ایف آئی اے کراچی نے 44 ارب سے زائد فراڈ کے ہائی پروفائل کیس میں تحقیقات کے لئے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے ،ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل کے ڈپٹی ڈائریکٹر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے نگران ہوں گے ،ایف آئی اے کراچی کے تفتیشی افسران نے اس کیس کے مرکزی کردار فرخ امین گوڈیل کے شریک ملزمان کی جوڈیشل مجسٹریٹ سے ضمانت منسوخی کروادی ہے ،کیا ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ہائی پروفائل کیس میں مرکزی کردار کو عدالتی کارروائی میں رعایت فراہم کرنے کے معاملے پر تحقیقات کرسکتے ہیں ؟.اس انکوائری کے دوران حال ہی میں فرخ امین گوڈیل نے سپر اسٹور بھی خرید لئے ہیں؟۔ہائی پروفائل کیس کے مرکزی کردار کی عدم گرفتاری پر افسران کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوگئی،مرکزی ملزم کی گرفتاری کا 10 ستمبر کو موقع ضائع ہونے کے بعد تفتیشی افسر لاہور روانہ ہوگئے۔
ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی میں درج مقدمہ نمبر 15/2026میں گرفتار مرکزی کردار فرخ امین گوڈیل کو اتوار کے دن ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے ضمانت ملنے کے بعد یہ ہائی پروفائل کیس سوالات کی زد میں آگیا ہے ۔
تحقیقات ڈاٹ کام کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کو سوالات ارسال کئے گئے جس میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس ہائی پروفائل کیس کی شفاف تحقیقات کے لئے تفتیشی افسر کو تبدیل کیا جائے گا؟جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جائے گی ؟ہائی پروفائل کیس کے مرکزی کردار کو جو سہولت فراہم ہوئی اس کی نشاندہی 10 ستمبر کے عدالتی حکم میں موجود ہے کیا اس پر کوئی تحقیقات کی جائیں گی ؟ان سوالات کے جوابات دینے سے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے گریز کیا ۔
دوسری جانب 16 ستمبر کو ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی کے دستخط سے ایک نوٹیفکیشن جاری ہوا جس میں اس ہائی پروفائل کیس کی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی ہے ۔
اس ٹیم کی نگرانی ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل فہد خواجہ کریں گے جبکہ اس کیس کے تفتیشی افسر اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمائد ارشد بٹ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر نبیل محمود،اسسٹنٹ ڈائریکٹر شیراز عمر ،سب انسپکٹر زیشان شیخ ،سب انسپکٹر محمد شفیع ،سب انسپکٹر راحت خان اور اے ایس آئی ثناء اللہ ھلیو شامل ہیں۔
ایف آئی اے کراچی نے اس ہائی پروفائل کیس کے مرکزی کردار کی جانب سے عدالت میں مستقل سہولت حاصل کرنے کے فیصلے پر اپیل دائر کر رہے ہیں ،تاہم ایف آئی اے کراچی کے تفتیشی افسر کی جانب سے مرکزی کردار کو گرفتار کرنے کے بجائے شریک ملزمان کی ضمانت منسوخی پر ساری توجہ مرکوز رکھی ہے جبکہ ہائی پروفائل کیس کا مرکزی کردار فرخ امین گوڈیل کی گرفتاری کا موقع 10 ستمبر کو سندھ ہائی کورٹ میں ملا تھا جسے مبینہ طور پر ایف آئی اے حکام نے ضائع کردیا ۔زرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے پر بھی فرخ امین گوڈیل کے وکلاء نے حکم امتناعی حاصل کرلیا ہے اور دوسری جانب ایف آئی اے کے تفتیشی افسر دستاویزات کی چھان بین اور مرکزی کردار کی گرفتاری کی کوششوں میں لاہور چلے گئے ہیں اور تاحال اس ہائی پروفائل کیس میں انہیں کامیابی نہیں ملی ہے ۔