ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) میں میڈیکل ڈیوائسز کی تشخیص، درجہ بندی، رجسٹریشن، لائسنسنگ اور OEM/OBL انتظامات سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں نے ریگولیٹری نظام کی شفافیت اور قانونی بنیاد پر نئے سوالات کھڑے کردیئے ہیں، جبکہ ذرائع کے مطابق مبینہ بے ضابطگیوں میں ملوث افسران کے کردار اور فیصلوں کی جانچ کے لیے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
میڈیکل ڈیوائس انڈسٹری کا بنیادی اعتراض ریگولیشن کے خلاف نہیں بلکہ ریگولیٹری فیصلوں کے طریقہ کار، مستقل مزاجی، سائنسی بنیاد اور قانونی جواز سے متعلق ہے۔
صنعت کا مؤقف ہے کہ محفوظ اور مؤثر طبی آلات کی نگرانی ناگزیر ہے، تاہم رجسٹریشن یا لائسنسنگ کے عمل میں ہر اضافی شرط، التوا یا درجہ بندی کا فیصلہ واضح قانونی شق، قابلِ شناخت سائنسی کمی یا مریضوں کے تحفظ سے متعلق ٹھوس بنیاد پر ہونا چاہیے۔
تحقیقاتی معاملے کا ایک اہم پہلو میڈیکل ڈیوائسز رولز 2017 کے رول 67 اور شیڈول ایف کے تحت OEM، OBL اور پرائیویٹ لیبل انتظامات سے متعلق ہے۔
بنیادی سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر پاکستان میں صرف ELI یعنی Establishment License for Import رکھنے والا ادارہ کسی بیرونی OEM کے ساتھ ایسے انتظام میں داخل ہوتا ہے جس میں اسے آؤٹ سورسنگ فریم ورک کے تحت معاہد دینے والے کا کردار حاصل ہوجاتا ہے، تو اس حیثیت کے لیے قانونی اور ریگولیٹری اختیار کی مخصوص بنیاد کیا ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ELI اور ELM (Establishment License for Manufacturing) محض دو مختلف اصطلاحات نہیں بلکہ درآمد اور مینوفیکچرنگ سے متعلق مختلف ریگولیٹری حیثیتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ چنانچہ اگر کسی ELI ہولڈر کو رول 67 کے تحت ایسے فرائض دیے جارہے ہوں جو بنیادی طور پر مینوفیکچرنگ آؤٹ سورسنگ کے فریم ورک سے وابستہ ہیں، تو اس کے قانونی جواز کی واضح وضاحت ضروری ہوجاتی ہے۔
التوا خود بے ضابطگی نہیں، اصل سوال التوا کی وجہ ہے
تحقیقات میں ایک اہم پہلو میڈیکل ڈیوائس بورڈ کے سامنے درخواستوں کے بار بار التوا سے متعلق بھی ہوسکتا ہے۔ محض کسی درخواست کا التوا میں جانا خلافِ قانون ہونے کا ثبوت نہیں؛ اگر کسی ڈیوائس کی دستاویزات نامکمل ہوں یا اس کی حفاظت، کارکردگی یا معیار سے متعلق حقیقی سائنسی سوال موجود ہو تو ریگولیٹر کا اضافی معلومات طلب کرنا اور فیصلہ مؤخر کرنا اس کے فرائض میں شامل ہوسکتا ہے۔
تاہم اصل تحقیقاتی سوال یہ ہے کہ کتنی درخواستیں حقیقی سائنسی یا حفاظتی خامیوں کے باعث التوا میں گئیں اور کتنی انتظامی تشریح، دستاویزی فارمیٹ، درجہ بندی کے اختلاف یا ایسے اعتراضات کے باعث طویل عرصے تک زیرِ التوا رہیں جنہیں بروقت حل کیا جاسکتا تھا؟
درجہ بندی میں اختلاف ہو تو سائنسی بنیاد سامنے لانا ہوگی
میڈیکل ڈیوائس کی درجہ بندی بھی معاملے کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ بین الاقوامی ریگولیٹری اصول عموماً ڈیوائس کے مطلوبہ استعمال، خصوصیات اور ممکنہ خطرے کی بنیاد پر درجہ بندی کرتے ہیں۔
لہٰذا اگر مینوفیکچرر کسی قابلِ اطلاق اصول کے تحت ایک مخصوص کلاس تجویز کرتا ہے اور ریگولیٹر اس سے اختلاف کرتا ہے تو ریگولیٹری شفافیت کا تقاضا ہے کہ اختلاف کی بنیاد واضح کی جائے: کون سا درجہ بندی اصول لاگو کیا گیا، ڈیوائس کا مطلوبہ استعمال کیا تصور کیا گیا، کون سی خصوصیت فیصلہ کن بنی، اور نتیجتاً مختلف کلاس مقرر کرنے کی سائنسی و قانونی وجہ کیا تھی؟
یہاں بنیادی اصول واضح ہے کہ مینوفیکچرر من مانی درجہ بندی نہیں کرسکتا، لیکن ریگولیٹر بھی بغیر واضح اصول اور قابلِ فہم سائنسی جواز کے درجہ بندی تبدیل نہیں کرسکتا۔
تحقیق کا ایک اور اہم پہلو پرائیویٹ لیبل اور OEM ماڈل ہے۔ بظاہر مختلف پاکستانی برانڈز ایک ہی بیرونی OEM سے ایک جیسی فزیکل ڈیوائسز حاصل کرسکتے ہیں۔ تجارتی اعتبار سے مختلف ڈسٹریبیوٹرز یا برانڈز کا ہونا بذاتِ خود غیر قانونی نہیں، تاہم ریگولیٹری نظام کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان تمام مصنوعات کے پیچھے موجود اصل OEM، مینوفیکچرنگ سائٹ، ڈیوائس ماڈل اور متعلقہ رجسٹریشنز کے درمیان تعلق واضح طور پر محفوظ ہے؟
اگر ایک ہی فزیکل ڈیوائس پانچ مختلف پاکستانی برانڈز کے نام سے مارکیٹ میں موجود ہو تو ریگولیٹر کے پاس یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ کسی خرابی، عالمی recall یا مریضوں کی حفاظت سے متعلق مسئلے کی صورت میں چند لمحوں میں تمام متعلقہ برانڈز، رجسٹریشن نمبرز، درآمد کنندگان، بیچز اور تقسیم شدہ مقداروں تک پہنچ سکے۔یعنی پرائیویٹ لیبل ڈیوائس کی تجارتی شناخت تبدیل کرسکتا ہے، اصل مینوفیکچرنگ ماخذ کی ریگولیٹری شناخت ختم نہیں ہونی چاہیے۔
تحقیقات کا اصل امتحان
اب اصل امتحان یہ ہے کہ تحقیقات محض افسران کے فیصلوں کی انتظامی جانچ تک محدود رہتی ہیں یا ہر متنازع فیصلے کے پیچھے موجود قانونی شق، سائنسی بنیاد، بورڈ کا فیصلہ، پالیسی یا مجاز ریگولیٹری اختیار بھی سامنے لایا جاتا ہے۔
اگر کسی مخصوص OEM/OBL ماڈل کے لیے ELI ہولڈر کو رول 67 کے معاہد دینے والے کے طور پر تسلیم کرنے کی کوئی قانونی یا پالیسی بنیاد موجود ہے تو اسے واضح کیا جانا چاہیے۔ اگر ایسی کوئی مخصوص قانونی بنیاد موجود نہیں تو پھر اس طریقہ کار کا ازسرِنو جائزہ ناگزیر ہوگا۔
بالآخر سوال صرف یہ نہیں کہ ڈریپ نے کیا فیصلہ کیا؛ اصل سوال یہ ہے کہ فیصلہ کس قانون، کس اصول، کس سائنسی دلیل اور کس ریگولیٹری اختیار کے تحت کیا گیا۔