Screenshot_2026_0830_215436

ایف آئی اے کراچی کے ہائی پروفائل کیس میں مرکزی کردار کو گرفتاری سے بچانے کے لئے ایسی پٹیشن کا استعمال کیا گیا جس میں اس انکوائری یا سرکل کا نام یا انکوائری نمبر بھی موجود نہیں تھا ۔اتوار کو ڈیوٹی مجسٹریٹ سے ضمانت ملنے کے بعد پیر کو یونٹی فوڈز کے سی ای او فرخ امین گوڈیل نے سندھ ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت حاصل کر لی ۔

ایف آئی اے کراچی کے تفتیشی افسر عمائد ارشد بٹ ماضی میں انڈر انوائسنگ کے اہم کردار اویس احمد ڈائری کو بھی سہولت دے چکے ہیں جس میں ملزم کو گرفتار کیا گیا پھر اس وقت کے ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی نعمان صدیقی کو آگاہ کیا گیا کہ ملزم کی والدہ اسپتال میں ہیں اور پھر ملزم کو رہا کیا گیا لیکن اس ملزم اویس احمد ڈائری کی گرفتاری یا رہائی کا زکر تک روزنامچے میں نہیں کیا گیا اسی کیس کے بعد اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمائد ارشد بٹ اور اس وقت کے کارپوریٹ کرائم سرکل کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز مہر کے درمیان مبینہ مالی معاملات پر تنازعہ شروع ہوا جو بعد ازاں شدت اختیار کرگیا ۔

ایف آئی اے کراچی میں تفتیشی افسر کی نااہلی یا مبینہ ملی بھگت سے ہائی پروفائل کیس کے مرکزی کردار فرخ امین گوڈیل کو گرفتاری سے محفوظ رکھنے کی سہولت کاری میں قانونی حربے استعمال کرنے کی کوشش پر کیا ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور تحقیقات کروائیں گے،کیا ایسا ہائی پروفائل کیس جس میں تفتیشی افسر کی نااہلی سامنے آجائے اس مقدمے کے اندراج سے قبل تفتیشی افسر کا تبادلہ ہونے کے باوجود کیا اس کا تفتیشی افسر تبدیل ہوگا ۔

سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں 2019 سے شروع ہونے والی انکوائری میں 2026 میں ایف آئی اے نے تفتیش کا آغاز کیا اور یہ کارروائی ایف آئی اے کے اینٹی منی لانڈرنگ سیل میں ہوئی اور اسی وجہ سے یونٹی فوڈز کے سی ای او فرخ امین گوڈیل،محمد عارف اور ایاز امان کی جانب سے آئینی درخواست نمبر 2300/2026 دائر کی گئی جس پر عدالت نے 16 اپریل 2026 کو حکم دیا کہ کوئی بھی ملزم کو ہراساں نا کرئے اور قانونی کارروائی جاری رکھی جائے ۔

آئینی درخواست میں عدالت سے استدعا ہوئی کہ 2019 سے سیکورٹی ایکسچینج کمیشن پاکستان کے 7 سال میں دائر ریفرنس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی اور اب ایف آئی اے اینٹی منی لانڈرنگ سیل کے زریعے تحقیقات میں مسلسل تنگ کیا جارہا ہے ۔جس پر عدالت نے ایف آئی اے کو ہدایت دیں کہ ملزم کو ہراساں کرنے سے گریز کیا جائے ۔

دوسری جانب ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی میں 25 اگست 2026 کو انکوائری نمبر 47/2026 درج ہوئی جس میں سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ریفرنس کا حوالہ دیا گیا اور 29 اگست کو اس انکوائری کو مقدمے میں تبدیل کردیا گیا جس کے بعد اتوار 30 اگست کو یونٹی فوڈز کے سی ای او فرخ امین گوڈیل کو دیگر دو ملزمان کے ساتھ ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا اور فرخ امین گوڈیل کے وکلاء نے ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے 16 اپریل 2026 کے حکم کا حوالہ دیا یہاں ایف آئی اے کے تفتیشی افسر اور لیگل ٹیم نے ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے خاموشی اختیار کر رکھی یا آگاہ ہی نہیں کیا کہ جس آئینی درخواست کا زکر کیا جارہا ہے اس میں اس انکوائری کا زکر موجود نہیں جس پر مقدمہ درج ہوا ہے ملزم کو ڈیوٹی مجسٹریٹ نے ایک لاکھ مچلکے پر ضمانت دی ،فرخ امین گوڈیل نے پیر کو اپنے وکلاء کے زریعے سندھ ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت حاصل کی ۔

واضح رہے کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کی جانب سے دائر کی گئی ایک شکایت کے نتیجے میں سال 2019 سے زیرِ سماعت مقدمے کے معاملے پر تین درخواست گزاروں نے سندھ ہائی کورٹ کراچی سے رجوع کیا تھا جہاں عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 11 اگست 2026 تک درخواست گزاروں کے خلاف کسی بھی قسم کی جبری کارروائی نہ کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

دستاویزات کے مطابق درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ کاروباری و پیشہ ورانہ شعبے سے وابستہ افراد ہیں اور ان کے خلاف SECP کی شکایت پر اسپیشل کورٹ (آفنسز اِن بینکس)، کراچی میں Spl. Case No. 17/2019 زیرِ سماعت ہے۔

درخواست میں SECP اور FIA کے اقدامات کو غیر آئینی، غیر قانونی، بلااختیار اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ سے فوری مداخلت کی استدعا کی گئی۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ متعلقہ اداروں کو ان کے خلاف کسی بھی غیر قانونی یا جبری کارروائی سے روکا جائے اور معاملے کو قانون کے مطابق دیکھا جائے۔

درخواست میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل، سندھ زون کراچی کے ڈائریکٹر اور AML/CFT سرکل کراچی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو بھی متعلقہ فریق بنایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ وائٹ کالر کرائم کے اس طرح کی نوعیت کے ماضی میں ایف آئی اے یا نیب میں ہونے والے مقدمات یا ریفرنس میں نامزد ملزمان اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے رہے ہیں لیکن تفتیشی افسران عدالت میں واضح موقف کے ساتھ ملزمان کی گرفتاری یا ریمانڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے تھے اگر اس طرح کے کیسسز میں ماضی میں بھی مبینہ لین دین کا معاملہ اسی وقت کھل کے سامنے آتا رہا ہے جب سہولت کاری فراہم کرنے والے تفتیشی افسر سے مقدمہ کسی دوسرے افسر کو منتقل ہوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے