Screenshot_2025_1215_194025

وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کراچی محض تین ماہ کے دوران دوسرے بڑے اور ہائی پروفائل مقدمے میں عدالتی سبکی کا شکار ہو گیا۔ ایویکی پراپرٹی ٹرسٹ بورڈ (ETPB) کی شکایت پر عجلت اور جلد بازی میں کراچی کاٹن ایکسچینج (KCE) اور کراچی میونسپل کارپوریشن (KMC) کے خلاف درج کیا گیا مقدمہ سندھ ہائی کورٹ میں عملی طور پر کمزور ثابت ہوا، جہاں ایف آئی اے کے تفتیشی افسران کوئی ایسا ٹھوس، قابلِ اعتماد اور قانونی ثبوت پیش نہ کر سکے جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ تاریخی کاٹن ایکسچینج بلڈنگ ایویکی پراپرٹی کے زمرے میں آتی ہے۔

عدالت میں دائر دو علیحدہ علیحدہ آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی کہ ایف آئی اے کی جانب سے کی جانے والی کارروائیاں محض الزامات، دباؤ اور انتظامی طاقت کے استعمال تک محدود تھیں، جبکہ قانونی بنیاد اور شواہد کا فقدان نمایاں رہا۔ عدالتی ریمارکس میں عملی طور پر ایف آئی اے کو عمارت کا “چوکیدار” بنا دیا گیا، جو ادارے کے کردار پر ایک سخت سوالیہ نشان ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کاٹن ایکسچینج (KCE) کے عہدیداروں کو سیل شدہ کاٹن ایکسچینج بلڈنگ تک فوری رسائی کی اجازت دے دی، جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو واضح ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ عمارت میں داخلے یا روزمرہ امور میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کرے۔

یہ احکامات کراچی کاٹن ایکسچینج کی جانب سے دائر آئینی درخواست پر جاری کیے گئے، جس میں ایف آئی اے کے جاری کردہ بے دخلی نوٹسز، عمارت کو سیل کرنے کے احکامات اور قبضے سے متعلق کال اَپ نوٹسز کو چیلنج کیا گیا تھا۔

ایف آئی اے نے کراچی کاٹن ایکسچینج ایسوسی ایشن، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) اور ایویکی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (ETPB) کے عہدیداروں کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے دہائیوں سے کراچی میں واقع ایویکی پراپرٹی پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے، اسے لیز پر دے کر اور دیگر ذرائع سے کروڑوں روپے کے مالی فوائد حاصل کیے گئے۔

تاہم سندھ ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران ایف آئی اے کے تفتیشی افسران ان الزامات کے حق میں کوئی قابلِ قبول دستاویزی، قانونی یا تاریخی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے، جس کے باعث ادارے کی کارروائیوں کی قانونی حیثیت مشکوک ہو گئی۔

درخواست گزار کے وکیل شمائل سکندر نے عدالت کو بتایا کہ کاٹن ایکسچینج کی عمارت 22 جولائی 1936 کو رجسٹرڈ کنوینس ڈیڈ کے ذریعے قانونی طور پر درخواست گزار کو لیز پر دی گئی تھی، جس کی مدت سال 2081 تک مؤثر ہے۔

وکیل کے مطابق18ویں آئینی ترمیم کے بعد ایویکی پراپرٹی مکمل طور پر صوبائی معاملہ بن چکی ہے
سندھ ایویکی ایکٹ کے نفاذ کے بعد ایویکی ٹرسٹ پراپرٹیز ایکٹ 1975 صوبہ سندھ میں عملاً منسوخ ہو چکا ہے
اس کے نتیجے میں وفاقی حکومت اور ایویکی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کا دائرہ اختیار ختم ہو جاتا ہے
انہوں نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان (انتظامِ ایویکی پراپرٹی) ایکٹ 1957 کے تحت یکم جنوری 1957 کے بعد کسی بھی جائیداد کو ایویکی قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ زیرِ بحث عمارت قیامِ پاکستان سے قبل سے مسلسل زیرِ استعمال ہے، لہٰذا اس پر ایویکی یا ٹرسٹ پراپرٹی کا اطلاق ممکن نہیں۔وکیل کے مطابق اس نوعیت کے تنازع کا دائرہ اختیار سول کورٹ کے پاس ہے، نہ کہ ایف آئی اے کے پاس۔

وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی جانب سے کی جانے والی کارروائیاں بغیر کسی پیشگی نوٹس اور سماعت کے کی گئیں، جو بدنیتی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور آئینی ضمانتوں کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔
ان کے مطابق ایف آئی اے کی مداخلت نہ صرف دائرہ اختیار سے تجاوز ہے بلکہ اس کا وفاقی معاملات سے کوئی تعلق بھی نہیں بنتا، جس کے نتیجے میں کاٹن ٹریڈنگ سیکٹر کو شدید نقصان اور کاروباری سرگرمیوں میں سنگین خلل پیدا ہوا۔

دلائل سننے کے بعد جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ریمارکس دیے کہ یہ جانچنا ضروری ہے کہ آیا ایف آئی اے اور ایویکی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کے اقدامات دائرہ اختیار سے تجاوز، آئینی ضمانتوں اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں۔

عدالت نے وفاقی اور صوبائی قانون افسران کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک کاٹن ایکسچینج کے عہدیداروں، ملازمین، اراکین، کرایہ داروں اور عمارت میں موجود دیگر قابضین کے خلاف کسی بھی قسم کی جبری کارروائی سے روک دیا۔
عدالت نے کاٹن ایکسچینج کے عہدیداروں کو عمارت تک رسائی کی اجازت دیتے ہوئے ایف آئی اے کو کسی بھی رکاوٹ سے باز رہنے کا حکم دیا، جبکہ تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر عدالت کی معاونت کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔

واضح رہے کہ کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت کی ملکیت سے متعلق قانونی جنگ اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) نے بھی سندھ ہائی کورٹ سے ایف آئی اے اور ایویکی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کے خلاف فوجداری کارروائی اور بے دخلی کے احکامات کے حوالے سے حکمِ امتناع حاصل کر لیا۔

قانونی اور حکومتی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھنے لگا ہے کہ تین ماہ قبل سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے خلاف درج مقدمہ محض 36 گھنٹوں میں ختم کرنے اور اب کاٹن ایکسچینج کیس میں عدالتی ریمارکس کے بعد:
کیا ڈی جی ایف آئی اے کراچی زون کی مبینہ نااہلی، جلد بازی اور اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال پر تحقیقات کا حکم دیں گے یا نہیں؟