پاکستان کسٹمز انفورسمنٹ کی نااہلی سے کسٹم ہاؤس کراچی کی سیکورٹی پر سوالیہ نشان لگ گیا ،
ہائی سیکورٹی زون میں کسٹم ہاؤس کراچی کے اندر اسٹور روم سے 20 کمپیوٹر چوری ہوگئے ،چوری کلکٹریٹ آف کسٹم اپریزمنٹ ایسٹ کے اسٹور روم سے ہوئی ہے۔اہریزمنٹ ایسٹ ہیڈ کوارٹر نے تحقیقات کی سفارش بھی کسٹم انفورسمنٹ سے کی ہے۔واردات میں اسٹیٹ وئیر ہاؤس سے سامان چوری کرنے والے گینگ کے استعمال ہونے کے شواہد ملے ہیں۔
کسٹم انفورسمنٹ کے سیکورٹی اہلکار کسٹم ہاؤس کا دروازہ کھلا چھوڑ کر سیکورٹی روم میں بیٹھے رہے ۔کسٹم ہاؤس کراچی کی سیکورٹی کی زمہ داری کسٹم انفورسمنٹ کے پاس ہے
کسٹمز ہاؤس کراچی میں سرکاری ملکیت کے 20 کمپیوٹر سیٹس اسٹور روم سے غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر کسٹمز اپریزیمنٹ ایسٹ کلیکٹریٹ نے معاملہ فوری تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کے لیے کسٹمز انفورسمنٹ کلیکٹریٹ کے حوالے کردیا ہے۔
29 اگست 2026 کو ڈپٹی کلیکٹر ہیڈکوارٹرز، کسٹمز اپریزیمنٹ ایسٹ کی جانب سے ڈپٹی کلیکٹر ہیڈکوارٹرز، کسٹمز انفورسمنٹ کو بھجوائی گئی رپورٹ میں واقعے کی فوری تحقیقات اور مناسب کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔
دستاویز کے مطابق بورڈ کی جانب سے کسٹمز اپریزیمنٹ ایسٹ کلیکٹریٹ کو فراہم کیے گئے 20 کمپیوٹر سیٹس کسٹمز ہاؤس کراچی کے مخصوص اسٹور روم سے غائب پائے گئے، جبکہ مذکورہ اسٹور روم ایک ایسے اہلکار کی تحویل میں تھا جسے سامان کی حفاظت اور انتظام کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق 25 اگست 2026 کو اسٹور روم کھول کر جسمانی تصدیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ 20 کمپیوٹر سیٹس وہاں موجود نہیں تھے، تاہم ان کے خالی کارٹن اور پیکنگ وہیں پڑی تھی۔غائب ہونے والے سامان میں سات آل اِن ون کمپیوٹر سیٹس 13 تھری اِن ون کمپیوٹر سیٹس شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق اسٹور روم کی مکمل تلاشی کے باوجود غائب کمپیوٹرز برآمد نہیں ہوسکے، جس کے بعد معاملہ ایڈیشنل کلیکٹر ہیڈکوارٹرز کے علم میں لایا گیا۔ بعد ازاں ابتدائی انکوائری شروع کرکے متعلقہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کے جائزے کے دوران مبینہ طور پر سامنے آیا کہ 13 اگست 2026 کو رات تقریباً 10 بج کر 33 منٹ پر دو افراد الگ الگ موٹر سائیکلوں پر کسٹمز ہاؤس کے مرکزی گیٹ سے باہر جاتے ہوئے نظر آئے، جبکہ ان کے پاس کمپیوٹر یونٹس موجود تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسی وقت عارف شاہ، سپاہی (PC نمبر 1485)، جو کسٹمز انفورسمنٹ کلیکٹریٹ کے اہلکار اور مبینہ طور پر فشری میں تعینات ہیں، مرکزی گیٹ پر موجود تھے اور کمپیوٹر لے جانے والے افراد کے ساتھ بظاہر بات چیت کرتے ہوئے دکھائی دیے۔
رپورٹ کے مطابق عارف شاہ کی عین اس وقت مرکزی گیٹ پر موجودگی اور مذکورہ افراد سے مبینہ رابطہ ایک اہم معاملہ ہے، جس کا فوری اور مخصوص انداز میں جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ متعلقہ رات کی شفٹ کے دوران سپاہی لئیق احمد (PC نمبر 1589)، سپاہی عمران (PC نمبر 1706) اور سپاہی سید جنید علی شاہ (PC نمبر دستیاب نہیں) مرکزی گیٹ پر گارڈ ڈیوٹی کے لیے تعینات تھے۔
تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق تینوں اہلکار مرکزی گیٹ پر اپنی مقررہ پوزیشن پر موجود رہنے کے بجائے گارڈ روم کے اندر بیٹھے ہوئے نظر آئے، جبکہ مرکزی گیٹ کا ایک حصہ کھلا ہوا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جس وقت کمپیوٹر کا سامان مرکزی دروازے سے باہر لے جایا جا رہا تھا، اس وقت گارڈز کا اپنی ڈیوٹی کی جگہ سے غیر حاضر ہونا بادی النظر میں سکیورٹی اور گارڈ ڈیوٹی کی انجام دہی میں سنگین غفلت ظاہر کرتا ہے، جس پر باقاعدہ انکوائری کے بعد ذمہ داری کا تعین ضروری ہے۔
دستاویز میں یہ بھی درج ہے کہ اطلاعات کے مطابق عارف شاہ، فشری میں تعیناتی کے باوجود، اکثر کسٹمز ہاؤس کراچی میں موجود رہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کمپیوٹر یونٹس کی منتقلی کے عین وقت ان کی مرکزی گیٹ پر موجودگی اور سامان لے جانے والے افراد سے بظاہر رابطہ ایسا معاملہ ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
چنانچہ ان کی ڈیوٹی اسٹیٹس، نقل و حرکت اور واقعے میں ممکنہ کردار کی تصدیق کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں معاملہ باضابطہ طور پر فوری تحقیقات اور مناسب کارروائی کے لیے کسٹمز انفورسمنٹ کلیکٹریٹ کے حوالے کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انکوائری میں بالخصوص کمپیوٹر یونٹس لے جاتے ہوئے نظر آنے والے افراد کی شناخت کی جائے۔عارف شاہ کے ممکنہ کردار کا تعین کیا جائے۔رات کی ڈیوٹی پر مامور تینوں سپاہیوں کے طرزِ عمل اور ذمہ داری کا جائزہ لیا جائے۔متعلقہ سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ اور محفوظ شدہ حالت میں برقرار رکھی جائے۔
واقعے سے متعلق تمام ریکارڈ بطور ثبوت محفوظ کیے جائیں۔
دستاویز میں مزید قرار دیا گیا ہے کہ معاملہ محفوظ کسٹمز حدود سے سرکاری املاک نکالے جانے اور مرکزی گیٹ پر بادی النظر میں سکیورٹی کی خلاف ورزی سے متعلق ہے، لہٰذا اسے ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے اور قابلِ اطلاق قواعد کے تحت جس شخص کی ذمہ داری ثابت ہو، اس کے خلاف کارروائی شروع کی جائے۔
رپورٹ کے مطابق تحقیقات کے نتائج سے متعلق کسٹمز اپریزیمنٹ ایسٹ کلیکٹریٹ کو بھی جلد آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔