کوآپریٹو سوسائٹیز میں غیر قانونی تعمیرات کی منظوری دینے اور اس کی سرپرستی کرنے والے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں تعینات افسران کے خلاف نیب ،ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن میں شکایات کے باوجود کارروائی نہیں ہوسکی ۔
کورنگی میں لکھنؤ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے مکینوں نے غیر قانونی تعمیرات پر تحقیقاتی اداروں کی جانب سے عدم کارروائی کے بعد احتجاجی کیمپ لگا دیا ۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر ریحان الائچی ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر احسن ادریس ،انسپکٹر افتخار اور انسپکٹر کاشف پر مشتمل ان افسران کا گینگ لکھنؤ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی،ہی اینڈ ٹی ،کورنگی کے رہائشی اور صنعتی علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات میں منظم گروہ کی طرح کارروائی کررہے ہیں اور 2007 سے ایک ہی ضلع میں تعینات ہیں ۔
اس گروہ کے خلاف لکھنو کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی سمیت دیگر علاقہ مکینوں نے درجنوں شکایات سندھ حکومت نے،نیب ،اینٹی کرپشن حکام کو کی ہیں متعدد شکایات پر مقدمات یا ریفرنس بھی بنے لیکن مبینہ طور پر ریحان الائچی یا انسپکٹر کاشف کا نام سامنے نہیں آیا رواں برس اینٹی کرپشن ایسٹ میں درج ہونے والے مقدمے میں تفتیشی حکام نے انسپکٹر کاشف کو متعدد نوٹس ارسال کئے لیکن کسی نوٹس پر پیش نہیں ہوئے اور اینٹی کرپشن نے مقدمہ درج کیا تو اس سے انسپکٹر کاشف کا نام نکال لیا گیا ۔
لکھنو سوسائٹی میں غیر قانونی تعمیرات میں ملوث سوسائٹی کے ملازم اکرم بہاری اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مخصوص افسران کا گینگ نے حالیہ کارروائی میں 390 گز کے پلاٹ پر غیر قانونی تعمیرات شروع کیں جس پر سوسائٹی کے مکینوں اور سوسائٹی عہدیداران کا جھگڑا ہوا جس کے بعد سوسائٹی مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سوسائٹی کے موجودہ عہدیداران جعل سازی کے زریعے منتخب ہوئے اور انہیں علاقے کے صوبائی رکن اسمبلی کی سرپرستی حاصل ہے ۔

واضح رہے کہ ریحان الائچی سرکاری اداروں کے حال ہی میں پکڑے جانے والے دو جعلی افسران محمد طلحہ یوسفی ولد محمد یونس جو سابق بینک کا ملازم اور نیپا چورنگی کے قریب کا رہائشی ہے اور سید علی حقانی ولد سید قادر حقانی جس کا اصل نام محمد احمد ولد عبدالقادر عرف احمد مدنی کے ساتھ مضبوط نیٹ ورک رہا ہے اور ریحان الائچی صوبائی اداروں کے مختلف محکموں کے افسران کو اسی نیٹ ورک کے زریعے بلیک میل کرنے میں مبینہ طور پر ملوث ہے۔
لکھنؤ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں رفاہی پلاٹوں، پارکوں اور کاٹیج انڈسٹری کے لیے مختص اراضی پر مبینہ غیر قانونی تعمیرات، رہائشی پلاٹوں کی جعلی اور دوہری فائلوں کے اجرا اور سرکاری منظوریوں کے باوجود مرکزی کرداروں کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ مکینوں کا دعویٰ ہے کہ مسلسل تحفظ ملنے سے قبضہ مافیا کمزور ہونے کے بجائے مزید طاقتور ہوتا چلا گیا ہے۔
لکھنؤ سوسائٹی میں رہائشی پلاٹوں پر مبینہ طور پر غیرقانونی تعمیرات اور پورشنز کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق 90 گز کے رہائشی پلاٹوں پر فلیٹس اور متعدد پورشنز تعمیر کرکے فروخت کیے جا رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایک ہی رہائشی پلاٹ پر مبینہ طور پر آٹھ پورشنز تعمیر کیے گئے، جن میں سے ہر پورشن تقریباً دو کروڑ روپے میں فروخت کیا گیا، جبکہ مجموعی مالیت تقریباً 16 کروڑ روپے بنتی ہے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے 2012 میں اس معاملے پر ریفرنس دائر کیا تھا، جس کا فیصلہ 2020 میں سامنے آیا اور سوسائٹی کے چھ عہدیداران کو سزائیں سنائی گئیں۔ تاہم متاثرین اور مکینوں کے مطابق اس پورے معاملے میں صرف سوسائٹی عہدیداران کو ذمہ دار ٹھہرانے سے اصل کردار پردے کے پیچھے ہی رہے۔
بعد ازاں 2023 میں صوبائی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو دی گئی شکایات کی بنیاد پر مارچ 2026 میں مقدمہ درج کیا گیا، جس میں 2016 کے بعد سامنے آنے والی نئی بے ضابطگیوں اور مبینہ جعل سازی کی تفصیلات شامل کی گئیں۔
شکایت کنندگان کے مطابق اس مقدمے میں 30 سے زائد پلاٹوں کی نشاندہی کی گئی جہاں مبینہ طور پر غیر قانونی تعمیرات، ایک ہی پلاٹ کی متعدد فائلیں اور رفاہی پلاٹوں پر کمرشل و رہائشی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
ذرائع کے مطابق 2012 کے نیب ریفرنس میں ان سرکاری افسران کو شامل نہیں کیا گیا جو مبینہ طور پر جعلی این او سیز اور تعمیراتی منظوریوں کے اجرا میں کردار ادا کرتے رہے، جبکہ اینٹی کرپشن کی حالیہ کارروائی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے بعض افسران کو نامزد کیے جانے کے باوجود مبینہ طور پر کئی اہم کردار اب بھی تحقیقات کی زد میں نہیں آسکے۔
لکھنؤ سوسائٹی سے متعلق سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست نمبر 2260/2012 دائر کی گئی تھی، جس میں پارک کی زمین پر عمارت کی تعمیر کے خلاف درخواست دی گئی تھی۔ عدالت عالیہ نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے نیب کراچی کو ہدایات جاری کی تھیں، جس کے نتیجے میں دو چیئرمین، دو سیکریٹریز اور دو صدور کے خلاف کارروائی عمل میں آئی۔
تاہم سوسائٹی کے مکین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر غیر قانونی تعمیرات، رفاہی پلاٹوں کی تبدیلی اور جعلی منظوریوں کا سلسلہ برسوں جاری رہا تو پھر صرف چھ عہدیداران ہی کیوں ذمہ دار قرار پائے؟ ان کے مطابق رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز کے متعلقہ افسران اور اس وقت کے متعلقہ ایس بی سی اے حکام کے کردار کا تعین بھی ضروری تھا۔
شکایات کے مطابق اینٹی کرپشن مقدمے میں ایس بی سی اے کورنگی ٹاؤن کے بعض افسران اور اہلکاروں سمیت مختلف افراد اور مبینہ لینڈ گریبرز کو نامزد کیا گیا، تاہم ایک ایسے افسر کا نام پھر بھی مقدمے کا حصہ نہیں بن سکا جس کے بارے میں مکین برسوں سے سوالات اٹھاتے آرہے ہیں۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق ایس بی سی اے کے انسپکٹر کاشف گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے کورنگی ٹاؤن میں تعینات ہیں اور انہیں 2012 کے نیب ریفرنس کے دوران بھی متعدد شکایات میں ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں اینٹی کرپشن حکام کو دی جانے والی تحریری درخواستوں میں بھی انہیں مبینہ طور پر ایک اہم کردار کے طور پر پیش کیا گیا، تاہم انہیں نہ تو نیب تحقیقات کے دوران طلب کیا گیا اور نہ ہی اینٹی کرپشن کی کارروائی میں شامل کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ افسر کے خلاف لکھنؤ سوسائٹی سے ہٹ کر بھی مختلف نوعیت کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، تاہم اب تک کسی ادارے کی جانب سے ان کے خلاف باضابطہ کارروائی عمل میں نہیں آسکی۔
لکھنؤ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں مبینہ بے ضابطگیوں کا سلسلہ 2010 کے بعد سے مسلسل جاری ہے اور متاثرہ مکینوں کا مؤقف ہے کہ جب تک منظوری، نگرانی اور نفاذ کے نظام میں شامل تمام ذمہ دار عناصر کا یکساں احتساب نہیں ہوگا، اس وقت تک غیر قانونی تعمیرات، رفاہی اراضی پر قبضوں اور جعلی فائلوں کے کاروبار کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ملوث افسران ریحان الائچی،انسپکٹر کاشف،احسن ادریس سے ان کا موقف جاننے کے لئے متعدد بار رابطہ کیا اور سوال نامہ بھیجا گیا تاہم انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔