شہری کے دو بینک اکاؤنٹس ایک سال سے بلاجواز منجمد رکھنے کے معاملے نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) اور متعلقہ بینک حکام کے کردار کی چھان بین کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔


ذرائع کے مطابق متاثرہ شہری نے اپنے اکاؤنٹس کی مسلسل بندش، قانونی وضاحت نہ ملنے اور بحالی کے عمل میں مبینہ غیر قانونی مطالبات کے خلاف وفاقی وزارت داخلہ کے ذریعے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے سے رجوع کیا تھا۔

شکایت موصول ہونے پر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے انکوائری نمبر 112/2026 درج کر کے فوری کارروائی شروع کر دی۔
شکایت کنندہ کے مطابق اس کے دو بینک اکاؤنٹس گزشتہ ایک سال سے بند ہیں، مگر نہ بینک حکام نے تحریری طور پر وجوہات بتائیں اور نہ ہی این سی سی آئی اے نے کوئی واضح قانونی حکم یا شفاف وضاحت فراہم کی۔
درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اکاؤنٹس کی بحالی کے دوران مبینہ طور پر غیر قانونی نوعیت کے مطالبات سامنے آئے۔ بعد ازاں متعلقہ افسران کے تبادلوں کے بعد معاملہ مزید الجھ گیا اور شہری کو مسلسل مختلف دفاتر کے چکر لگانے پڑے۔
ایف آئی اے نے متعلقہ بینکوں سے درج ذیل معلومات طلب کی ہیں کہ اکاؤنٹس کس قانونی بنیاد پر منجمد کیے گئے؟،یہ اقدام کس ادارے یا افسر کی ہدایت پر کیا گیا؟،کیا اس سلسلے میں کوئی تحریری حکم موجود ہے؟اگر ہاں، تو اس کی مصدقہ نقول فراہم کی جائیں۔
ساتھ ہی این سی سی آئی اے سے بھی تمام متعلقہ نوٹسز، انکوائری ریکارڈ اور قانونی دستاویزات طلب کی گئی ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ اکاؤنٹس کی بندش قانون کے مطابق تھی یا نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے یا این سی سی آئی اے کی کسی بھی ابتدائی انکوائری یا نوٹس پر بینک فوری طور پر اکاؤنٹس منجمد کر دیتے ہیں۔ تاہم جب متعلقہ شہری کلیئر ہو جاتا ہے تو اکاؤنٹس کی بحالی ایک طویل، پیچیدہ اور اعصاب شکن عمل بن جاتا ہے۔
متاثرین کا الزام ہے کہ بعض کیسز میں متعلقہ اداروں اور بینکوں کے بعض اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے رشوت کے عوض اکاؤنٹس بحال کیے جاتے ہیں، جس سے شہریوں کو شدید ذہنی اذیت اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی جانب سے فوری اور منظم انداز میں ریکارڈ طلب کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس انکوائری سے نہ صرف اس مخصوص کیس کے حقائق سامنے آنے کی توقع ہے بلکہ بلاجواز اکاؤنٹس منجمد کرنے اور بحالی میں مبینہ کرپشن کے معاملات بھی بے نقاب ہو سکتے ہیں۔