کی دیگر 8 سے زائد جامعات میں اپنے دست راست وائس چانسلر کی تعیناتی کے لئے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں ۔
سابق شیخ الجامعہ کراچی ڈاکٹر خالد عراقی اور سابق وائس چانسلر جامعہ این ای ڈی انجیرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر سروش حشمت لودھی کے درمیان جاری مبینہ سرد جنگ بھی مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔
جامعہ کراچی اور جامعہ این ای ڈی کے سابق وائس چانسلر کے درمیان نوک جھونک کا آغا 2021 میں اس وقت سے شروع ہوا جب وزیر اعلی ہاؤس کی درخواست پر سابق جامعہ این ای ڈی ڈاکٹر سروش حشمت لودھی کو سینڈیکیٹ کا رکن منتخب کرلیا گیا ۔
یاد رہے کہ سال 2021 -22 میں قومی احتساب بیورو کراچی نے ایک جعلی افسر خالد سولنگی کو گرفتار کیا جس پر الزام تھا کہ وہ نیب کا جعلی افسر بن کر سرکاری افسران یا دفاتر کے سربراہ کو بلیک میل کر کے کروڑوں روپیہ وصول کر چکا ہے ،اس وقت نیب کے ہاتھوں گرفتار ملزم سرکاری افسران کو نیب مقدمات میں پھنسانے یا اس سے بچانے کے نام پر رقم وصول کرتا تھا اور اسی سال جب ڈاکٹر سروش حشمت لودھی جب وائس چانسلر جامعہ این ای ڈی تھے اور جامعہ کراچی کی سینڈیکیٹ کے رکن بھی تھے اسی سال انہوں نے اس ملزم کو بھاری رقم ادا کی جو ملزم کے بیان کے ساتھ سندھ ہائی کورٹ میں دستاویزات موجود ہے اور اس وقت کے معاصر اخبارات میں یہ خبر شائع بھی ہوئی تھی۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ رقم کیا ڈاکٹر سروش حشمت لودھی نے کس دباؤ میں اور کیوں ادا کی کیا ان کے خلاف کوئی خورد برد کی انکوائری تھی یا اس جعلی افسر کے ہاتھ کوئی اسکینڈل لگ گیا تھا تاہم اس معاملے پر انکوائری نہیں ہوسکی کہ یہ رقم کس فنڈ سے ادا کی گئی
یاد رہے کہ 2023 میں جامعہ این ای ڈی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو ایک خط لکھا جس میں جامعہ این ای ڈی اور جامعہ کراچی کے سامنے یونیورسٹی روڈ کی دوسری طرف زمین این ای ڈی کے حوالے کرنے کو کہا گیا ۔
اس خط کے جواب میں زمین کی چھان بین کا عمل شروع ہوا اور دستاویزات سے ثابت ہوا کہ وہ زمین جامعہ کراچی کی ملکیت ہے اور جامعہ کراچی کے اس وقت کے وائس چانسلر خالد عراقی نے یہ زمین این ای ڈی کے حوالے کرنے سے انکار کردیا ۔
یہاں سے سرد جنگ کا آغاز ہوا اور ایک جانب خالد عراقی کو ایکسٹینشن نہیں مل سکی پھر مستقل وائس چانسلر کی تقرری میں رکاوٹ آنے لگی واضح رہے کہ وائس چانسلر کے انتخاب کے لئے تین نام وزیر اعلی ہاؤس پہنچ چکے ہیں تاہم وزیر اعلی کے قریب سمجھے جانے والے اس سمری کو مسترد کرنے پر تلے ہیں اور جامعہ این ای ڈی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد طفیل جوکھیو کے اضافی چارج کو طول دینا چاہتے ہیں ۔
اب سوال یہ ہے کہ جامعہ کراچی میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی پر کس کو اعتراض ہوسکتا ہے کہ آیا اثر و رسوخ والے سابق وائس چانسلر جامعہ کراچی سمیت دیگر جامعات میں بھی اپنی پسند سے وائس چانسلر کی تعیناتی کے خواہاں ہیں یا کچھ زمین بھی جامعہ این ای ڈی کو منتقل کرنا چاہتے ہیں اس سوال کے جواب کے لئے کچھ عرصہ انتظار کرنا ہوگا۔