Screenshot_2026_0305_152434

تحرير :رفعت سعيد

"طيارہ ہائی جيکنگ ميں سزائے موت صرف ناصر بلوچ کو کيوں ہوئی "؟؟؟؟

"ناصر بلوچ پيپلز پارٹی سے کيوں دل برداشتہ تھا” ؟؟؟
"ملک ايوب اعوان اور سائيں سيف الللہ خالد پھانسی سے کيسے بچے "؟؟؟

"ناصر بلوچ نے سزائے موت سے قبل کيا گلا کيا "؟؟

"پانچ مارچ 85 19 کو علی صبح پھانسی گھاٹ کا منظر کيا تھا "؟؟

پانچ مارچ 1985 آج ہی کے دن ،1981 ميں پی آئی اے کے طيارے کےاغوا ميں سلام اللہ ٹيپو کی سہولت کاری کرنے والے ، پيپلز پارٹی کے جيالے اور پاکستان اسٹيل کے ڈرائيور ناصر بلوچ کو سزائے موت ،120 سال قبل تعمير ہونے والی کراچی سينٹرل جيل ميں دی گئی تھی،

آج کی تحرير لکھنے کا خيال مجھے ، اس دور کی تاريخ کو کيمرے ميں محفوظ کرنے والے سينئر فوٹو گرافر زاھد حسين کی کھينچی ہوئی تصاوير فيس بک پر ديکھ کر آيا ، ويلڈن زاھد بھائی ،

الذلفقار کے ہاتھوں پی آئی اے کے طيارے کی طويل ترين ہائی جيکنگ کی کہانی شروع ہوتی ہے ، 26 فروری 1981 سے ، جب سلام اللہ ٹيپو نے جامعہ کراچی ميں اسلامی جمعيت طلبہ کے رکن حافظ اسلم کو فائرنگ کرکے ھلاک کر ديا تھا۔

الذلفقار کی دہشت گردی ، طيارے کی ہائی جيکنگ کے حوالے سے کئی کہانياں سوشل ميڈيا آپ روزنہ سنتے ہونگے ، ان کہانيوں اصل کردار انکا پس منظر اور پيش منظر بيان کرنے والوں کی لاعلمی کی وجہ سے مسنگ ہوتا ہے ،
سلام اللہ ٹيپو جامعہ کراچی ميں فائرنگ کے بعد روپوش ہوگيا ، اس وقت کے دو مشہور پوليس افسر ، ايس پی گلشن اقبال الطاف علی خاں مرحوم ، اور ڈی ايس پی جمشيد کواٹر وسيم احمد ، جو بعد ميں کراچی پوليس چيف اور ڈی جی ايف آئی اے مقرر ہوئے ، سرگرمی سے ملزمان کو تلاش کر رہے تھے، سلام اللہ ٹیپو ناظم آباد کا رہائشی تھا، اور ڈی ايس پی وسيم احمد بھی ناظم آباد کے رہائشی تھے ، اسی لئے انہيں ہائی جيکرز کی تلاش کے کام پر معمور رکھا گيا تھا،

ٹيپو نے اپنی مفروری کے دوران پيپلز پارٹی کے ايک معروف رہنما کے مشورے پر ، پی ايس ايف کے دو جيالوں ، ارشد علی ، اور ناصر جمال کو ساتھ ملايا دونوں اسکے فرمابردار تھے،

اس دوران پيپلز پارٹی کے ايک رہنما نے جو مرتضیٰ بھٹو سے رابطے ميں تھے، ہائی جيکرز کو با حفاظت اسلحہ پہنچانے کے لئے ، پنجابی پختون اتحاد پی پی آئی کے قائد ملک سرور اعوان مرحوم کے بيٹے ملک ايوب اعوان ، سائيں سيف اللہ خالد ، اور اسٹيل ملز کی بس کے ڈرائيور ناصر بلوچ سے ملوايا،

پیپلز پارٹی کے جيالے اس دور ميں دہشت گردی کے حوالے سے دليل ديتے ہيں کہ ، انہوں نے جنرل ضیاالحق کے مارشل لا کے خلاف اور جمہوریت کے لیے جدہ جہد کی ،ایک سیاسی کارکن کی حيثيت سے فوجی عدالتوں کا سامنا کيا ، اور کوڑے کھائے

ناصر بلوچ اسکی زندہ مثال ہے پاکستان اسٹیل ملز کے ڈرائیورکا جُرم صرف یہ تھا کہ اس نے 26 فروری 1981 کو پی آئی اے کے جہاز کو اغوا کرنے والے سلام اللہ ٹیپو اور اسکے دو ساتھیوں ناصر جمال اور ارشد کو اسٹیل ملز کی بس میں ایئر پورٹ ڈراپ کیا تھا-ٹیپو اور اس کے ساتھی تو جہاز اغوا کر کے کابل اور پھر دمشق چلے گئے اور پاکستانی جیلوں میں قید پارٹی کے 54 افراد کو بھی رہا کرانے میں کامیاب ہو گئے ،

پيپلز پارٹی کے لئے پوليس افسر وسيم احمد کا نرم گوشہ اسلئے بھی تھا کہ ذولفقار علی بھٹو مرحوم کے دور ميں کراچی کے دو نوجوان ، وسيم احمد ، اور ممتاز برنی مرحوم کو يہ اعزاز حاصل ہے کہ انہيں بھٹو صاحب نے براہراست پوليس ميں ڈی ايس پی بھرتی کياتھا،

وسيم احمد ہی وہ افسر ہيں جو ہائی جيکرز کے مطالبہ پر جيلوں سے رہا ہونے والے 54 افراد کو دمشق بھجوانے کے لئے جيل کے قيديوں کی وين ليکر کراچی ائیر پورٹ پہنچے تھے ،

 

 

مگر ناصر بلوچ ، ملک ايوب اعوان ، اور سائيں سيف اللہ خالد کو بعد ازاں گرفتار کر لیا گیا ، اور ان پر جیل میں قائم فوجی عدالت میں مقدمہ چلتا رہا۔فوجی عدالت کے افسران تينوں کو سزائے موت دينا چہاتے تھے مگر فيصلہ اسکے بر عکس آيا ، ميں ان دنوں کراچی سينٹرل جيل جايا کرتا تھا ، اس وقت کے سپرنڈنٹ جيل قاضی ممتاز ، ميرے جانے والے تھے ، ميری معلومات کے مطابق پھانسی والی رات ناصر بلوچ بہت پرسکون تھا بعد ميں اس وقت کے ڈپٹی سپرنڈنٹ نے بتايا کہ ، جب رات گئے وہ ناصر بلوچ کی کال کوٹھری پر گئے تو اس نے صرف اتنا کہا "ميں غريب تھا "مجھے پھانسی کی سزا سنا دی گئی "مگر میرے ساتھی ، سائيں سيف اللہ اور ملک ايوب مالدار تھے اسلئے بچ گئے "کہا جاتا ہے کہ ملک سرور اعوان مرحوم نے اور سيف اللہ خالد کے خاندان نے جوڑ توڑ کرکے اپنے اپنے بيٹوں کو پھانسی کے پھندے سے بچا ليا ، جبکہ ايک غريب ڈرائيوار ناصر بلوچ کو 5 مارچ 1985 کو کراچی سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی، پھانسی گھاٹ ميں گہری خاموشی تھی، جيل کے ديگر قيدی کال کوٹھری سے ، پھانسی گھاٹ تک ناصر بلوچ کو نيم اندھيرے ميں سفید کپڑوں ميں جاتا ہوا ديکھ رہے تھے ، جيل کے ڈاکٹر اور ڈيوٹی مجسٹريٹ نے ناصر کا تختہ دار پر کھڑے ہوئے معائنہ کيا اور چند لحموں ميں ڈپٹی سپرنڈنٹ راجہ فيض احمد مرحوم کے اشارے پر
جلاد نے سو سال پرانے تختہ دار کا ليور کھينچ ديا ، آدھے گھنٹے تک لٹکے رہنے کے بعد موت کی تصديق پر لاش پھانسی گھاٹ کے بيرونی گيٹ سے ورثہ کے حوالے کردی گئی،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے