ایف آئی اے کراچی نے میتھائل برومائیڈ کی درآمد میں جعل سازی کے زریعے بھارتی کمپنی کو 3 برس میں 3 ارب سے زائد کا فائدہ پہچانے والے ڈپارٹمنٹ اف پلانٹ پروٹیکشن کے افسران ،پرائیوٹ کمپنی کے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے ،حیرت انگیز طور پر ڈپارٹمنٹ آف پلانت پروٹیکشن میں اس اسکیندل کے گزشتہ 15 برس سے مرکزی کردار جس کا نام وزیر اعظم انسپکشن ٹیم نے ملزمان کی فہرست میں پہلے نمبر پر رکھا اس کردار کا ایف آئی اے کے مقدمے میں نامزد نہیں کیا گیا ،مقدمے میں نامزد تمام سرکاری افسران گندم اور چاول اسکینڈل میں بھی درج مقدمات اور انکوائریون میں زیر تفتیش ہیں تاہم اتنے بڑے اسکینڈلز میں نامزد ہونے کے باوجود ان کو مبینہ طور پر رعایت دی گئی اور ان کا نام ای سی ایل یا اسٹاپ لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا جبکہ میتھائل برومائیڈ اسکینڈل میں ایف آئی اے اور نیب کو گزشتہ برس اگست 2025 میں ہی ان ملزمان کے بارے میں آگاہ کردیا گیا تھا کہ ان کے خلاف تحقیقات کی جائیں پھر بھی نامزد ملزمان کو سفری لحاظ سے پابند کرنے کی زحمت نہیں کی گئی جس کے بعد 13 جنوری 2026 کو وزیر اعظم انسپکشن ٹیم نے 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ تیار کر کے وزارت فودز سیکورٹی اینڈ ریسرچ اور ایف آئی اے کو بھجوائی تاہم اس رپورٹ کے آنے سے قبل 5 جنوری 2026 کو ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں انکوائری نمب 01/2026 درج کر لی گئی تھی اور اس انکوائری میں شفاف تحقیقات کے لئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر رباب قاضی کو نامزد کیا گیا ۔
ایف آئی اے میں اس انکوائری کے رجسٹرڈ ہونے اور وزیر اعظم انسپکشن ٹیم کی مفصل رپورٹ آنے کے بعد ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے ایف آئی اے میں ہی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن ونگ ہیڈ کواٹر کی سربراہی میں جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی اور اس ٹیم میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ساوتھ ،ڈپٹی ڈائریکٹر کارپوریٹ کرائم سرکل اور اس انکوائری کی تفتیشی افسر کو بھئی اس کا حصہ بنایا گیا ۔
ایف آئی اے میں میتھائل برومائیڈ کے اس اسکینڈل پر تحقیقات کے لئے ایف آئی اے کارپورٹ کرائم سرکل میں گزشتہ دفس برس کے دوران آنے والی متعدد شکایات پر درج انکوائریوں کا ریکارڈ اکٹھا کیا گیا کیونکہ ماضی میں درج ہونے والی انکوائریوں میں سوائے اعلیٰ سطح پر گٹھ جوڑ اور مبینہ لین دین کے معاملے کے سوا کچھ نہیں ہوسکا اور یہ ہی وجہ رہی کہ رواں سال درج ہونے والی انکوائری میں اس مقدمے کے اہم کردار مقدمہ درج ہونے سے قبل تک ایف آئی اے کے افسران سے ملاقاتیں بھی کرتے رہے اور ان سے رابطے میں بھی رہے ان ہی رابطوں اور درج انکوائری پر شروع ہونے والی تحقیقات کے درمیان اس اسکینڈل کے مرکزی کرداروں نے اپنینجی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کا ایک بڑا حصہ پاکستان سے باہر منتقل کردیا۔
دوسری جانب ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں 20 اگست 2026 کو میتھائل برومائیڈ اسکینڈل پر اسسٹنٹ ڈائریکتر رباب قاضی نے مقدمہ درج کر لیا تاہم اس مقدمے میں کسی بھی ملزم کی گرفتاری کو لازمی نہیں سمجھا گیا ۔ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کے درج مقدمے میں میتھائل برومائیڈ کی درآمد میں مبینہ جعل سازی، درآمدی ملک کا نام غلط ظاہر کرنے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزام میں محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے افسران و اہلکاروں سمیت نجی کمپنیوں کے مالکان اور نمائندوں کو نامزد کیا گیا۔
ایف آئی اے کے مقدمہ الزام نمبر 14/26 کے مطابق مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 409، 420، 467، 468، 471 اور 109 بمعہ دفعہ 34، انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) اور کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 156(1) کے تحت درج کیا گیا ہے۔
مقدمے میں بتایا گیا ہے کہ FIA اینٹی کرپشن سرکل کراچی کی انکوائری نمبر 01/2026 مکمل ہونے کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا کہ M/s Pest Management Services (Pvt.) Ltd (PMS)، M/s Combine Trading اور M/s ARK Services نے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے متعلقہ افسران و اہلکاروں کے ساتھ مبینہ ملی بھگت سے میتھائل برومائیڈ کی درآمد کے لیے جعلی اور من گھڑت دستاویزات استعمال کرکے Import Permission Certificates حاصل کیے۔
مقدمے کی دستاویزات میں میتھائل برومائیڈ کے مینوفیکچرر اور سپلائر کے طور پر M/s Intech Organics Australia Pty. Ltd., Sydney, Australia کو ظاہر کیا گیا، جبکہ تحقیقاتی ریکارڈ کے مطابق اصل میں بیشتر کھیپیں بھارت سے تیار ہوکر متحدہ عرب امارات کے راستے پاکستان پہنچیں۔
تحقیقاتی دستاویز کے مطابق PMS نے ابتدا میں 2016 میں میتھائل برومائیڈ 98 فیصد MB اور 2 فیصد Chloropicrin کی درآمد کے لیے اجازت حاصل کی تھی، جس میں بھارتی کمپنی M/s IntechPharma Pvt. Ltd.، گوا، بھارت کو سپلائر ظاہر کیا گیا تھا۔
بعد ازاں سپلائر کا نام تبدیل کرکے M/s Intech Organics Ltd. کردیا گیا، تاہم پتہ وہی بھارتی رکھا گیا۔ 2021 میں بھارت سے درآمد پر پابندی اور نامکمل فارم-16 کی بنیاد پر اجازت کی تجدید کی درخواست مسترد ہونے کے بعد نئی درخواست میں پہلے بھارتی کمپنی کو ہی مینوفیکچرر ظاہر کیا گیا، تاہم ساتھ ہی پہلی مرتبہ ایک مبینہ آسٹریلوی کمپنی کو پرنسپل کے طور پر متعارف کرایا گیا۔
ایف آئی اے کی تحقیقات میں چار متواتر درخواستوں کا موازنہ بھی کیا گیا۔دستاویز کے مطابق ابتدائی درخواست میں مینوفیکچرر IntechPharma Pvt. Ltd. بھارت تھا۔ بعد کی درخواست میں نام Intech Organics Ltd. بھارت کردیا گیا، جبکہ اگلے مرحلے میں پہلی مرتبہ Intech Organics Pty. Ltd. آسٹریلیا کو مینوفیکچرر ظاہر کیا گیا۔
تاہم فارمولیشن کے مینوفیکچرر کے طور پر بھارتی کمپنی ہی کا نام برقرار رہا اور درخواستوں کے ساتھ فراہم کردہ مطالعات بھی مسلسل بھارتی کمپنی M/s IntechPharma Pvt. Ltd. کے نام سے اسپانسر کیے جاتے رہے۔
ایف آئی اے کے مطابق اس تبدیلی سے یہ تاثر سامنے آیا کہ ذرائع اور مینوفیکچرر کا ملک بھارت سے آسٹریلیا منتقل کیا گیا، جبکہ فارمولیشن اور متعلقہ مطالعات کے حوالے سے بھارتی کمپنی ہی موجود رہی۔
دستاویز کے مطابق پاکستان قونصلیٹ جنرل سڈنی اور آسٹریلوی حکام کے ذریعے کرائی گئی تصدیق میں یہ بات سامنے آئی کہ Intech Organics Australia کے نام سے کوئی ادارہ مبینہ طور پر دیے گئے آسٹریلوی پتے پر موجود نہیں تھا۔
ایف آئی اے کے مطابق درخواستوں میں بطور ثبوت استعمال کیا گیا Good Laboratory Practice سرٹیفکیٹ بھی دراصل ایک بھارتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ نکلا۔تحقیقات کے دوران کسٹمز ریکارڈ سے بھی یہ بات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا کہ بیشتر کھیپیں آسٹریلیا کے بجائے متحدہ عرب امارات کی جبل علی پورٹ سے پاکستان پہنچی تھیں۔
مقدمے کی دستاویزات کے مطابق مذکورہ اجازت ناموں کی بنیاد پر M/s Pest Management Services نے تقریباً 630.5 میٹرک ٹن میتھائل برومائیڈ درآمد کیا۔
مزید بتایا گیا کہ 31 مارچ 2022 سے 10 مئی 2025 کے دوران مجموعی طور پر 50 کھیپوں میں تقریباً 3 ارب 30 کروڑ 90 لاکھ روپے مالیت کا سامان درآمد کیا گیا، جس میں مسلسل آسٹریلیا کو ملکِ منشأ ظاہر کیا جاتا رہا۔
تاہم 2025 میں محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کی جانب سے Import Permission Certificate منسوخ کیے جانے کے بعد درآمد شدہ سلنڈرز کے فزیکل معائنے کے دوران 32 سلنڈرز پر "Made in India” درج پایا گیا۔
مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ درآمدی ملک کا نام چھپانے کی غلط بیانی سامنے آنے کے باوجود، جن سلنڈرز پر بھارت کا نشان موجود تھا، انہیں ضبط کرنے کے بجائے کسٹمز حکام نے مبینہ طور پر دوبارہ برآمد کرنے کی اجازت دی جبکہ باقی کھیپیں بھی مبینہ طور پر کمپنی کے فائدے میں جاری کردی گئیں۔
ایف آئی اے کے مطابق یہ اقدام Import Policy Order، SRO 927(I)/2019 مورخہ 9 اگست 2019 اور کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعات 16 اور 32 کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔تحقیقاتی ادارے نے واضح کیا ہے کہ متعلقہ کسٹمز افسران کا کردار بھی تحقیقات کے دوران طے کیا جائے گا۔
ایف آئی آر میں جن سرکاری افسران و اہلکاروں کو ابتدائی طور پر نامزد کیا گیا ہے، ان میں محمد طارق خان سابق ڈائریکٹر جنرل، محکمہ پلانٹ پروٹیکشن
ڈاکٹر اللہ دتہ عابد ڈائریکٹر رجسٹریشن،امتیاز حسین ڈپٹی ڈائریکٹر رجسٹریشن،سید مزمل حسین اینٹومولوجسٹ،عمارہ سینئر کیمسٹ،زاکمہ خان ڈپٹی ڈائریکٹر رجسٹریشن،سویرا اینٹومولوجسٹ،حمزہ علی اینٹومولوجسٹ،سہیل شہزاد سابق ڈائریکٹر، محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے نام شامل ہیں۔
نجی شعبے سے Pest Management Services کے چیف ایگزیکٹو فُرقان احمد، ڈائریکٹر/مجاز نمائندہ عُزیر احمد، ڈائریکٹر سید علی حیدر، Combine Trading کے پروپرائٹر شاہ محمد سعد ضیاء اور ARK Services کے پروپرائٹر امیر راشد خان بھی نامزد کیے گئے ہیں۔
ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کی Evaluation and Registration Committee نے PMS کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات کی مبینہ طور پر مناسب جانچ پڑتال کے بغیر منظوری کی سفارش کی۔
کمیٹی میں اینٹامولوجسٹ سید مزمل حسین، سینئر کیمسٹ عمارہ، ڈپٹی ڈائریکٹر ،رجسٹریشن امتیاز حسین اور ڈائریکٹر رجسٹریشن ڈاکٹر اللہ دتہ عابد شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق اس سفارش کے بعد اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل محمد طارق خان نے 21 مارچ 2022 کو PMS کے حق میں Import Permission Certificate جاری کرنے کی منظوری دی، جس پر بعد ازاں متعلقہ افسر نے دستخط کیے۔
اسی طرح 12 اکتوبر 2023 کو Combine Trading اور ARK Services کے حق میں بھی Import Permission Certificates جاری کیے گئے۔
ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ درخواستوں میں جمع کرائی گئی دستاویزات کی لازمی جانچ نہیں کی گئی۔مینوفیکچرر سے متعلق دستاویزات میں بظاہر نامکمل اور باہمی متضاد معلومات موجود تھیں۔
وفاقی Pesticide Testing and Reference Laboratory سے لیبارٹری ٹیسٹنگ یا مکمل تجزیہ نہیں کرایا گیا۔مبینہ غیر ملکی مینوفیکچرر کے حقیقی وجود اور Bona Fides کی تصدیق نہیں کی گئی۔بعض دستاویزات کو ان خامیوں کے باوجود قبول کیا گیا۔
ایف آئی اے نے ان اقدامات کو محض غفلت کے بجائے مبینہ طور پر منظم، بدنیتی پر مبنی اور بدعنوان طریقہ کار قرار دیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے سابق ڈائریکٹر سہیل شہزاد نے 2017 میں ڈپٹی ڈائریکٹر قرنطینہ، DPP کراچی کی حیثیت سے Import Permit اور Special Import Permit کے پچھلے حصے پر اضافی شرائط کا مسودہ تیار کیا تھا، جس میں مختلف fumigants، بشمول میتھائل برومائیڈ، کے استعمال سے متعلق شرائط شامل تھیں۔
ایف آئی اے کے مطابق اس مسودے کی منظوری سے متعلق کوئی فائل نمبر، تاریخ شدہ منظوری، منٹس یا شریک دستخط کنندگان کا ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا، جس کی بنیاد پر تحقیقاتی ادارے نے ان کے کردار کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا ہے۔
ایف آئی اے نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ صرف محکمہ پلانٹ پروٹیکشن تک محدود نہیں رہے گا۔کسٹمز حکام، پری شپمنٹ انسپیکشن ایجنسی، کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس M/s KSK Enterprises اور M/s S.D. Enterprises، JS Bank، Allied Bank اور Mashreq Bank کے متعلقہ افسران و اہلکاروں کا کردار بھی اس امر کی بنیاد پر طے کیا جائے گا کہ آیا وہ مذکورہ کھیپوں کی پروسیسنگ، تصدیق، معائنہ، ادائیگی یا کلیئرنس میں کسی طور ملوث تھے یا نہیں۔ایف آئی اے کے اس مقدمے میں ایف آئی اے کے ان افسران کو بھی رعایت دی گئی جو ماضی میں میتھائل برومائیڈ کی انکوائریوں میں تاخیری حربے استعمال کرتے رہے اور ڈپارٹمنٹ پلانٹ پروٹیکشن کے ملوث افسران کے ساتھ مختلف کاروبار میں شراکت دار بھی ہیں ۔
ایف آئی اے دستاویز کے مطابق مجاز اتھارٹی سے منظوری حاصل ہونے کے بعد مقدمہ درج کرکے باقاعدہ تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔