کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے ماتحت آنے والے اسپتالوں میں ادویات کی خریداری کے ٹینڈر میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی سنگین مالی بے ضابطگیوں اور قواعد کی کھلی خلاف ورزیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز ڈیپارٹمنٹ نے سندھ پبلک پروکیورمنٹ رولز (SPPRA) کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر باقاعدہ مسابقتی ٹینڈر کے ایک ایسی کمپنی کو ادویات کی سپلائی کا ٹھیکہ دے دیا جس کے پاس ڈرگ لائسنس بھی موجود نہیں۔
ذرائع کے مطابق میسرز Rana Enterprises نامی کمپنی کو ادویات کی سپلائی کا مبینہ ٹھیکہ دیا گیا ہے، جبکہ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ یہ کمپنی دراصل کے ایم سی کے شعبہ فنانس اور میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز کے شعبہ فنانس میں تعینات افسران کی مبینہ بے نامی یا ڈمی کمپنی ہے۔

مزید انکشاف ہوا ہے کہ کے ایم سی اسپتالوں میں ادویات کی سپلائی کا مبینہ ٹھیکہ حاصل کرنے والی کمپنی نے تاحال مکمل سپلائی بھی نہیں کی، تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسے ادائیگی بھی کردی گئی ہے، جس سے پورے معاملے کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
اس حوالے سے سینئر ڈائریکٹر میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز مہوش مٹھائی سے کمپنی کو ٹھیکہ فراہم کرنے سے متعلق رابطے کی کوشش کی گئی تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی جواب نہیں دیا۔

دوسری جانب کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے محکمہ میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز کی جانب سے مختلف طبی اداروں کے لیے ادویات کی خریداری کے ٹینڈر میں مبینہ بے ضابطگیوں اور سندھ پبلک پروکیورمنٹ رولز (SPPRA) کی خلاف ورزی کا معاملہ باضابطہ طور پر اعلیٰ حکام کے نوٹس میں لایا گیا ہے اور اس سلسلے میں باقاعدہ شکایت بھی ارسال کردی گئی ہے۔
یہ شکایت چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ، میٹروپولیٹن کمشنر کے ایم سی، منیجنگ ڈائریکٹر سندھ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (SPPRA) اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ساؤتھ زون کراچی کو ارسال کی گئی ہے، جس میں کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز کی جانب سے ادویات کی خریداری کے ٹینڈر کے اجرا اور منظوری میں مبینہ سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
شکایت کے متن کے مطابق مذکورہ ٹینڈر مبینہ طور پر صرف ایک کمپنی M/s Rana Enterprises کو دے دیا گیا، حالانکہ مذکورہ فرم کے پاس درکار ڈرگ لائسنس موجود نہیں اور نہ ہی اس کے پاس اس نوعیت کی خریداری کے لیے متعلقہ تجربہ ہے۔ ایسی کمپنی کو ٹینڈر دینا جو لازمی لائسنس اور تجربے کی شرائط پوری نہ کرتی ہو، اہلیت، شفافیت اور میرٹ پر مبنی خریداری کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا جارہا ہے۔
شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ متعلقہ ٹینڈر کو SPPRA اور کے ایم سی کی سرکاری ویب سائٹس پر اپ لوڈ یا شائع نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ سندھ پبلک پروکیورمنٹ ایکٹ اور قواعد کے تحت تمام سرکاری ٹینڈرز کی آن لائن اشاعت لازمی قرار دی گئی ہے۔ ٹینڈر کی عدم اشاعت نہ صرف شفافیت کے تقاضوں کے منافی ہے بلکہ اس سے دیگر اہل کمپنیوں کو مسابقتی عمل میں حصہ لینے کے مساوی مواقع بھی نہیں مل سکے۔
شکایت کنندہ کے مطابق اس عمل سے شفافیت، منصفانہ مقابلے اور قانون کی پاسداری پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں قومی خزانے کو مالی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔
درخواست میں متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ معاملے کی فوری اور جامع تحقیقات کرائی جائیں، ٹینڈر کے پورے عمل کا جائزہ لیا جائے اور اگر قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہو تو اسے کالعدم قرار دیا جائے۔ ساتھ ہی ذمہ دار افسران یا افراد کے خلاف قانون کے مطابق قانونی اور تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
شکایت میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ آئندہ سرکاری خریداری کے تمام معاملات میں SPPRA قواعد کی سختی سے پابندی کو یقینی بنایا جائے، خصوصاً ٹینڈرز کی لازمی آن لائن اشاعت اور کھلے مقابلے کے اصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ شفافیت، احتساب اور قانون کی بالادستی برقرار رہ سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ کمپنی کو رواں ماہ تک کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ماتحت آنے والے مختلف اسپتالوں کے لیے علیحدہ علیحدہ ادویات سپلائی کرنا تھیں جن میں ہومیو پیتھک اسپتال کے ایم سی، کارڈیک ایمرجنسی سینٹر شاہ فیصل کالونی، سوبھراج میٹرنٹی اسپتال، گدزر آباد اسپتال، سوبھراج اسپتال، لانڈھی میڈیکل کمپلیکس، لیپروسی اسپتال اور سوبھراج اسپتال شامل ہیں۔
اس ضمن میں ایک بار پھر سینئر ڈائریکٹر میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز مہوش مٹھائی سے مؤقف لینے کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم انہوں نے جواب نہیں دیا۔
دوسری جانب M/s Rana Enterprises کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مبینہ طور پر کے ایم سی کے فنانس اور میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز کے فنانس ڈپارٹمنٹ کے افسران کی ڈمی کمپنی ہے۔ اس حوالے سے شعبہ فنانس کے افسر ندیم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ کمپنی کو جانتے ہیں لیکن ان کا اس کمپنی سے کوئی تعلق نہیں۔
ندیم کا کہنا تھا کہ اگر سوالات پوچھے جائیں تو وہ وضاحت دے سکتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس کمپنی کے پاس ڈرگ لائسنس نہیں ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کمپنی کو پیراسیٹامول سمیت دیگر ادویات کی سپلائی کا ٹھیکہ ملا ہے اور اس کے لیے ڈرگ لائسنس ہونا ضروری نہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مذکورہ کمپنی کو پہلی مرتبہ اسپتالوں میں سپلائی کا ٹینڈر ملا ہے، اس سے قبل یہ کمپنی کے ایم سی کے اسٹور میں سپلائی کا کام کرتی رہی ہے۔ ان کے مطابق کمپنی نے اسپتالوں میں ادویات کی سپلائی کردی ہے تاہم انہیں اس بات کا علم نہیں کہ کمپنی کو ادائیگی ہوچکی ہے یا نہیں۔