Screenshot_2026_0307_192910

بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے قریبی ساتھی وائس چیف ایگزیکٹو بحریہ ٹاؤن کرنل ریٹائرڈ خلیل الرحمن کو اسلام آباد میں ایڈیشنل سیشن جج ویسٹ نے 10 برس قید,ڈھائی کروڑ روپے جرمانے اور جائیداد ضبط کرنے کی سزا سنادی ہے ۔

مالیاتی جرائم کے خلاف کارروائی میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر اسلام آباد کی عدالت نے کرنل (ر) خلیل الرحمٰن، وائس چیف ایگزیکٹو بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کے قریبی ساتھی کو منی لانڈرنگ کے ایک بڑے مقدمے میں مجرم قرار دے دیا ہے۔ یہ مقدمہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل اسلام آباد کی جانب سے تفتیش کیا گیا تھا۔

یہ مقدمہ نمبر 19/2025 کے تحت انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی دفعات 3 اور 4 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد معزز عدالت نے 07 مارچ 2026 کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو منی لانڈرنگ کے جرم میں قصوروار قرار دیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم تقریباً 1.6 ارب روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث پایا گیا، جس کے لیے رقوم کو مختلف مالیاتی ذرائع اور تیسرے فریق کے ذریعے منتقل کر کے ان کی اصل حیثیت کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزم نے پروسیڈز آف کرائم کو چھپانے کے لیے باقاعدہ طور پر مالیاتی لین دین کی تہہ در تہہ (Layering) کی۔

عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ملزم کو 10 سال قیدِ بامشقت،25 ملین روپے جرمانہ،منی لانڈرنگ سے حاصل شدہ جائیداد/اثاثوں کی ضبطگی کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ مقدمہ ایف آئی اے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل اسلام آباد نے تفتیش کیا جس میں مالیاتی شواہد، دستاویزی ریکارڈ اور بینکنگ ٹرانزیکشنز کے ذریعے جرم کو ثابت کیا گیا۔

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ منی لانڈرنگ، مالیاتی دھوکہ دہی اور غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رکھی جائیں گی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق سزا کے نفاذ اور اثاثوں کی ضبطگی سے متعلق مزید قانونی کارروائی قانون کے مطابق جاری رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے